تازہ ترین

لاک ڈائون دریافتیں

ویران زمین پر یونانی ادویات کی کاشت کا کامیاب تجربہ

تاریخ    8 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


حکیم محمد شیراز
وادئ کشمیر میں جہاں راقم کا کاشانہ ہے، بالکل مقابل ایک زمین خالی پڑی ہوئی تھی۔کشمیر میں زمینوں کو احاطہ دینے کامعمول ہے۔یہاں احاطہ کے اندر زمینوں کا زیادہ ترحصہ باغبانی کے لیے وقف ہوتا ہے۔تھوڑی سی جگہ مکان کے لیے وقف ہوتی ہے۔اس زمین کا حال بھی کچھ یہی تھا۔کچھ حصہ پر مکان بنا ہوا ، باقی حصہ خالی تھا۔گو زمین آس پاس مکانات سے گھری ہوئی ہے مگرمذکورہ مکان رہائشی نہ ہونے نیز زمین کی نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے کھنڈرکا نظارہ پیش کر رہا تھا اور زمین پر قد آدم زہریلی و کانٹے دار گھاس اگی ہوئی تھی جسے یہاں بچھو گھاس کہتے ہیں جو انسان کومس کر جائے تو مقام گزیدہ پر کافی دیر تک جلن اور چبھن کا احساس ہوتا رہتا ہے۔جب کبھی راقم اپنے کمرے کے روشن دان سے اس مکان کی طرف نگاہ ڈالتا تو وہاں سے سائیں سائیں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔اس ہولناک منظر سے آنکھیں اکتا گئی تھیںاور گل و بلبل کے لیے ترسنے لگی تھیں۔ 
دل میں آیا کہ کیوں نہ لاک ڈاوئون میں اس زمین کو تختہ مشق بنایا جائے اور طب یونانی سے متعلق ادویا ت کی یہاں کاشت کی جائے۔الحمدللہ ! مکان مالک سے اجازت لی جو انہوں نے بخوشی دی اور اللہ کا نام لے کر کدال اور درانتی سنبھالی اور کام میں لگ گیا۔
 زندگی کے بازار میںجنس مقاصد کی بہت سی جستجوئیں کی تھیں اب یہ راقم کے لیے نئی جستجو تھی گویا اپنی کھوئی ہوئی متاع ڈھونڈ رہا تھا۔مفردات سے وابستگی تو پہلے ہی سے تھی مگر زندگی کی مصروفیات نے کبھی اتنا وقت نہ دیا کہ میں خود ان کی کاشت کرتا جو کہ میرا شوق تھا۔وادی میں راقم کے قیام کو اب چار سال ہو چکے ہیں لیکن مذکورہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا تھا۔اب باغبانی کا مشغلہ اختیار کرنے کا خیال دل میں آیا کہ مشغلہ ،مشغلہ ہوتا ہے اور اصحاب ِ صورت اور اصحاب معنیٰ ، دونوں کے لیے سامان بہم پہنچاتا ہے۔[۱]   ؎
 بہ بو اصحاب معنیٰ را بہ رنگ اصحاب ِصورت را 
اس  ویرانے میں رنگ و بو کی تعمیر کا سامان شروع ہوگیا 
 دل کے ویرانے میں بھی ہو جائے دم بھر چاندنی 
اس کارخانہ رنگ و بو کے ہر گوشہ میں وجود کی پیدائش اور جامۂ ہستی کی آرائش کے لیے دو باتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک یہ کہ بیج درست ہو:  ؎
 گر جاں بد ہد  سنگِ سیہ لعل نہ گردد
باطنیت ِ اصلی چہ کند، بد گہر افتاد![۱]
دوسری یہ کہ زمین مستعد ہو۔
جوہر طینیت ِآدم  زخمیر دگر ست
تو توقع زگل ِ کوزہ گراں می داری![۱]
چنانچہ یہاں بھی سب سے پہلے انہی دو باتوں کی فکر کی گئی۔بیج کے لیے زکورہ کراسنگ کی ایگریکلچرل نر سری سے رابطہ کیا گیا۔لیکن زمین کی درستگی کا کا م اتنا آسان نہ تھا۔احاطہ کی پوری زمین اصل میں کھنڈر نما مکان کے تعمیری اجزاء، اینٹ اور پتھر کا ملبہ تھی جو شاید دوران تعمیر اس زمین کا دفینہ بن گئے۔زرا کھودئیے اور پتھر کے بڑے بڑے ٹکڑے ،چونے، ریت کا برادہ ہر جگہ سے نکلنے لگتا ہے۔یوں تو کشمیر کی زمین بڑی زرخیز ہے ، مگر میرے حصہ میں یہ بنجرزمین آئی وہ بھی مستعار۔اللہ پاک کا شکر گذار ہوں کہ تعیش و آرام کے اس دور میں بھی اس نے مشقت سے وافر حصہ دیا  جو کہ راقم کے لیے نعمت کبریٰ ہے۔نا چار تختوں کی داغ بیل ڈال کر دو دو تین فٹ زمین کھودی گئی۔ایک ہفتہ اسی میں گذر گیا۔پھاوڑا، کھرپی اور کدال  ہاتھ میں لیے کوہ کندن  اور کاہ بر آور دن میں لگے رہے۔  ؎
آغشہ ایم  ہر سر خارے بہ خونِ دل
قانون ِباغبانی صحرا نوشتہ ایم![۱]
اس کے بعد آبپاشی کا مرحلہ پیش آیا۔پودوں کوخون دینا ، پودوں کوپانی دینے سے زیادہ ا?سان تھا، اس لیے کے زمین کے قریب پانی  کے  حصول کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔اگر خون سے سینچائی کی جاتی تو کل کو لوگ یہ کہتے کہ:   ؎
غنچوں میں اہتزاز ہے پرواز حسن کی
سینچا تھا کس نے باغ کو بلبل کے خون سے[۱]
باغبانی کے جنون کا تقاضہ تو یہی تھا کہ لہو سے اس گلشن کی سینچائی کر دی جائے ، تاکہ کل کو کہہ سکوں کہ:  ؎
کلیوں کو میں اپنے دل کا لہو دے کہ چلا ہوں
گلشن کی فضا مجھ کو صدیوں یاد کرے گی
مئی کے اواخر میں بیج ڈالے گئے اور جون کے اواخر میں ساری زمین کی صورت حال بدل گئی۔بہار آئی تو اس حال میں آئی کہ ہر گوشپہ مالن کی جھولی تھا ہر تختہ گل فروش کا ہاتھ تھا گویا:  ؎
کنوں کہ در چمن آمد گل از عدم بوجود
بنفشہ در قدم او نہاد سر بسجود [۱]
بہ باغ تازہ کن آئین دینِ زر دشتی
کنوں کہ لالہ برا فروخت آتش نمرود[۱]
کا عالم طاری ہو گیا۔لیکن آئین زر دشتی کے تازہ کرنے کا سامان یہاں کہاں ہے؟سو اس کی کمی عالم تصور کی جولانیوں سے پوری کی گئی۔وقت کی رعایت سے اکثر پھول موسمی تھے۔سب سے پہلے جرینیم (Geraniums)نے اس خرابۂ بے رنگ کو اپنی گل شگفتگیوں سے رنگین کیا۔جب صبح کے وقت آسمان پر سورج کی کرنیں مسکرانے لگتیں تو زمین پر جیرینیم کی کلیاں ہنسنا شروع کر دیتیں۔ابو طالب کلیمی کو کیا خوب تمثیل سوجھی تھی:  ؎
شیرینیٔ تبسم ہر غنچہ را مپرس
در ِشیر صبح خندۂ گلہا شکر گزاست[۱]
کوئی پھول یاقوت کا کٹورا تھا، کوئی نیلم کی پیالی تھی۔کسی پھول پر گنگا جمنی کی قلمکاری کی گئی تھی۔کسی پر چھینٹ کی طرح رنگ رنگ کی چھپائی ہو رہی تھی۔بعض پھولوں پر رنگ کی بوندیں اس طرح پڑ گئی تھیں کہ خیال ہوتا تھا ، صناع قدرت کے مْو قلم میں رنگ زیادہ بھر گیاہو گا۔صاف کرنے کے لیے جھٹکنا پڑا اور اس کی چھینٹیں قبائے گل کے دامن پر پڑ گئیں:  ؎
تکلف سے بری ہے حسن ذاتی
قبائے گل میں بوٹا کہاں ہے[۱]
اسی وقت کی بات ہے ایک دن دو پہر کے وقت گھر میں بیٹھا تھا کہ اچانک کیا سنتا ہوں ، بلبل کی نوائوں کی صدائیں آرہی ہیں:  ؎
باز نوائے بلبلاں عشق تو یادمی دہد 
ہر کہ زعشق نیست خوش ببادمی دہد[۱]
باہر نکل کر دیکھا  تو پھولوں کے ہجوم میں ایک جوڑا بیٹھا ہے اور گردن اٹھائے نغمہ سنجی کر رہا ہے۔بے اختیار خواجہ شیراز کی غزل یاد آگئی:  ؎
صفیر مرغ بر آمد، بطِ شراب کجاست
فغاں فتادز بلبل ’’نقابِ گل درید‘‘[۱]
دوپہر کی چائے کا آخری فنجان باقی ہے، اس نغمہ عندلیپ پر خالی کر رہاہوں:  ؎
نو نیر بادہ بہ چنگ آر و راہ صحرا گیر
کہ مرغ ِ نغمہ سرا ساز ِ خوش نوا آورد[۱]
پھر جب کبھی پانی دینے باغ میں جاتا تو بسا اوقات کویلیں بھی موجود ہوتیں۔پھدک پھدک کر جمع شدہ پانی تک پہنچتیں اور اس میں غسل کرنے لگتیں۔
د رحقیقت یہی وہ وادی ہے جہاں کبھی فیضیؔ نے بار عیش کھولاتھا:  ؎
ہزار قافلۂ شوق می کشد شبگیر
کہ بار عیش کشاید بخطہ کشمیر[۱]
بائیں طرف نسیم باغ کے چناروں کی قطاریں ہیں، داہنی طرف جھیل کی وسعت شالا مار اور نشاط باغ تک پھیلی ہوئی ہے۔کبھی کبھی غور کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی اور اس کے احساسات کا بھی کچھ عجیب حال ہے۔بقول مولانا آزادؔ،مدت چار برس کی ہو یاچاردن کی، مگر جب گذرنے پر آتی ہے تو گذر ہی جاتی ہے۔  ؎
عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں] ۲ [
جب یہاں پوسٹنگ ہوئی تھی اور آج کا دن۔ایک خواب سے زیادہ معلوم نہیں ہوتے۔  ؎
ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں
خلاصہ:ماشا اللہ ، ایام خالیہ میں جو بیج بویا گیا تھا، اب اس کا پھل مل رہا ہے۔جہاں کبھی ویرانے تھے اب وہاں بیگن، میتھی، کشمیری ساگ، کشمیری بند گوبی، مرچ، ٹماٹر، کدو شیریں، شملہ، گلاب، گل گڑھل، جیرینیم ، گھیکوار، پودینہ، گل دائودی، بھنڈی، دھنیا وغیرہ کے پودے لہرا رہے ہیں۔کبھی سوچتا ہوں تو دنیا کی زندگی بھی ایام خالیہ معلوم ہوتی ہے۔جو یہاں بوئیں گے وہی آخرت میں کاٹنا ہے۔مولانا عمر صاحب پالنپوریؒ فرماتے تھے، جیسی کرنی ویسی بھرنی، نہ مانے تو کر کے دیکھ، جنت بھی ہے جہنم بھی ہے، نہ مانے تو مر کے دیکھ۔۔دوسری بات یہ  ہے کہ اطبائے کرام سے راقم کی یہ گذارش ہے کہ طب یونانی کا مفردات سے گہرا رشتہ ہے۔تازہ اور صحیح مفردات مریضوں کو تجویز کرنے کے لیے کیوں نہ ادویۂ مفردہ کی کاشت کی جائے اور علاج بالمفردات کو عام کیا جائے۔ناچیز کی رائے میں جب تک ادویہ شناسی، ادویہ تلاشی ، ادویہ کی آبپاشی ، مفردادویہ نویسی نہ ہو تو ایک طبیب کے فن میں نقص باقی رہتا ہے نیز یہ وہ شعبہ ہے جس میں ابھی بہت محنت کی ضرورت ہے۔
ماخذ و حوالہ جات:
۱۔غبار خاطر۔مولانا ابولکلام آزاد ؔ۔
۲۔نقش حیات۔مولانا حسین احمد مدنیؒ۔
(مضمون نگارسائنسداں و لکچرر شعبہ ٔمعالجات، کشمیر یونیورسٹی سرینگر ہیں اور ان سے فون نمبر 9797750472پر رابطہ کیاجاسکتا ہے)
������������