تازہ ترین

میرواعظ رسول شاہ

مخلص اور غم خوار اسلاف کو یاد کرنا ہمارا قومی فریضہ

تاریخ    8 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


عبدالقیوم شاہ
حالیہ حالیہ دنوں میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے کورونا وائرس سے نجات کی چند دعائیں تجویز کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دعائیں وبائی صورتحال کے دوران اُن کے جد امجد مولانا غلام رسول شاہ عرف لسہِ بب نے قوم کو سکھائی تھیں۔5 ستمبر 1855جب مولانا رسول شاہ تولد ہوئے تو اُن کے والد مولانا محمد یحیٰ نے تاریخ ساز فقرہ کہا: ’’یہ بچہ سورچ کی طرح چمکے گا اور لوگوں کے دلوں کو روشن کرے گا۔‘‘ میرواعظ رسول شاہ کے والد مولانا محمد یحیٰ کا انتقال ہوتے ہی وہ 1891میں کشمیر کے پہلے میرواعظ (یعنی تمام واعظین کے رہنما) مقرر ہوئے۔زمین اور جائیداد سے جو رقم مولانا رسول شاہ کو حاصل ہوتی تھی اس کا خطیر حصہ وہ غریبوں، ناداروں اور بیوہ خواتین اور دوسرے ضرورتمندوں میں تقسیم کرتے تھے۔ 
میرواعظ مولانا رسول شاہ نہ صرف علامۂ زمانہ، دانائے دہر اور علومِ عقلیہ و نقلیہ کے ماہر تھے بلکہ وہ ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ قران مجید اور اس کے علوم پر اْن کی گرفت اس قدر گہری تھی کہ 8سال تک انہوں نے اسلامیان کشمیر کو سورۃالرحمٰن کی سلیس اور عام فہم انداز میں تفسیر سْنائی۔ لیکن وہ محض ایک شعلہ بیان خطیب ہی نہیںبلکہ دلِ دردمند رکھنے والے سماجی مصلح اور رضاکار بھی تھے۔ انہوں نے ناخواندگی اور پسماندگی کے اندھیروں میں خودانخصاری اور تعلیم کے چراغ روشن کئے۔ انہوں نے اسلامی ، اصلاحی، تبلیغی، سماجی، معاشرتی اور ثقافتی میدان میں لوگوں کی مخلص رہنمائی کر کے نمایاں اور قابل قدر کارنامے انجام دئے۔ 
مولانا رسول شاہ ایسے وقت سرگرم ہوئے تھے جب کشمیر میں ہندومہاراجوں کی من مانی اورعیسائی مشنری کی سرگرمیوں نے کشمیریوں کو حاشیہ پر دھکیل دیا تھا۔ انہوں نے کشمیری مسلمانوں کو شاندار اسلامی تہذیب کے اصول و مبادیٰ کے ساتھ ہمکنار کرنے کے لئے تعلیم اور تعلّم کی تبلیغ کی اور اس میدان میں قوم کی  بے بہا خدمت کرکے کشمیر میں عملی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ میرواعظ رسول شاہ کو سرسیدِ کشمیر کا خطاب دیا گیا۔ ڈوگرہ شاہی اور شخصی راج کی قہربار فضاؤں میں انہوں نے تعلیم کو پسماندگی اور غلامی کا واحد علاج قرار دے کر لوگوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کردیا، اور تمام مشکلات کا مردارنہ وار مقابلہ کرتے ہوئے کشمیری مسلمانوں کی پہلی تعلیمی تحریک ’’انجمن نصرۃ الاسلام‘‘  قائم کی۔ یہ ادارہ اج بھی کشمیر کے سب سے قدیم اور فعال ادارے کی صورت میں سرگرم ہے، جسکی نمایاں مثال راجوری کدل کا اسلامیہ ہائی سکول ہے۔ اس انجمن نے کشمیر کے چپے چپے پر سکولوں کا جال بچھا کر کشمیریوں کو تعلیم کے نور سے اراستہ کرنے کا سامانِ ناگزیر فراہم کیا۔ 
سماجی جرائم کے خلاف انہوں نے ہمہ گیر تحریک چلائی اور حکومتِ وقت کی طرف سے شدید تنگ طلبی اور کئی مقدموں کے باوجود وہ اپنے موقف پر چٹان کی طرح ڈٹے رہے۔ میرواعظ رسول شاہ کا انتقال 30 جولائی 1909کو مختصر علالت کے بعد ہوا۔ 
کشمیر کی سرزمین نہایت ذرخیز رہی ہے۔ یہاں مولانا رسول شاہ، مولانا انور شاہ کشمیری، ملاّ طاہر غنی، میرواعظ یوسف شاہ جیسے برگزیدہ رہنمائوں نے وطن عزیز کی خدمت میں اپنی زندگیاں کھپا دی ہیں۔ بلاشبہ علامہ اقبال، سرسید احمد خان، ابوالکلام ازاد ، محمد علی جناح وغیرہ تاریخ ساز شخصیات ہیں، اُن کے بارے میں جتنا لکھا جائے کم ہے لیکن کشمیر کے قلمکاروں کو چاہیے کہ وطن عزیز کی اُن شخصیات کے بارے میں تحقیقی تبصرے کریں جنہوں نے کسی اقتدار یا شہرت کی لالچ کے بغیر کشمیری عوام کی پسماندگی اور ناخواندگی کے خلاف عمر بھر مزاحمت کی۔ 
(کالم نگار سینئر سماجی کارکن ہیں۔ رابطہ 9469679449 ، abdulqayoomshah57@gmail.com)