انتخابی حد بندی:ہندو مسلم زاویہ | جموںوکشمیر اقلیتوں کے تئیں انتخابی مساوات کا مثالی نمونہ

محشرِ خیال

تاریخ    6 جولائی 2020 (00 : 02 AM)   


حسیب درابو
1۔ دیسائی حد بندی کمیشن کیلئے جو واحد کام رہ گیا ہے ،وہ پہلے سے طے شدہ114اسمبلی حلقوں میں سے90حلقوں کو تقسیم بلکہ سرنو تقسیم کرنا ہے جبکہ باقی ماندہ 24نشستیں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کیلئے مخصوص ہیں۔
2۔ معیار کے لحاظ سے اور مجموعی طور پر نقطہ نظر کے لحاظ سے بھی انتخابی حلقوں کی الاٹمنٹ کا تعین کس طرح ہوگا؟ حد بندی کمیشن کے پاس لکھنا شروع کرنے کے لئے صاف سلیٹ یا کورا کاغذ نہیں ہے ۔ میراث میں بہت سارے معاملات ہیں۔ شروعات کرنے والوں کیلئے نشستوںکی موجودہ تقسیم ہے جس کو علاقائی نمائندگی کے لحاظ سے غیر متوازن سمجھا جارہا ہے ،خاص کر جموں بمقالہ کشمیر کے لحاظ سے۔
 3۔ جموں ، جو ہندو اکثریتی انتظامی صوبہ ہے ، کئی دہائیوں سے یہ بحث کر رہا ہے کہ اعلیٰ سیاسی ڈھانچے میں اس کی نمائندگی بہت زیادہ کم ہے۔ یہ ان کا مؤقف رہا ہے کہ نہ صرف 1951 سے ہی ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے ، بلکہ کشمیری اجارہ داری نے اس امتیاز کو سالہا سال سے مزید نمایاں بنادیا ہے۔
4۔جب مردم شمار ی محض ایک سال کی دوری پر ہو ، جب ریاست کے درجہ کی تنزلی عمل میں لاکر اس کو بے اختیار کردیاگیا ہو ، جب وادی میں صورتحال نازک سے خراب ہوچکی ہو ، جب دنیاکو وائرس کے ذریعہ یرغمال ، بنایاگیاہو جب چینی قریبی سرحدوں پر دستک دے رہے ہوں ، اور سب سے بڑھ کرجب ’علاقائی عدم توازن ‘ کو ایڈرس کرنے کیلئے ہمارے پاس حد بندی پر آئینی بندش ہو ،ایسے حالات میں اس طرح کمیشن کے قیام کا کیا مقصد بنتا ہے؟
 5۔ دوہرامفروضہ کہ جموں کے ساتھ امتیازی سلوک کیاگیا اور کشمیرغالب رہا ،کو دو حقائق کے ساتھ باہم منسلک کیاجاتا ہے کہ جموں ہندو اکثریت ہے اور کشمیر مسلم اکثریت۔ ان مفروضوں کو حقائق کے ساتھ جوڑ کراس کا مابعد محور یہی ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ذریعے ہندوؤں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔ ایک قطبی ماحول میں ،جو تقسیم در تقسیم کی صورتحال سے دوچار ہو ، مسلمان ملک دشمن اسلامی بنیاد پرست اکثریت کا لقب پالیتے ہیں۔ باقی قوم کو جاننے کیلئے ارنب گوسوامی کے پاس باقی رہ گیا ہے!
6۔جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں لوگوں کی نمائندگی کے تناظر میں اس وقت افسانوں ، حقیقتوں اور خیالی تصورات کا یہ مرکب خوب چلایا جارہا ہے۔اگر اس کو جوابی دلائل دئے بغیر یونہی بغیر بحث چھوڑا گیا،تو ایسی صورت میں اس کو حد بندی کمیشن ممکنہ طور پر ادارہ جاتی شکل دے سکتا ہے کیونکہ شور و غوغا تھا کہ اسمبلی حلقوں کی تعداد اور نتیجتاً ممبران اسمبلی کی تعداد کے تعلق سے جموں کو محدود کیاگیا ہے ،دراصل حد بندی کمیشن کے قیام کی وجہ بن گیا۔
7۔ امید ہے کہ جموں کے خلاف طویل عشروں سے جاری امتیازی سلوک کے بعد حد بندی کمیشن توازن بحال کرے گا بلکہ اصل میں توازن کو دوسری طرف موڑ دے گا!
8۔ جانچنے اور تجزیہ کرنے کا وقت آچکا ہے۔ کیا جموں کے ساتھ قانون ساز اسمبلی اور جموں و کشمیر کی کونسل کو بھیجے جانے والے نمائندوں کی تعداد کے لحاظ سے امتیاز برتا گیا ہے؟
 9۔جموں و کشمیر کی سابق قانون ساز اسمبلی کی 87 نشستیں ریاست کے تین صوبوںکے مابین تقسیم کی گئی تھیں۔ کشمیر صوبہ کی 42 نشستیں تھیں ، جموں کے پاس 37 اور لداخ کی 4 نشستیں تھیں۔ اس تقسیم کو متنازعہ اور متعصبانہ قرار دیکر اس میں توازن پیدا کرنے کی ضرورت پر زورد یاجارہا ہے۔
 10۔پہلے قدم کے طور پر ہم ان تینوں صوبوں کے حصہ کو آبادی میں ان کے متعلقہ حصہ سے موازنہ کریں گے۔ کشمیر صوبہ کی 87 میں سے 42 نشستیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قانون ساز اسمبلی میں کشمیر کانشستوں کا حصہ 53 فیصد تھا (اصل میں 52.87 فیصد ) ۔ جموں کا حصہ 42 فیصد تھا جبکہ باقی5فیصد لداخ کے حصہ میں جاتا تھا۔
 11۔ اب اس کا آبادی میں ان کے متعلقہ حصہ سے موازنہ کریں۔جموںوکشمیر کی آبادی میں کشمیر کا حصہ55 فیصدہے ۔ اس کے بعد جموں کی 43 فیصد اور لداخ کی 2 فیصد حصہ داری ہے۔
12۔بادی النظر میں اگر کوئی گروپ ،جس کی آبادی میں 55فیصد حصہ داری ہے ،مقننہ میں 53فیصد نمائندوںکو بھیج دیتا ہے اور ایسا صوبہ ،جس کامجموعی آبادی میں حصہ 42فیصد ہے اور43فیصد نمائندوںکو مقننہ میں بھیج دیتا ہے ،اُس سے تو کسی امتیازی سلوک کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے۔
 13۔اگرکہیں امتیاز ہوا بھی ہے تو یہ کشمیر ہے جس کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔ جموں اور اس سے زیادہ لداخ کو آبادی کے حصہ سے زیادہ نشستوں کا حصہ ملا ہے۔ لداخ کو حقیقت میں آبادی سے دو گنا زیادہ نمائندگی میں حصہ مل رہاتھا۔ 2 فیصد آبادی ایوان زیریں کے 5 فیصدنمائندوں کا انتخاب کرتی تھی۔
 14۔لیکن یہ واقعتا اصل گلہ یا شکایت نہیں ہے۔ تکلیف دہ نقطہ جو ایک بڑے نظریاتی بیانیے میں فٹ بیٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں ہندوؤںکے ساتھ انتخابی میدان میں مسلمانوں نے امتیازی سلوک کیا ہے۔ آئیے ان زمروں میں موجود ڈیٹا کو الگ کریں۔
15۔ جموں و کشمیر کی آخری اسمبلی میں 87 ارکان اسمبلی میں سے 52 مسلم ، 33 ہندو اور 2 بودھ تھے۔ اس کا  مذہب کے لحاظ سے آبادی کی تقسیم کے ساتھ کیا موازنہ ہے؟
 جموں و کشمیر میں ہندو مجموعی آبادی کا 28.44 فیصدبنتے تھے لیکن اس کے باوجود ایوان زیریں میں منتخب ممبران اسمبلی میں ان کی شرح 37.93 فیصدبنتی تھی۔ اس کے برعکس مسلمان،جومجموعی آبادی کا 68 فیصد ہیں ، قانون ساز اسمبلی میں ان کی شرح محض صرف 60 فیصد تھی؟ اورمجموعی آبادی میں 1 فیصد سے بھی کم حصہ والے بودھوںکی اسمبلی میں نمائندوگی دوگنی تھی کیونکہ اسمبلی میں2فیصد تعداد ان کی تھی۔ (یہ تمام اعداد و شمار سرکاری مردم شماری کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔تفصیلات کیلئے کلک کریں : 
https://www.census2011.co.in/census/state/jammu+and+kashmir.htm
16۔ لہٰذا ، تجزیہ کی دوسری سطح پر بھی ، مسلمانوں کے حق میں کوئی عدم توازن نظر نہیں آتا ہے۔اگر ہم مزید آگے بڑھیں گے توجموں اور لداخ کو ملنے والی یہ رعایتیں مزید بہتر ہوجاتی ہیں۔
 17۔ارکان اسمبلی آبادی کے اکیلے نمائندے نہیں ہیں۔ نامزد اور بلدیاتی نمائندوں کو چھوڑ کر ایوان بالا میں منتخب 22 ایم ایل سی یا ممبران قانون ساز کونسل تھے۔ جموںصوبہ میں 11 ایم ایل سی تھے جبکہ اس کے برعکس کشمیرصوبہ کے لئے 9 اور لداخ سے 2 ایم ایل سی تھے۔ اگر ان کو شامل کیا جائے تو جموںصوبہ ، جس کا آبادیاتی تناسب محض 28.44 فیصد ہے ، کی منتخب قانون سازی کے ڈھانچے میں نشستوں کی حصہ داری44.03فیصد تھی۔109ممبران قانون اسمبلی کے علاوہ ممبران قانون ساز کونسل میں جموں صوبہ کے48نمائندے تھے اور جموں و لداخ کو "استعمار" کے طور استعمال کرنے والے کشمیریوں کے پاس کیا تھا؟ 55 فیصد کی آبادی کے ساتھ ، مقننہ کی نمائندگی میں ان کا حصہ 50.45 تھا! جموں سے امتیازی سلوک ، واقعی ؟!
 18۔  اب اگر کسی کے ذہن میں یہ شک ہو کہ قانون سازکونسل ممبران کی نامزدگی کے زمرہ میں کشمیر یوں نے بڑا ہاتھ ماراتھاتو آپ کو یہاں بھی حیرانی ہوگی۔ صرف ریکارڈ کے لئے کہتا چلوں کہ آخری قانون ساز کونسل کونسل میں نامزد 8 ممبروں میں سے 4 جموں (تمام ہندو ) اور 4 کشمیر (تمام مسلمان) سے تھے۔ غیر متوقع طور پر ، کسی غلطی کی نسبت بالکل درست۔
 19۔جیسا کہ اب پتہ چلتا ہے کہ تجزیہ کی پہلی تین سطحوں پر اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ ؛
ا۔ جموں کے ساتھ انتخابی میدان میں کشمیر نے امتیازی سلوک کیا ہے۔
ب۔ہندوستان کی واحد مسلم اکثریتی ریاست میں مسلمانوں کے ذریعہ ہندوؤں کو پسماندگی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
 20۔اگرچہ یہ توازن معمولی اور متوقع معلوم ہوسکتا ہے ، جو یہ ہے بھی ۔تاہم دوسری ریاستوںکے ساتھ موازنہ کرنے کے بعد آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ کوئی قانون نہیں ہے بلکہ محض ایک استثنیٰ ہے۔آبادیاتی خصوصیات کا مختلف طبقوں کی نمائندگی سے بہت کم بلکہ کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔
21۔آئیے ہم ملک کی چار ریاستوں کے نمونے دیکھتے ہیں۔ آسام میں 34.22فیصدمسلم آبادی ہے ، مغربی بنگال میں 27.01فیصد، کیرالہ میں 26.56فیصد اور اترپردیش میں 19 فیصدمسلم آبادی ہے۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں ، یہ ایک نمونہ ہے جس میں وہ ریاستیں شامل ہیںجہاںایک بائیں بازو کی جماعت ،ایک دائیں بازو کی جماعت، اور ایک باشعور سیکولر پارٹی کی حکمرانی ہے۔ ان کا موازنہ جموں و کشمیر سے اس لئے کیا جاتا ہے کیونکہ ان کی (مسلم) اقلیت کا حجم اتنا ہی اہم ہے جتنا جموں و کشمیر میں (ہندو) اقلیت کا۔
 22۔ان ریاستوں میں نمائندہ جاتی گراف میں مسلمان کا حصہ کتناہے؟ آسام،جہاں مسلمانوں کی آبادی 34.22 فیصد ہے ، ان کی ریاستی قانون ساز اسمبلی میں حصہ داری صرف 22.22 فیصد ہے۔ کیرالہ میں 127 ممبران کے قانون سازیہ میں 27 مسلم ارکان ہیں یوں مجموعی آبادی میں 26.56 فیصدحصہ داری کے باوجود نمائندگی میں انکی حصہ داری محض 21.25 فیصدہے۔ مغربی بنگال ،جہاںبرسر اقتدار جماعت پر مسلمانوں پر ’’عناتیں‘‘ کرنے کا الزام ہے ، وہاں گوکہ مسلم آبادی کا 27 فیصدہیںلیکن اسمبلی نمائندگی میں حصہ داری محض 17 فیصدہے۔اترپردیش میں آبادی میں مسلمانوں کا حصہ 19.3 فیصد ہے لیکن ریاستی اسمبلی میں ان کی نمائندگی صرف 14 فیصد تک ہے۔ ان اعدادوشمار کی روشنی میں جموں و کشمیراپنی اقلیتوں ،چاہے وہ ہندو ہوںیا بودھ ،کے تئیں انتخابی مساوات پسندی کی ایک روشن مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔
23۔ جیسے بھی ہو ، ریاستی اسمبلیوں میں مسلم نمائندگی کاتناسب اتنابھی برا نہیں ہے جتنا ان کے پسماندگی کے بارے میں عام تاثر ہے۔ تاہمجب پارلیمنٹ کے اعداد وشمار کا حساب لگایا جاتا ہے تو صورتحال یکسر تبدیل ہوجاتی ہے۔
 24۔مسلم آبادی ملک کی کل آبادی کا 14.1 فیصد ہے۔ 2014 میں پارلیمنٹ میں ان کا حصہ حیران کن 4.22 فیصد تھا۔ موجودہ پارلیمنٹ میں یہ بڑھ کر 4.95 فیصد ہوگئی ہے۔ خوشیاں منانے کا وقت ہے!
 25۔انتخابی نمائندگی کے نظام میں انتظامی امتیازی سلوک سے زیادہ انتخابی نمائندگی میں مسلمان کی پسماندگی کی وجہ آبادی کی جغرافیائی تقسیم ، پارٹی ترجیحات اورکسی حد تک انتخابی حلقوں کی منصوبہ بند تقسیم ہے۔
 26۔ہم اگلے کالم میں جموں و کشمیر کے تقسیم کے پہلو پر فوکس کریں گے کیونکہ جموں صوبہ کیلئے بڑے حصہ کی دعویداری اور شور و غوغاکی بنیاد رقبہ پر ہے۔
 (مجوزہ حد بندی مشق سے پیدا ہونے والے امور پر یہ کالم سیریزکا دوسرا حصہ ہے۔ پہلا حصہ ’حدبندی: سیاق و سباق‘ 3 جولائی 2020 کوکشمیر عظمیٰ میں شائع ہواتھا)