سوپور واقعہ کی گونج اقوا م متحدہ میں قصورواروں کو سزا ملنی چاہیے: ترجمان

تاریخ    3 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


مانٹیرنگ ڈیسک
سرینگر// سوپور کے ماڈل ٹائون علاقے میں یکم جولائی کو پیش آئے جگر سوز واقعہ کی گونج اقوام متحدہ تک پہنچ گئی ہے ۔ اقوام متحدہ ترجمان سٹیفن ڈوجیریک نے کہا کہ سوپور میں عام شہری کی ہلاکت میں ملوث قصور واروں کو سزا ملنی چاہئے ۔ اقوام متحدہ نے یکم جولائی کوسوپور میں ہونے والی عام شہری کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قصورواروں کو سزا ملنی چاہیے۔ اقوام متحدہ سربراہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیریک نے روزانہ بریفنگ کے دوران کہا کہ کشمیر میں بدھ کے روز ہونے والی شہری ہلاکت سے اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری اینٹونیو گٹیریس کو کافی دکھ پہنچا ہے اور جو افراد بھی اس جرم میں ملوث ہیں، ان کوسخت سے سخت سزا ملنی چاہیے جبکہ قوام متحدہ اس حوالے سے مزید تفصیلات جمع کر رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں رشتہ داروں، عوام کی جانب سے مظاہرے ہونا عام بات ہے اور انتظامیہ کو بھی ان مظاہروں پر پابندی نہیں لگانی چاہیے۔
 

بشیر احمد کو کس نے مارا،انتظامیہ تحقیقات کرے

گاڑی پر کوئی گولی بھی نہیں لگی تھی؟لواحقین

سرینگر // سوپور قصبے میں ایچ ایم ٹی سرینگر سے تعلق رکھنے والے شہری کے لواحقین نے یو ٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کہ اگر ان کا والد عسکریت پسندوں کی گولی سے جاںبحق ہوا ہے تو وہ اس کا ثبوت فراہم کرکے انہیں انصاف دلانے میں اپنا تعاون پیش کریں۔لواحقین نے بتایا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ ہم وہاں موجود نہیں تھے، لیکن آئی جی پی بھی واقعہ کی جگہ پر نہیں تھے۔لواحقین نے کہا کہ اگر پولیس کا دعویٰ ہے کہ بشیر احمد کراس فائر میں ہلاک ہوگیا تو پھر ان کی گاڑی پر گولی کا ایک بھی نشان موجود کیوں نہیں ہے۔متوفی بشیر احمد کی دختر نے کہا ’’ اگر میرے والد کراس فائر میں پھنس جاتے تو گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہوتا،لیکن گاڑی سڑک کے کنارے کھڑی تھی اور میرے والد کی لاش گاڑی کے پاس پڑی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے اپنی گاڑی سے نیچے لایا گیا تھا‘‘۔انہوں نے کہا کہ کنبہ کے افراد میں سے کوئی بھی موقع پر موجود نہیں تھا لہٰذا وہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ وہ فورسز کی گولیوں سے ہلاک ہوا۔ آئی جی پی خود بھی موقع پر موجود نہیں تھے لہٰذا وہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اسے عسکریت پسندوں کی گولیوں سے مارا گیا ،ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ انصاف چاہتے ہیں اور اگر اس کے والد کو عسکریت پسندوں کی گولیوں سے مارا گیا تو حکام کو اسے ثابت کرنا ہوگا،ہم سب انصاف چاہتے ہیں۔ ہم آج سب کچھ کھو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو عقل کا استعمال کرنا چاہئے کہ جب کوئی گولی چل رہی ہے تو کوئی شخص اپنی گاڑی سے کیوں نکلے گا اور وہ بھی جب اس کے ساتھ بچہ بھی ہوگا۔ جب گولیاں چل رہی ہوں تو وہ بھاگ جائے گا یا کوئی شخص اپنی گاڑی سے باہر آکر خطرہ مول لیگا؟۔ہم انصاف چاہتے ہیں اور کچھ نہیں اور حکام کو واقعے کی مکمل تحقیقات کرنی چاہئے انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ میرے والد کیسے جاں بحق ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر میں سیکورٹی فورسز کو اس کے والد کے جسم پر قدم رکھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے اور ان تصاویر سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اس کے والد کی ہلاکت کیسے ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ان تصویروں میں دیکھا جاسکتا ہے اور وہ اسی مقام پر جاں بحق ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے اپنی گاڑی سے نیچے لایا گیا تھا۔

 

سوپور واقعہ میں سی آر پی ایف ملوث نہیں

شہری جنگجو کی گولی سے ہلاک ہوا: ذوالفقار حسن

یو این آئی
 
سرینگر// سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے سپیشل ڈائریکٹر جنرل جموں و کشمیر زون ذوالفقار حسن نے کہا ہے کہ سوپور واقعہ میں ہلاک ہونے والے عام شہری کو جنگجوئوں کی طرف سے چلائی گئی گولی لگ گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں سی آر پی ایف اہلکاروں کے ملوث ہونے کا سوال ہی نہیں ہے۔ ہمہامہ میں سی آر پی ایف ہیڈ کانسٹیبل کی میت پر پھول چڑھانے کی تقریب کے حاشئے پر میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا: 'ہم سب جائے واردات پر گئے اور اس فائر کے تمام زاویوں کو دیکھا، تکنیکی اعتبار سے یہ بات واضح ہے کہ مہلوک عام شہری کو ملی ٹینٹوں کی گولی لگ گئی ہے۔ ملی ٹینٹوں نے اس آدمی کو مارا، بچہ ڈرا ہوا دوڑ رہا تھا تو وہاں موجود ایک سی آر پی ایف اہلکار نے اس کو بچایا'۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس واقعہ میں سی آر پی ایف کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں وہ سراسر غلط ہیں۔انہوں نے کہا: 'کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سی آر پی ایف اہلکاروں نے اس شہری کو گاڑی سے اتار کر گولی مار دی، یہ سراسر غلط ہے، لوگوں کو ملی ٹینٹوں کو ذمہ دار ٹھہرانا چاہئے جنہوں نے مسجد میں چھپ کر سی آر پی ایف پارٹی پر گولیاں چلائیں اور اس بچے اور عمر رسیدہ شخص کی کوئی پراوہ نہیں کی'۔ذوالفقار حسن نے کہا کہ مسجد کے اندر 60 گولیوں کے کھوکھے اور دو میگزین بھی برآمد کئے گئے ہیں۔ ذوالفقار حسن نے کہاکہ مساجد کمیٹیوں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ مذہبی مقامات کو جنگجوئوںکے ذریعہ’’ یرغمال‘‘ہونے کی اجازت نہ دیں۔انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے ذریعہ مساجد کا استعمال کشمیر میں ایک نیا رجحان معلوم ہوتا ہے۔
 

تازہ ترین