وائرس نے ایک ہی دن 10نگل لئے

کشمیر میں مہلوکین103، مجموعی اموات117

تاریخ    3 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


پرویز احمد

متاثرین کی تعداد میں مزید 154کا اضافہ، جموں کشمیر میں کل مثبت معاملات 7849

 
 سرینگر //9مارچ کو جموں اور 16مارچ کو کشمیر میں کورونا وائرس معاملات سامنے آنے کے بعد 2جولائی کو جموں کشمیر میں سب سے زیادہ 10امواتیں ریکارڈ کی گئیں۔ان میں 9کشمیر میں جبکہ ایک ادہمپور میں ہوئی ۔جموں و کشمیر میں مزید 10اموات کے بعد مرنے والوں کی تعداد117ہوگئی ہے ۔ کشمیر میںیہ تعداد سو کا ہندسہ پار کرکے103تک پہنچ گئی ہے۔ جمعرات کو  ایک کمسن بچے،نیشنل کانفرنس سینئر لیڈر اور پولیس، فوج اور دیگر فورسز کے 44اہلکاروں سمیت 154افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں۔ متاثرین کی تعداد 7849  تک پہنچ گئی ہے جن میں سے 1650جموں اور 6199افراد کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ متاثرین میں سے 51 سرینگر، 19 بارہمولہ،15کولگام، ایک شوپیان،17 اننت ناگ، 10 پلوامہ،12بڈگام،2بانڈی پورہ، 7 گاندربل، 4جموں، ایک رام بن،5سانبہ اور 6 ڈوڈہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ 

 10اموات

 جمعرات کو وائرس نے مزید10افراد کو نگل لیا ۔ کشمیر میں فوت ہونے والے9افراد میں سے5 سکمز صورہ ،3صدر اسپتال جبکہ ایک 60سالہ شخص سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ میں فوت ہوا ۔ سکمزمیڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق احمد جان نے بتایا ’’بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب یاری پورہ کولگام کا ایک 55سالہ شخص وائرس کی وجہ سے فوت ہوگیا ، مذکورہ شخص پہلے سے ہی ہائی بلڈ پریشر اور شوگر بیماری میں مبتلا تھا اور 2جولائی کو وائرس سے پیدا ہونے والے نمونیا کی وجہ سے فوت ہوگیا‘‘۔ڈاکٹر جان نے مزید بتایا ’’ رات 3بجکر 10منٹ پرسوپور بارہمولہ سے تعلق رکھنے والا ایک 65سالہ شخص  حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے فوت ہوگیا ‘‘۔ڈاکٹر جان نے بتایا ’’ فوت ہونے والا شخص پہلے سے ہی ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور نمونیا میں مبتلا تھا‘‘۔ ڈاکٹر جان نے بتایا کہ جمعرات کو دن کے 2بجکر 30منٹ پر تاری گام کولگام کا رہنے والا ایک 65سالہ شخص فوت ہوگیا ‘‘۔ڈاکٹر جان نے بتایا کہ فوت ہونے والے شخص کو 26جون کو جی ایم سی اننت ناگ سے سکمز صورہ منتقل کیا گیا کیونکہ وہ وائرس سے پیدا ہونے والے نمونیا اور چھاتی کے مختلف امراض میں مبتلا تھا۔ڈاکٹر جان نے بتایا کہ نادی گام شوپیان سے تعلق رکھنے والا ایک اور 65سالہ شخص کو وائرس نے نگل لیا ۔ڈاکٹر جان نے بتایا ’’ فوت ہونے والے شخص کو یکم جولائی کو اسپتال میں دل کی بیماری اور نمونیا کیلئے داخل کیا گیا لیکن وہ جمعرات 4بجکر 45منٹ پر فوت ہوگیا ۔میڈیکل سپر انٹنڈنٹ نے کہا ’’کاووسہ بڈگام کے ایک 75 سالہ شخص کو 28جون کو داخل کیا گیا‘‘۔ڈاکٹر جان نے بتایا ’’ مریض کو نمونیا کی وجہ سے اسپتال میں داخل کیا گیا لیکن وہ 2جولائی کو شام 7بجکر 25منٹ پر فوت ہوگیا ۔صدر اسپتال سرینگر میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب2مریض فوت ہوئے جن میں بٹہ مالو سرینگر کی ایک 65سالہ خاتون اور بڈگام کا ایک 73سالہ معمر شخص شامل ہیں۔ میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ڈاکٹر نذیر چودھری نے بتایا’’ بٹہ مالو سے تعلق رکھنے والی65 سالہ خاتون اور بڈگام سے تعلق رکھنے والے73سالہ مریض بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو فوت ہوگئے‘‘۔ڈاکٹر نذیر نے بتایا کہ دونوں مریض ہائی بلڈ پریشر اور کورونا وائرس سے ہونے والے نمونیا بیماری میں مبتلا تھے۔ ڈاکٹرچودھری نے بتایا کہ دونوں مریضوں کو بدھ کو اسپتال میں داخل کیا گیا لیکن وہ اسپتال میں داخلے کے چند گھنٹوں بعد ہی فوت ہوگئے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کولگام کا رہنے والا ایک 70سالہ شخص بھی وائرس کی وجہ سے فوت ہوگیا۔ڈاکٹرچودھری نے بتایا ’’مذکورہ شخص 30جون کو اسپتال میں داخل ہوا اور یکم جولائی کو اسکے نمونے حاصل کئے گئے لیکن وہ پورٹ آنے سے قبل ہی فوت ہوگیا ۔ سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ میں حبہ کدل سے تعلق رکھنے والا ایک 60سالہ شخص فوت ہوگیا ۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد سلیم ٹاک نے بتایا ’’ 60سالہ شخص کو 29جون کو بلڈ پریشر، گردوں کی بیمار، شوگر اوروائرس سے پیدا ہونے والے نمونیا کی وجہ سے اسپتال میں داخل کیا گیا لیکن وہ جمعرات کو فوت ہوگیا‘‘۔  ادھر کمانڈ اسپتال جموں میںڈوڈہ سے تعلق رکھنے والے ایک 65سالہ شخص کی موت کورونا وائرس سے ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔مذکورہ شخص 3روز قبل فوت ہوا تھا جس کی تصدیق جمعرات کو کی گئی۔

سکمز صورہ

سکمز صورہ کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق احمد جان نے بتایا ’’ پچھلے24گھنٹوں کے دوران2569نمونوں کی تشخیص کی گئی جن میں65مثبت جبکہ 2504افراد کی رپورٹیں منفی آئیں ہیں‘‘۔ڈاکٹر فاروق جان نے بتایا ’’65متاثرین میں سے ایک شوپیان،8سی آر پی ایف اور فوی اہلکار، 16سرینگر16اننت ناگ،2بڈگام،1کپوارہ، 13کولگام،2پلوامہ،ایک بارہمولہ،2گاندربل ، ایک بانڈی پورہ ،2گاندربل اور2جموںسے ہے۔ ڈاکٹر جان نے بتایا کہ اننت ناگ کے 16متاثرین میں سے 2عید گاہ بجبہاڑہ،4درہامہ ،2سریگفوارہ، ایک شانگس ،  ایک اکی گام، ایک صوفی محلہ، ایک وائل  ناگبل، ایک نمبل اننت ناگ اور ایک کا تعلق  شرپورہ اننت ناگ سے ہے۔ ڈاکٹر جان نے بتایا کہ اس کے علاوہ  ایک متاثرہ شخص کا تعلق ڈلوچ اور ایک سانگڑ قاضی گنڈ سے تعلق رکھتا ہے۔ ڈاکٹر جان نے بتایا کہ سی ایم او بانڈی پورہ کے نمونوں میں سے 2افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں ہیں جن میں سے ایک ماڈر اور ایک جموں سے تعلق رکھتا ہے۔ ڈاکٹر جان نے بتایا کہ ضلع اسپتال پلوامہ کی طرف سے بھیجے گئے نمونوں میں سے 7کے نمونے مثبت آئے ہیں جن میں سے 42آر آر  راجپورہ پلوامہ کے 5فوجی اہلکار، جموں سے  تعلق رکھنے والا ایک41سالہ شخص اوروائش بگ پلوامہ سے تعلق رکھنے والا ایک سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر جان نے بتایا کہ اس کے علاوہ ضلع اسپتال کولگام کی جانب سے  بھیجے گئے نمونوں میں سے 13کی رپورٹیں مثبت آئیں ہیں جن میں سے 2گڈر ، ایک کے بی پورہ،ایک وٹو ، ایک چاہ ملا، ایک  شانگس، ایک بچرو، ایک دیوسر ، ایک  ہبلش اور ایک نہامہ کولگام سے تعلق رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر جان نے بتایا کہ اس کے علاوہ ہیرون سرینگر سے تعلق رکھنے والے 4افراد جبکہ ایک صدر بل سرینگر سے تعلق رکھتا ہے۔ ڈاکٹر جان نے بتایا ’’ سکمز صورہ سے حاصل کئے گئے نمونوں میں سے 12افراد کے نمونے مثبت آئے ہیں جن میں سے 2زکورہ، 2صورہ، ایک راولپورہ، ایک آلسٹینگ، ایک حبہ کدل، ایک حیدر پورہ، ایک ڈلگیٹ ، ایک دیال گام اننت ناگ اور 2کا تعلق بڈگام سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سی آر پی ایف کی جانب سے بھیجے گئے نمونوں میں سے 3کی رپورٹیں مثبت آئیں ہیں جن میں سے 61بٹالین سی آر پی ایف کا ایک اہلکار، 183بٹالین سی آر پی ایف کا ایک اہلکار اور 40بٹالین سی آر پی ایف کا ایک اہلکار شامل ہیں۔  انسٹی ٹیوٹ کے شعبہ عوامی رابطہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی جانب سے جاری کئے گئے اعدادوشمار میںبتایا گیا ہے کہ ابتک کل773مشتبہ مریضوں کا داخلہ کیا گیا جن میں سے556مریضوں کو قرنطینہ کی مدت مکمل کرنے کے بعد گھر روانہ کردیا گیا جبکہ63مثبت قرار دئے گئے مریضوں کو گھر بھیجا گیا ہے۔ابتک123170نمونوں کی تشخیص کی گئی ہے جن میں سے118659کو منفی قرار دیا گیا ہے جبکہ2762مریضوں کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔

سی ڈی اسپتال

سی ڈی اسپتال میں پچھلے 24گھنٹوں کے دوران63افراد کے نمونے مثبت آئیں ہیں جن میں سے بی بی کینٹ سونہ وار کے21فوجی اہلکار، 8سرینگر، 12بارہمولہ ، پولیس لائنز گاندربل کا ایک اہلکار اور 3گاندربل سے تعلق رکھتے ہیں۔ سی ڈی اسپتال میں موجود ذرائع نے بتایا ’’سرینگر کے 8متاثرین میں سے نیشنل کانفرنس کے  سینئر لیڈر سمیت 3اہلخانہ، 2بٹہ مالو ، ایک صورہ ، ایک حبہ کدل اورصفا کدل سرینگر سے تعلق رکھتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بارہمولہ کے 12متاثرین میں سے 3پٹن، 4سنگری کالونی ،  ایک اچھہ بل ، ایک چستی کالونی ،2رفیع آباداور ایک پلہالن پٹن سے تعلق رکھتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اس کے علاوہ 2افراد کا تعلق گاندربل سے ہے جن میں پولیس لائنز گاندربل کا ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔ 

جے وی سی سرینگر

 پرنسپل سیکمز میڈیکل کالج ڈاکٹر ریاض احمد ایتو نے بتایا ’’ پچھلے 24گھنٹوں کے دوران503نمونوں کی تشخیص کی گئی جن میں سے 27مثبت جبکہ 476افراد کے نمونے منفی آئیں ہیں‘‘۔ڈاکٹر ریاض نے بتایا’’27متاثرین میں سے23بڈگام اور04سرینگر شہر سے تعلق رکھتے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر  نے بتایا ’’ بڈگام کے23متاثرین میں سے6بٹہ پورہ چاڈورہ بڈگام سے تعلق رکھتے ہیں‘‘۔ڈاکٹرریاض ایتو نے بتایا ’’ صنعت نگر میں تعینات بی ایس ایف کے14اہلکار بھی مثبت آئے ہیں۔ ڈاکٹر ریاض نے بتایا’’ سرینگر شہر کے4متاثرین میں سے2بھشمبر نگر، ایک رنگہ پورہ  الاہی باغ اور ایک صورہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جموں صوبے میں پچھلے24گھنٹوں کے دوران19افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں ہیں جن میں سے 7کرشنا لیبارٹری،10جی ایم سی جموں،ایک کمانڈ اسپتال جموں اور ایک کی رپورٹ ایس آر ایل  سے مثبت آئی ہے۔

جموں 

جموں صوبے میں پچھلے24گھنٹوں کے دوران20افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں ہیں جن میں سے 14کرشنا  لیبارٹری، ایک کمانڈ اسپتال ، 3جی ایم سی جموں اور2ایس آر ایل جموں سے مثبت آئیں ہیں۔   

حکومتی بیان

حکومت نے کہا ہے کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے154نئے مثبت معاملات سامنے آئے ہیںجن میں سے134کا تعلق کشمیر صوبے سے اور 20کا تعلق جموں صوبے سے ہیں اور اس طرح مثبت معاملات کی کل تعداد7,849تک پہنچ گئی ہے۔ میڈیا بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کے7,849ت معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے 2,760سرگرم معاملات ہیں ۔ اب تک4,974اَفراد شفایاب ہوئے ہیں ۔جموں وکشمیر میں کوروناوائرس سے مرنے والوں کی تعداد115تک پہنچ گئی ،جن میں سے 101کا تعلق کشمیر  سے اور14کاتعلق جموں صوبہ سے ہیں۔اِس دوران جمعرات کو مزید118مریض صحتیاب ہوئے ہیںجن میںجموں صوبے کے38 اور کشمیر صوبے کے 80اَفراد شامل ہیں ، جن کو جموں و کشمیر کے مختلف ہسپتالوں سے رخصت کیا گیا۔بلیٹن میں مزید کہا گیا ہے کہ اب تک 3,77,961ٹیسٹوں کے نتائج دستیاب ہوئے ہیں جن میں سے  02؍جولائی2020ء کی شام تک 3,70,112نمونوں کی رِپورٹ منفی پائی گئی ہے ۔علاوہ ازیں اب تک2,88,136افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا سفر ی پس منظر ہے اور جو مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں۔ ان میں 40,953اَفراد کو ہوم قرنطین میں رکھا گیا ہے جس میں سرکار کی طرف سے چلائے جارہے قرنطین مراکز بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ33 اَفراد کو ہسپتال قرنطین میں رکھا گیا ہے۔2,760کو ہسپتال آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ45,761 اَفراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔اسی طرح بلیٹن کے مطابق1,98,514اَفرادنے 28روزہ نگرانی مدت پوری کی ہے۔
 
 

فورسز کے مزید 44اہلکار متاثر

پر ویز احمد
 
سرینگر// وادی میں2جولائی کو پولیس و فورسز کی مختلف ایجنسیوں سے وابستہ مزید 44اہلکار وں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔اسکے ساتھ ہی وادی میں کورونا وائرس سے متاثرہ پولیس و فورسز اہلکاروں کی تعداد660پہنچ گئی ہے۔جمعرات کو42آر آر راجپورہ پلوامہ کے 5اہلکار، بادامی باغ سرینگر کے 21اہلکار، بی ایس ایف صنعت نگر کیمپ کے 14اہلکار، سی آر پی ایف 61بٹالین کا ایک اہلکار ، سی آر پی ایف 183بٹالین پلوامہ کا ایک اہلکار، 40بٹالین سی آر پی ایف اننت ناگ کا ایک اہلکار اور پولیس لائنز گاندربل کا ایک کانسٹیبل کورونا سے متاثر پایا گیا ہے۔اس طرح  مجموعی طور پر متاثرہ پولیس اہلکاروں کی تعداد250تک پہنچ گئی ہے جبکہ متاثرہ سی آر پی ایف کی مجموعی تعداد275 ہوگئی ہے۔ وائرس میں مبتلا فوجی اہلکاروں کی تعداد 77ہوگئی ہے۔ متاثرہ بی ایس ایف اہلکاروں کی تعداد 39ہوگئی ہے۔19 بیکن اہلکار اورسی آئی ایس ایف کا ایک اہلکار بھی وائرس سے متاثر ہوا ہے۔
 
 

علی محمد ساگر اور3اہلِ خانہ مثبت

پرویز احمد
 
سرینگر//نیشنل کانفرنس جنرل سیکریٹری اور سینئر لیڈر علی محمد ساگر اور انکے تین اہلخانہ کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ علی محمد ساگر کے بیٹے سلمان ساگر نے ٹیوٹر پر تحریر کیا’’ میری تمام دوستوں اور دیگر افراد سے گزارش ہے کہ وہ میرے اور میرے اہلخانہ کیلئے دعا کریں کیونکہ ہمارے کنبے میں میرے والد سمیت 4افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں‘‘۔ انہوں نے اپنی تحریر میں مزید لکھا ’’ ہمیں دعائوں میں یاد رکھیں ، اللہ ہم سب کواپنی حفاظت میںرکھیں‘‘۔علی محمد ساگر اور انکے اہلخانہ کے نمونے سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ میں تشخیص کیلئے بھیجے گئے تھے جو جمعرات کو مثبت آئے ۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ سی ڈی اسپتال ڈاکٹر محمد سلیم ٹاک نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ ہمیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے اور نہ ہی وہ ابھی اسپتال میں داخل ہوئے ہیں‘‘۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ علی محمد ساگر کو 5اگست 2019کو نظر بند کیا گیا تھا اور انہیں17جون کو جموں کشمیر ہائی کورٹ کی ہدایت پر رہا کیا گیا ۔
 

 

تازہ ترین