تازہ ترین

انتخابی حد بندی:سیاق و سباق

وہاںاقلیتیں خوفزہ ،یہاں اکثریت کو جائز خدشات

تاریخ    3 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


حسیب درابو
وفاقی حکومت نے 6 مارچ 2020 کو جموں و کشمیر یونین ٹریٹری کے ساتھ ساتھ دیگر چار ریاستوں کے انتخابی حلقوں (پارلیمنٹ اور اسمبلی) کی سرنو حد بندی کے لئے ایک حد بندی کمیشن تشکیل دیا۔
بادی النظر میں یہ انتخابی انتظامیہ میں معمول کی مشق ہے جو وقتاً فوقتاً کرائی جاتی ہے تاہم سیاسی طور یہ دو انتہائی اہم نوعیت کے معاملات کا فیصلہ لیتی ہے۔اول یہ کہ تمام ریاستوں میں عوامی نمائندوںکی تعداد کیا ہوگی جن میں ممبرا ن پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے ممبران شامل ہوتے ہیں ۔دوم پارلیمانی و اسمبلی حلقوںکی سر نو حدبندی کا کی نشاندہی کرنا۔
 اگر انتخابی حدود وقتا فوقتا ایڈجسٹ نہیں کیے جاتے ہیں تو ریاستوں ، خطوں، صوبوں اور اضلاع میں آبادی میں عدم مساوات پیدا ہوتاہے۔یوںآئین ہند کے آرٹیکل 82 میں یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ دس سال کے بعدہر مردم شماری کے بعد حد بندی کی جانی چاہئے۔ یہ لوگوں کی موجودہ اور ہم عصر نمائندگی کو یقینی بنانا ہے۔
 جسٹس رنجنا دیسائی کی سربراہی میں حد بندی کمیشن آزادی کے بعد پانچواں کمیشن ہے۔ تاہم یہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پارلیمنٹ یا قانون ساز اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ یا کمی پر آئینی طور پابندی ہے ۔
 ہندوستان کے آئین میں دو بار ترمیم کی گئی۔ 1976 میں 42 ویں ترمیم اور 2002 میں 84 ویں ترمیم ،جس کے ذریعے 2026 کے بعد پہلی آبادی مردم شماری تک حلقوں کی حد بندی کو موخر کردیاگیاہے ، یعنی مؤثر انداز میں  2031 تک کوئی حد بندی نہیں ہونی چاہئے تھی کیونکہ2021کے بعدنئی مردم شماری 2031میں ہی ہونی ہے۔ نتیجہ کے طور پر اب تک 1971 کی مردم شماری پارلیمانی حلقوں کی حد بندی کی بنیاد رہی ہے اور2001کی مردم شماری قانون سازی اسمبلی میں حد بندی کی اصلاحی بنیاد رہی ہے۔
 اس پس منظر کو دیکھتے ہوئے جو حد بندی کمیشن قائم کیا گیا ہے، وہ معمول کی بات نہیں ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ چاروں ریاستیں جہاں حد بندی کی مشق کی جارہی ہے،سبھی سرحدی ریاستیں ہیںجہاں اعلیٰ درجہ کا نسلی شعور پایا جاتاہے۔ اس کے علاوہ آسام کو چھوڑ کر دیگر تمام ریاستوں میں قومی اقلیتیں مقامی سطح پر اکثریت میں ہیں۔
 سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگرچہ حد بندی کمیشن 2002 کے حد بندی ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا ہے ، لیکن یہ جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ   2019 کی شقوں کے مطابق جموں و کشمیر کے انتخابی حلقوں کو از سر نو تشکیل دے گا۔ باقی سب( آسام ، اروناچل پردیش ، منی پور اور ناگالینڈ) کی حد بندی ،حد بندی ایکٹ 2002 کی دفعات کے مطابق کی جائے گی۔2002 کے حد بندی ایکٹ کو نظرانداز کرکے جموں و کشمیر کے معاملے میں حد بندی کمیشن کے مینڈیٹ پربہت حد تک سمجھوتہ کیا گیا ہے۔
 جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 نے جموں و کشمیر کے حق رائے دہی کے قانون میں ترمیم کی۔ ڈومیسائل قوانین کے ساتھ اتصال کرکے ریاستی اسمبلی کیلئے حق رائے دہی ،جو پہلے جموںوکشمیر کے پشتینی باشندوں تک ہی محدود تھی ،کو اب اُن تمام لوگوں تک توسیع دی گئی ہے جو’ ڈومیسائل ‘ کے وضع کردہ شرائط پورا کرتے ہیں۔اس سے طویل مدتی طور پر کشمیر میں انتخابی ڈیموگرافی تبدیل ہونے کا خطرہ پیدا ہوچکا ہے۔ابھی کے لئے حق رائے دہی کے نظام کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے جموں و کشمیر تنظیم نو بل 2019 نے جموں و کشمیر کے اسمبلی حلقوں کی حد بندی میں تین اہم عناصر میں سے دو کاپہلے ہی فیصلہ کر لیا ہے۔
 سب سے پہلے ، رائے دہندگان کی تعداد کا فیصلہ پہلے ہی کیا گیا ہے کیونکہ2011 کی مردم شماری کو بیس کے طور پر متعین کیاگیا ہے۔ جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کی دفعہ 63 (اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں خصوصی دفعات) کا کہنا ہے کہ ’’جب تک سنہ 2026 کے بعد لی گئی پہلی مردم شماری کے متعلقہ اعداد و شمار شائع نہیں کیے جاتے ہیں ، اُس وقت تک حلقہ بندیوں کوسرنو ایڈجسٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی" اور "مردم شماری کے تازہ ترین اعداد و شمار" سے متعلق کسی بھی حوالہ کو 2011 کی مردم شماری کے حوالے سے سمجھا جائے گا۔
 2011 کی مردم شماری کا استعمال حد بندی کو  حد بندی ایکٹ کے تحت نہ کرنے کی اصل وجہ ہے! ۔ہندوستان کے دستور کی خلاف ورزی کیے بغیر 2011 کو مردم شماری کے طور پر طے کرنا دوسری صورت میں ممکن نہیں تھا۔ دیگر تمام ریاستوں کے لئے ، بشمول وہ چار ریاستیںجہاں جموں و کشمیر کے ساتھ حد بندی ہونی ہے ،حد بندی کی بنیاد 2001 کی مردم شماری ہے۔
دوم ، قانون ساز اسمبلی میں نمائندوں کی تعداد 107 سے بڑھا کر 114 کردی گئی ہے جس میں 2002 کے حدبندی ایکٹ یا حد بندی کمیشن کاکوئی حوالہ نہیں دیا گیا تھا۔  حد بندی ایکٹ 2002 شق 8 (بی) اسے "ہر ریاست کی قانون ساز اسمبلی کو تفویض کی جانے والی کل نشستوں کی تعداد اور مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر طے کرنے" کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیاردیتی ہے۔ 
یہ بھی نوٹ کرنا ضروری ہے کہ نشستوں میں اضافہ کے لئے کسی معیار یا بنیاد کی نشاندہی کیے بغیر ہی عجلت میں اضافہ کیا گیا۔ اس سے قانون ساز اسمبلی کے حجم میں اضافہ صوابدیدی اورعارضی بن جاتا ہے۔رائے دہندگان کی تعداد کے ساتھ ساتھ منتخبہ افراد کی تعداد کے بارے میں پہلے ہی فیصلہ کرلینے کے بعد حد بندی کا واحد حصہ جو کمیشن کے پاس رہ گیا ہے، وہ انتخابی نقش نگاری ہے۔ انتخابی حلقوں کی سرنو حد بندی کرنا اورانتخابی حلقے کے دائرہ کار کے ساتھ لوگوں کو منسلک کرنا۔
یقین جانئے کہ علاقائی انتخابی حلقوں کی نشاندہی کرنے کے لئے وضع کردہ اصول نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لئے تشکیل دی جانے والی پارلیمانی مجلس قائمہ نے بھی مشاہدہ کیا تھا کہ’’آئین میں انتخابی حلقوں کی حد بندی سے متعلق فراہم کردہ فریم ورک میں کوئی ایسااصول نہیں ہے جو ایسی کسی حد بندی کی عمل آوری یقینی بنائے ‘‘۔در حقیقت  2002 کے حد بندی ایکٹ کی شق 7میں کہا گیا ہے کہ وہ ’’اپنے طریق کار کا تعین" کرنے کے لئے آزاد ہے۔ یہ معاملہ کو بالکل ہی کھلا چھوڑ دیتی ہے اور تاویلات و ترمیمات کی ہمہ وقت گنجائش رہتی ہے۔
گوکہ حد بندی کمیشن ایک قانونی ادارہ نہیں ہے تاہم معاملات کو کم شفاف بنانے کیلئے آرٹیکل 329 کے تحت یہ کہا گیا ہے کہ’’حد بندی کمیشن کا فیصلہ حتمی ہے اور اسے سپریم کورٹ میں بھی چیلنج نہیں کیا جاسکتا‘‘۔
 اس حقیقت کے پیش نظر کہ جموں و کشمیر کے معاملے میں حد بندی کمیشن کے مینڈیٹ کو پہلے کافی حد تک محدود کردیاگیا اور یہ کہ اس کواپنی ہر سرگرمی کے لئے حکومت پر انحصار کرنا پڑیگا ، اس سے زیادہ اعتماد پیدا نہیں ہوتا ہے۔
 کمیشن میں اختلاف رائے کی صورت میں اکثریت کی رائے غالب ہوگی۔یہاںتک ٹھیک ہے لیکن اصل معاملہ کمیشن کے تین ممبروں کا ہے جن میں سے ایکس آفیشیوممبران ہیں! یہ ایکس آفیشیو ممبران ، جو برسر ملازمت حکومتی عہدیداران ہیں ، کمیشن کے چیئرمین کے فیصلہ کے خلاف بھی جا سکتے ہیں۔ لہٰذا یہ فکر کرنا غیر فطری نہیں ہے کہ حد بندی کمیشن کو سیاسی ایجنڈے کو قانونی حیثیت دینے کے لئے ادارہ جاتی میکانزم کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہی کشمیر میں غم و غصہ اور اضطراب کی وجہ ہے۔ یہ حقائق ہیں افسانے نہیں۔
 اور بے چینی محسوس کرنے میں کشمیریوں کے دفاع میں ملک میں حد بندی کی تاریخ ہے۔ مثال کے طور پر سچر کمیٹی نے اس تشویش کے ساتھ نوٹ کیا کہ یوپی ، بہار اور مغربی بنگال میں مسلم اکثریتی اسمبلی کے حلقوں کو "ریزرو حلقوں" کے طور پر اعلان کیا گیا ہے اور یوں منظم طور پرحکومتی نظام کے ذریعے ہی مسلمانوں کو سیاسی شرکت سے محروم رکھاگیا ہے۔
 اسی طرح رائے دہندگی پر انکے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لئے ووٹر لسٹوں میں معمول کے مطابق مسلمانوں کو شامل نہ کرنے کے علاوہ   مسلم اکثریتی علاقوں کو تمام انتخابی نشستوں میں کچھ اس طرح تقسیم کردیاگیا ہے تاکہ ان کی عددی طاقت کو کمزور کیاجاسکے۔ ایک معاملہ آسام کا ہے جہاں سونائی انتخابی حلقے میں کجی دہار ، چاند پور اور ناگدھیرگرام کے مسلم اکثریتی  علاقوں کو ڈھولائی سیٹ کے ساتھ ضم کیاگیاتھا جہاں درجہ فہرست ذاتوں اور اوبی سی طبقہ کے لوگوںکی اکثریت ہے۔ مسلم ووٹوں کی تعداد عددی طور پر ختم ہوگئی۔یہ ایک مخصوص پارٹی یا طبقہ کی حمایت کرنے کیلئے انتخابی حلقہ کی سرحدوں کو مینو پلیٹ کرنے کے امریکی طریقہ کار کا ہندوستانی ورژن ہے۔
 اہم نکتہ یہ ہے کہ باقی دنیا کے برعکس ،جہاں اقلیتیں حد بندی سے متعلق عدم تحفظ کا شکار ہوتی ہیں ،کشمیر میںاکثریت اس عمل سے متفکر ہے۔در حقیقت پہلے ریاستی اقلیتیں سینہ ٹھونک کر اپنی مبینہ محرومیوں کا رونا روہی تھیں لیکن ور اب اسی طرز پر وادی کی اکثریتی سیاسی جماعتیں سینہ پیٹ رہی ہیںکہ ہمارے ساتھ کیا ہورہا ہے۔
 دفعہ35 اے اوردفعہ 370 کی بہیمانہ منسوخی پر حیرت زدہ اور لرزہ زدہ کشمیریوں کو اب وادی میں آبادیاتی تبد یلیاں عملائے جانے کا خدشہ ہے۔ اگرچہ اس میں تین دہائیاں یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتاہے ، لیکن فی الوقت کشمیریوں کو جس چیز کا سامنا ہوسکتا ہے ،وہ یہ ہوسکتا ہے کہ آبادیاتی اکثریت کو سیاسی اقلیت میں تبدیل کرنے کا اصل امکان موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انتخابی حد بندی فرقہ وارانہ بنیادوں پرکچھ اس طرح ہیرا پھیری کرنے کی کافی گنجائش مہیا کراسکتی ہے کہ اکثریت کے فوائدکم تر کئے جائیں گے اور علاقائی اقلیت کے فوائد میں اضافہ ہوجائے گا۔
اسمبلی حلقہ کی ایک نئی حدیا سرحد نہ صرف انتخابات کے نتائج ، مقننہ اور حکومت میں انتخابی نمائندگی کے طرز کو تبدیل کرسکتی ہے بلکہ اس کا اثر وفاقی تناظر میں وضع کردہ علاقائی مطالبات کے بیانیہ پر بھی ہوگا۔ یہ وسیع پیمانے پر حتمی کھیل سمجھا جارہاہے ۔تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ موجودہ حد بندی کمیشن جموں و کشمیر کی خصوصیت ، پہلے حد بندیوں کی تاریخ ، علاقائی نمائندگی کے امور اورسابقہ حد بندی کمیشنوںکی جانب سے اپنائے گئے عمومی رہنما خطوط سے کیسے نمٹتا ہے ۔ ان پر ہم اگلے کالم میں گفتگو کریں گے۔
 (یہ تین حصوں پر مشتمل کالم سیریز کی پہلی قسط ہے)

تازہ ترین