تازہ ترین

اللہ کے وجود پر کامل یقین ہی کامرانی

نصیحت آموز

تاریخ    2 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


مسکان گْل،چیوڈارہ بیروہ بڈگام
دورِ جدیدکے بڑے فتنوں میں سے ایک فتنہ ’’الحاد ‘‘یعنی خدا کے وجودسے انکار ہے۔آج کے سائنسی دور میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اللہ تعالیٰ کے وجود سے مکمل طور پر انکار کرتے ہیں اور اپنی دانست میں ہر بات کو عقلی دلایل پر پرکھ کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس دنیا کو تخلیق کرنے والا کوئی نہیںہے لیکن دیکھا جائے تو یہ کوئی نیا نظریہ نہیں بلکہ ہر دور میں ایسے منکر ین پیدا ہوتے رہے ہیں اور اْن کو مات دینے کے لئے اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندے بھی ہر زمانے میں سامنے آتے رہے ہیں۔
صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضرت محمد ؐنے فرمایا۔’’ہمیشہ ہی لوگ ایک دوسرے سے سوال کرتے رہیں گے ،حتیٰ کہ یہ کہا جائے گا کہ فلاں چیز کو اللہ نے پیدا کیا تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟‘‘ایسا ہی کچھ منظر (واقعہ) برسوں پہلے بغداد کے ایک شہر میں پیش آیا تھا ،جہاں ایک شخص روز اس شہر کے بازار میں آکر بہ آوازِ بلند مسلمانوں سے کچھ سوالات کرتا ،وہ سولات کچھ اسطرح تھے:اے مسلمانو! تم کہتے ہو کہ تمہارا رب واحد و یکتا ہے تو یہ بتائو کہ اْس سے پہلے اس دنیا میں کیا تھا ،اْس کو خود کس نے پیدا کیا؟تم لوگوں کا ایمان یہ ہے کہ خدا تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے تو یہ بتائو کہ اْس کا مْنہ کس طرف ہے؟تم کہتے ہو کہ اللہ وجود رکھتا ہے تو یہ بتائو کہ اْس کی ساخت کیا ہے ؟کیا وہ لوہے کی طرح سخت ہے ،پانی کی طرح نرم ہے یا پھر دھویں کی طرح گھل جانے والا؟تم مانتے ہو کہ اچھے اعمال کرنے والوں کو جنت ملے گی ،وہاں کسی کو حاجت نہیں ہوگی تو ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟
یہ اس شخص کا معمول بن چکا تھا۔یہ شخص روز آتا اور مسلمانوں کو ان سوالوں سے بھٹکانے کی کوشش کرتا۔وہاں کے بڑے بڑے عالم اس کو قرآن کا حوالہ دیتے تو یہ شخص عقلی دلائل دے کر اْن کو رد کرتا۔وہاں کے لوگ اس کے رویہ سے پریشان ہوچکے تھے۔معمول کے مطابق ایک روز یہ شخص بغداد کے بازار میںآکر یہ سوالات دْہرانے لگا تو ایک گیارہ سالہ بچہ اس کے سامنے کھڑا ہوکر اْسے سوالات دْہرانے کے لئے کہنے لگا۔پہلے تواس شخص کو لگا کہ کسی نے مذاقاًاس بچے کو بھیجا ہے لیکن بعد میں اس بچے کے چہرے پر سنجیدگی دیکھ کر یہ سولات کرنے لگا۔اس شخص نے اس بچے سے کہا کہ:اللہ سے پہلے کیا تھا اور اللہ کو خود کس نے پیدا کیا؟تو بچے نے جواب دیا : تم دس سے اْلٹی گنتی شروع کرو تو اس شخص نے اْلٹی گنتی شروع کی اور آخر پر ایک پر رْک گیا۔بچے نے پھر سے دہرانے کے لئے بولا ،تو یہ شخص پھر سے دہرانے پر بھی ایک پر رْک گیا تو اس بچے نے اس شخص سے کہا کہ ایک سے آگے بھی تو چلو تو اس شخص نے کہا کہ ایک سے پہلے کچھ نہیں آتا،صفر آتا ہے۔تو اس بچے نے جواب دیا کہ گنتی میں ایک سے پہلے کچھ نہیں آتا تو پھر ذات جو واحد و یکتا ہے،اْس سے پہلے کیا ہوسکتا ہے۔وہ ذات قدیم سے قدیم تر ہے،وہی اس کائنات کی ابتدا ہے اور وہی اس کائنات کی انتہا۔یہ لاجواب کرنے والی بات سْن کر اس منکر کے چہرے پر جیسے خوف سا نظر آیا۔اب اس بچے نے دوسرا سوال کرنے کی طرف اشارہ کیا تو اس شخص نے دوسرا سوال دہریا:تمہارا ایمان یہ ہے کہ خدا تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے تو اْس کا مْنہ کس طرف ہے؟یہ سْن کر یہ بچہ تھوڑی دیر کے لئے رْک سا گیا تو اس شخص کے منہ پر مانو جیسے خوشی کی لہر آگئی۔وہاں کے لوگ اس بچے سے بڑی آس لگائے بیٹھے تھے۔وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ بچہ اپنے جواب کو من ہی من میں پہلے ترتیب دے رہا تھا ،تھوڑی دیر سوچنے کے بعد اس بچے نے اس شخص سے پوچھا کہ اگر ایک اندھیرے کمرے میں ایک شمع کو بیچ میں رکھا جائے تو یہ بتائو اس کی روشنی کس طرف ہوگی تو اس شخص نے کہا کہ اْس کی روشنی چاروں طرف ہوگی۔تو اس بچے نے جواب دیا کہ یہ مثنوی روشنی کا اعتراف ہے کہ وہ سب طرف کو پھیلتی ہے تو اللہ ،جو آسمانوں اور زمینوں کو نور ہے، اْس کا رْخ کس طرف ہوگا۔کیا وہ خالی مشرق کی جانب ہوگا،مغرب کی جانب ہوگا یا پھر کسی اور کی طرف ہوگا۔یہ جواب سْن کر وہاں لوگوں میں جیسے جان آگئی۔اْن میں اْمید کی ایک نئی کرن دیکھنے کو ملی۔اب اس شخص نے اپنا تیسرا سوال پوچھ لیا:تم مانتے ہو کہ اللہ وجود رکھتا ہے تو یہ بتائواْس کی ساخت کیا ہے ،کیا وہ لوہے کی طرح سخت ہے ،پانی کی طرح سیال ہے یا پھر دھویں کی طرح اْڑنے والا؟
اس پر بچے نے اسے ایک خوبصورت جواب دیا کہ کیا تم کبھی کسی ایسے انسان کے پاس بیٹھے ہو جو قریب المرگ ہو اور پہلے وہ متحرک تھا تو پھر ساکن ہوگیا۔اس شخص نے کہا ،ہاں،تو اس بچے نے بڑے ہی پیار سے کہا کہ وہ متحرک سے ساکن کیسے ہوا؟ تو اس شخص نے کہا کہ اس کے جسم سے رروح نکل گئی۔تو اس بچے نے اس شخص سے کہا کہ تم مجھے اْس روح کی تعریف بتائو،کیا وہ لوہے کی طرح سخت تھی ،پانی کی طرح سیال یا پھر دھویں کی طرح اْڑنے والی؟۔اس شخص نے جواب دیاکہ میں روح کی تعریف کیسے کرسکتا ہوں۔میںروح تو نہیں دیکھ سکتا کیونکہ وہ انتہائی نفیس اور مہین ہوتی ہے۔اس بچے نے اس شخص سے کہا کہ تم روح کو نہیں دیکھ سکتے کیونکہ وہ مہین اور نفیس ہوتی ہے تو یہ بتائو جو ارواح کا مالک ہے،اْس کو ہم کیسے دیکھ سکتے ہیں۔یہ جواب سْن کر اس منکر کی مانو ساری اْمیدیں ٹوٹ گئیں اور اب وہ مرجھائے ہوئے لہجے سے اپنا آخری سوال دہرانے لگاکہ:تم مانتے ہو کہ اچھے اعمال کرنے والوں کو جنت ملے گی اور وہاں کسی کوحاجت نہیں ہوگی تو یہ کیسے ممکن ہے؟
بچے نے جواب دیا کہ جب ہم لوگ پیدا ہونے سے پہلے ۹ مہینوں تک ماں کی پیٹ میں ہوتے ہیں ،اْس وقت تو ہمیں حاجت کی ضرورت نہیں ہوتی تو اْس پاک جگہ یہ کیسے ہوسکتی ہے ؟یہ جواب سْن کر اس شخص نے فوراً ہی اسی کے ساتھ دوسرا سوال پوچھاکہ:تمہارا ایمان ہے کہ بْرے اعمال کرنے والوں کو جہنم کی آگ میں ڈال دیا جائے گا تو جنات تو آگ کے ہی ہوتے ہیںتو بھلا آگ اْن کا کیا بگاڑ سکے گی؟اس پر بچے نے اس شخص سے ایک حرکت کرنے کی اجازت طلب کی اور زمین سے مٹھی بھر کر مٹی لے کر اس کے منہ پر ماری تو اس شخص کی چیخیں نکل گئیں۔اس بچے نے اس شخص سے کہا کہ یہ مٹی مارنے کے بعد جو تمیں درد ہوا وہ بیان کرو۔تو وہ شخص لاجواب ہوگیا اور اس بچے نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تم مٹی کے ہی بنے ہو اور اْس کے باوجود تمہیں اسی مٹی سے درد ہوا تو اْمید ہے کہ تمہیں اپنا جواب مل گیا ہوگا۔اس بات کے بعد یہ منکر اس قدر ذلیل و رسوا ہوکر وہاں سے چلا گیا کہ پھر کبھی واپس لوٹ کر نہ آیا۔
یہ جوابات خالی اْس منکر کے لئے نہیں ہیں بلکہ اْن لوگوں کے لئے ہیں جو اللہ کی ذات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔انسان کے اندر اگر یقین ہو تو دنیا کی کوئی بھی طاقت اْسے بھٹکا نہیں سکتی۔حضرت ِ علیؓ فرماتے ہیں کہ ’’علم رکھنے والے سے لڑنا آسان ہوتا ہے پر یقین رکھنے والے سے لڑنا بہت مشکل۔‘‘اسی لئے چاہے کوئی بھی آزمائش ہو ہمیں اپنے یقین کو نہیں ٹوٹنے دینا ہے ،کیونکہ  ؎
جو یقین کی راہ پہ چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی 
جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا وہ قدم قدم پر بہک گئے
آخر میں بس اس التجا سے اپنا موضوع ختم کرنا چاہوں گی اگر کبھی بھی میرے کسی بھی مسلمان بھائی یا بہن کو لگے کہ مسلمانوں کو ختم کرنے کی سازشیں بْنی جارہی ہیں تو ہم انہیں یہ بتادیں کہ :  ؎
نہیں مٹا سکتا کوئی بھی دنیا میں مسلمانوں کو 
یہ وہ قوم ہے جنہیں محمدؐ کا سہارا ہے
daraliya49@gmail.com