تازہ ترین

حمل اور زچگی کی طبی پیچیدگیاں

مسائل

تاریخ    2 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


ڈاکٹر نغمہ ظہور
عورتوں میں حمل ٹھہرنے کا پتہ چلنا ایک لاثانی احساس ہے، باہرچلتے پھرتے ہوئے آپ کو یوں لگ رہا ہوتا ہے، جیسے آپ اپنے اندر ایک شاندار راز چھپائے جارہے ہوں۔جدید سماج  میں ایک طرف اگر سماجی علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کی کاوشوں نے عورتوں اور بچوں کی شرح اموات میں خاطر خواہ کمی لائی ہے تو دوسری طرف بہت سے معاشی اور معاشرتی مسائل نے ان شرح اموات کی شرح میں کمی کے بجائے زیادہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔گزشتہ پچیس برسوں کے دوران دنیا بھر میں زچگی کے دوران اور زچگی سے متعلق طبی پیچیدگیوں کے نتیجے میں خواتین میں شرح اموات تقریباً نصف رہ گئی ہے۔یہ ایک اچھی خبر ہے اور خواتین کیلئے حیات بخش بھی ہے۔
اقوام متحدہ کے مختلف اداروں اور عالمی بینک کی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق 1990ء اور 2015ء کے درمیان تک کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا جائے تو عالمی سطح پر زچگی کے باعث پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کے نتیجے میں خواتین کی جان چلے جانے کے واقعات میں 44 فیصد کمی آ چکی ہے۔تاہم دوسری طرف یہ بات ابھی تک باعث تشویش ہے کہ مجموعی صورت حال مقابلتاً بہتر ہو جانے کے باوجود اس سال کے دوران اب تک اسی طرح کی طبی پیچیدگیاں تین لاکھ تین ہزار سے زائد خواتین کی جان لے چکی ہیں، جن میں سے زیادہ تر خواتین کی موت ایشیا اور افریقہ کے ترقی پذیر ملکوں میں ہو ئی۔ 
برطانوی طبی تحقیقی جریدے ’دا لینسَیٹ‘ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق زچگی کے دوران پیدا ہونے والے طبی مسائل سے ماہرین کی مراد عام طور پر وہ پیچیدگیاں ہوتی ہیں، جن کا کسی بھی حاملہ خاتون کو دوران حمل یا پھر بچے کی پیدائش سے چھ ہفتے بعد تک کے عرصے کے دوران سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایسی وجوہات کی بنا پر 1990ء میں عالمی سطح پر پانچ لاکھ بتیس ہزار خواتین کی اموات ریکارڈ کی گئی تھیں ، جو 2015ء میں کم ہو کر تین لاکھ تین ہزار رہ گئی تھیں۔ جنیوا سے 2015 کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اپنے تحقیقی مطالعے میں عالمی ادارہ صحت WHO نے بھی اہم کردار ادا کیاہے۔عالمی ادارۂ صحت کی تحقیق اور طب تولیدی سے متعلقہ امور کی رابطہ کار ڈاکٹر لیل سے  Lale Say نے بتایا گزشتہ ربع صدی کے دوران ان وجوہات کی بنا پر عورتوں میں شرح اموات کم کرنے میں کافی مدد ملی ہے۔ اس عرصے کے دوران ایسی ہلاکتوں کی شرح میں 44 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، ’’یہ پیش رفت بہت حوصلہ افزا ہے، لیکن یہ بہتری مختلف ملکوں اور خطوں میں مختلف تناسب سے دیکھنے میں آئی ہے۔‘‘
ماہرین کے مطابق انہی اعداد و شمار کو اگر ایک دوسرے پہلو سے دیکھا جائے تو 1990ء میں ہر ایک لاکھ زندہ پیدا ہونے والے بچوں کی مائوں میں سے 385 حاملہ خواتین زچگی کے دوران یا زچگی کے چھ ہفتے کے بعد تک پیدا ہونے والے مسائل کے باعث موت کے منہ میں چلی جاتی تھیں۔ اب یہ تعداد کافی کم ہو چکی ہے اور ماہرین کو اندازہ ہے کہ آئندہ چند برسوں میں یہ شرح مزید کم ہو جائے گی۔
گزشتہ ڈھائی عشروں کے دوران اس حوالے سے سب سے زیادہ بہتری مشرقی ایشیائی ملکوں میں دیکھنے میں آئی، جہاں خواتین میں ہلاکتوں کی شرح 95 سے کم ہو کر 27 خواتین فی ایک لاکھ زندہ بچوں کی سطح تک آگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ہر سال تین لاکھ سے زیادہ بچے پیدا ہونے کے چوبیس گھنٹوں کے اندر ہی فوت ہوجاتے ہیں اور ماہرین کے مطابق اس کیلئے سیاسی عزم کی کمی اور حفظان صحت کا ناقص نظام ذمہ دار ہیں۔رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں اگرچہ دنیا کی صرف چوبیس فیصد آبادی رہتی ہے لیکن یہاں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح غیر متناسب طور پر زیادہ ہے۔ادارے کے مطابق چوبیس گھنٹوں کے اندر فوت ہونے والے بچوں میں سے چالیس فیصد کا تعلق جنوب ایشیا سے ہوتا ہے کل تعداد میں سے انتیس فیصد بچے بھارت میں فوت ہوجاتے ہیں ان اموات کی تین بنیادی وجوہات ہیں :زچگی کے دوران پیچیدگیاں،وقت سے پہلے بچوں کی پیدائش اور انفکیشن۔بھارت میں ہر سال زچگی کے دوران چھپن ہزار عورتوں کی موت ہورہی ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔بھارت میں تقریباً آدھی زچگیاں گھر پر ہی ہوتی ہیںاور تربیت یافتہ ہیلتھ ورکرز کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان میں پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔دور درواز علاقوں میں نہ تو ڈاکٹر ہوتے ہیں اور نہ ہی ہیلتھ سنٹر جس کی وجہ سے بچوں کی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
چند سال پہلے آج کی طرح ٹیکنالوجی میسر نہیں تھی لیکن لوگ پھر بھی بہت خوش تھے بچے اس وقت بغیر آپریشن کے پیدا ہوتے تھے کیونکہ اس وقت کی عورت زیادہ پڑھی لکھی نہ ہونے کے باوجود بھی اپنا اور اپنے بچے کی صحت کا ہر لحاظ سے خیال رکھتی تھی لیکن اس کے برعکس آج کی عورت کو دیکھیں اس کے پاس تعلیم نہ بھی ہو تو سوشل میڈیا کے ذریعے سب باتوں کی آگاہی مل جاتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ ان باتوں پر عمل پیرا نہیں کرتی جس کی وجہ سے آج کل ہر دوسرے بچے کی پیدائش ہسپتال میں آپریشن سے ہوتی ہے اور اس میں سے بھی بیس سے تیس فیصد بچے کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں کیونکہ حمل کے دوران عورتیں احتیاط سے کام نہیں لیتی ہیں ان میں کچھ قصور عورت کا ہے اور کچھ گھریلو لیکن ہمیں اپنی آنے والی نسل کی بھی فکر کرنی پڑتی چاہیے عورتوں کو حمل کے دوران بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔حمل کے دوران عورت کے جسم میں مختلف قسم کی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں یہ تبدیلی عام طور پر معمولی سی ہوتی ہے لیکن اگر وقت پر اس کا خیال نا رکھا گیا تو اس سے کئی قسم کے جلدی امراض پیداہوجاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ درج ذیل مزید تبدیلیاں بھی پیدا ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔

قبض : 

حمل کے دوران ہارمون کی تبدیلی کی وجہ سے عورت کے جسم میں سب سے پہلے قبض کی شکایت پیدا ہوتی ہے اس سے بچنے کے لئے صحت مند اور بھرپور غذائیت والی خوراک استعمال کرنی چاہیے جیسا کہ اناج۔ فروٹ۔ سبزیاں۔ پھلیاں اور دالیں وغیرہ اور اس کے ساتھ روزانہ ورزش کریں اور اس کے ساتھ پانی کا استعمال زیادہ کریں
جسم کے نچلے حصے میں درد : 
یہ ایک ایسا درد ہے جو اچانک سے اور تیزی سے ہوتا ہے یہ عام طور پر پاوئں میں یا پیچھے کے عضلات میں اور اکثر رات کے وقت ہوتا ہے اس درد کی اصل وجہ کے بارے میں کوئی نہیں جانتا ہے لیکن اس سے بچائوکے لئے ٹانگ اور ٹخنے کی ورزش کرنی چاہیے جو خون کی گردش کو بہتر بناتی ہے جس کی وجہ سے عورت درد سے محفوظ رہتی ہے۔

چڑچڑاپن : 

بعض دفعہ عورتوں میں حمل کے دوران چڑ چڑاپن ہو جاتا ہے یہ دماغ تک صاف خون نہ پہنچنے سے دماغ میں آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے یہ اکثر تیزی سے اٹھنے یا پیٹھ کے بل زیادہ دیر تک لیٹنے کی وجہ سے ہوتا ہے اس سے بچنے کے لئے اپنے اٹھنے اور بیٹھنے کا عمل آرام سے کریں اور اگر کھڑے ہونے کے دوران آپ چڑچڑاہٹ محسوس کریں تو فوری طور پر بیٹھ جائیں اور اگر سونے کے دوران محسوس کریں تو سائیڈ تبدیل کر لیں-

گرمی محسوس کرنا : 

بعض دفعہ عورت ضرورت سے زیادہ گرمی محسوس کرتی ہے یہ ہارمون کی تبدیلی کی وجہ سے جلد کی طرف خون کا زیادہ دبائو ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے جس کی وجہ سے پسینہ زیادہ آتا ہے اس سے بچنے کے لئے ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننے سے سانس میں آسانی ہوتی ہے کیونکہ یہ روشنی کو جذب کرنے میں مدد کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اپنے کمروں کو بھی ٹھنڈا رکھیں اور اپنے جسم کے کھلے اعضا کو تازہ پانی سے اچھی طرح دھوتے رہیں اس عمل سے آپ اپنے آپ کو تازہ دم محسوس کریں گے-

غصہ آنا : 

حاملہ عورتوں کو غصہ ضرورت سے زیادہ آتا ہے جو ہارمون کی تبدیلی کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس دوران اس پر کنٹرول کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اس سے بچائو کیلئے سبز پتوں والی سبزیوں کا استعمال زیادہ فائدہ مند ہے-

پیشاب کی زیادتی :

 حمل کے دوران اکثر عورتوں میں پیشاب کی زیادتی ہو جاتی ہے جو پیدائش کے وقت تک رہتی ہے اگر آپ کو رات کے وقت پیشاب کی زیادتی ہوتی ہے تو شام کے وقت مشروبات سے پرہیز کریں۔

جلد اور بالوں میں تبدیلی :

 ہارمون کی تبدیلی کی وجہ سے جلد کی رنگت ہلکی ڈارک ہوجاتی ہے اور معدے والی جگہ پر ہلکی ڈارک لائن بھی بن جاتی ہے حمل کے دوران عورت میں بالوں کی زیادتی ہوجاتی ہے جو کہ پیدائش کے بعد گرنے شروع ہو جاتے ہیں-

نسوں کی سوجن :

 حمل کے دوران عام طور پر عورت کے پائوں کی نسیں یا وینز سوج جاتی ہیں لیکن یہ کوئی خطرے والی بات نہیں ہے کیونکہ پیدائش کے بعد یہ اپنی اصلی حالت میں آ جاتی ہیں اس سے بچنے کے لیے زیادہ دیر تک کھڑے رہنے سے اور ٹانگوں کے اوپر ٹانگیں چڑھانے سے اور زیادہ وزنی چیزیں اٹھانے سے پرہیز کریں اور اس کے ساتھ ساتھ بیٹھنے اور سونے کے دوران اپنی ٹانگیں ہلکی سی اوپر ہونی چاہئیں۔
حمل کے دوران یہ کچھ ابتدائی تبدیلیاں ہیں۔ اگر وقت پر ان کو دور نا کیا گیا تو اس کے بعد درج ذیل بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سر درد،خون کا آنا،مسوڑھوں سے خون آنا،کمر کا درد،بلند فشار خون، بد ہضمی ، سینے کی جلن،صبح کا بخار،نکسیر، بواسیر، نیند کا نہ آنا، تھکن، جوڑھوں پر سوجن وغیرہ وغیرہ اور اس کے ساتھ اور بھی بہت سے زنانہ بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں اس لیے عورت کو حمل کے دوران اپنے کھانے کا خاص خیال رکھے ۔جتنا ہو سکے اپنی غذا میں فروٹ کا استعمال کرے اپنے آپ کو پر سکون ماحول میں رکھے زندگی کی پریشانیوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے اور اس مقصد میں اس کا خاوند بھی اس کا ساتھ دے اور اس کو ہر وہ سہولت مہیسر کرے کیونکہ یہ صرف ایک بچے کا مسئلہ نہیں ہے یہ ایک نسل کی گروتھ کا مسئلہ ہے۔
 

خاتون میں 2رحم…5کروڑ میں ایک

عام طور پر خواتین جڑواں بچوں کو تو جنم دیتی ہیں، تاہم ایسا بہت ہی کم سنا اور دیکھا گیا ہے کہ کسی خاتون کے 2 رحم (بچہ دانی) ہوں۔لیکن برطانیہ کی 28 سالہ ایک خاتون میں نہ صرف 2 رحم ہونے کا انکشاف ہوا ہے بلکہ ان کی ہر ایک بچہ دانی میں جڑواں بچے بھی پل رہے ہیں۔
جی ہاں! برطانوی اخبار دی گارجین نے اپنی رپورٹ میں ایک اور برطانوی اخبار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ برطانوی ریاست انگلینڈ کی کائونٹی اسیکس کی شادی شدہ خاتون 28 سالہ کیلی فیئرہرسٹ میں 2 رحم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق کیلی فیئرہرسٹ جب اسکین کرانے کے لیے ہسپتال پہنچیں تو ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ ان میں 2 رحم ہیں اور ہر ایک بچہ دانی میں جڑواں بچے پل رہے ہیں۔
خاتون پہلے ہی دو بچوں کی ماں ہے۔
کیلی فیئرہرسٹ 12 ہفتوں کی حاملہ ہیں اور انہیں ڈاکٹرز نے پانچ کروڑ میں سے ایک بتایا ہے، کیوں کہ ڈاکٹرز کے مطابق ایسا معجزہ ہر 5 کروڑ خواتین میں سے ایک کے ساتھ ہوسکتا ہے۔کیلی فیئرہرسٹ نے خود میں 2 رحم ہونے کے حوالے سے بتایا کہ ماضی میں بھی انہیں ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ ان میں ایک نامکمل بچہ دانی بھی موجود ہے۔خاتون کے مطابق چند سال قبل ڈاکٹرز نے انہیں بتایا تھا کہ اسکین کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ خاتون میں اندام نہانی کے نچلے حصے کی 2 تہیں موجود ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں ایک نامکمل رحم بھی ہے۔کیلی فیئرہرسٹ کے مطابق پہلے ان کے 4 سالہ اور 3 سالہ بچے ہیں اور جب ان کا دوسرا بچہ ہوا تھا تب انہیں ڈاکٹرز نے بتایا تھا کہ اسکین کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ ان میں ایک نامکمل بچہ دانی بھی ہے۔پہلے ہی کہا گیا تھا کہ میرے اندر ایک نامکمل بچے دانی موجود ہے،اور اب تین سال بعد جب وہ دوبارہ حاملہ ہوئی ہیں تب چیک اپ ہونے پر معلوم ہوا ہے کہ ان میں 2 رحم ہیں اور دونوں میں جڑواں بچے ہیں۔خاتون میں دو رحم ہونے سے متعلق سینٹ جارج ہسپتال لندن کی ماہر ڈاکٹر عاصمہ خلیل کا کہنا تھا کہ خاتون کو بچوں کی پیدائش کے وقت سیزر آپریشن کروانا پڑے گا۔عاصمہ خلیل نے بتایا کہ حمل کے دوران خواتین کے رحم میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور ان سے متعلق خواتین کو بھی کوئی اندازہ نہیں ہوتا۔عاصمہ خلیل کے مطابق مذکورہ خاتون میں حمل کے ابتدائی دن ہیں اور ان کے رحم میں موجود انڈے اور اسپرم آگے پیچھے بھی ہوسکتے ہیں، تاہم اب تک کی معلومات کے مطابق ان کے دونوں رحم میں جڑواں بچے ہیں۔