تازہ ترین

کشمیر یونیورسٹی اور انتظامی سُقم

توجہ طلب

تاریخ    2 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


انجینئر شاہ خالد
 یہ لمحہ نہایت ہی اہم اور حوصلہ افزا ہے کہ کشمیر یونیورسٹی کو حال ہی میں قومی ادارہ جاتی درجہ بندی فریم ورک 2020 کے ذریعہ ہندوستان کی پہلی 50 یونی ورسٹیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے، جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ اگر چہ اس مشہور جامعہ نے تعلیمی ترقی کے لیے کافی کوششیں کی، لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ڈگریوں کو اپنے مقررہ وقت پہ پورا کرنے میں عدم دلچسپی کا اظہار کیاجس کی وجہ سے ڈگریوں کے لیے طے شدہ مقررہ وقت گزرجانے کے بعد بھی ابھی تک طلبہ کی تعلیم پائے تکمیل تک نہیں پہنچ پائی جو یونیورسٹی کی کارکردگی پر مسلسل سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ ابتدائی مراحل میں اگر چہ طلباء مختلف تعلیمی شعبوں میں داخلہ لینے کے بعد خوشی محسوس کرتے ہیںلیکن بعد میںیونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے تعلیمی انتظامات کے سلسلے میں غفلت شعاری اور ناقص رویہ کی وجہ سے جامعہ میں داخلہ لینے کے اس فیصلے پر سخت افسوس کا اظہار کررہے ہیں، کیونکہ چار سالہ تعلیمی نصاب چھٹا سال آنے کے بعد بھی ابھی تک مکمل نہیں ہو پایا۔ امتحانات میں تاخیر، نتائج میں غفلت شعاری، سند کی اجرائی میں تاخیر ، غلط تعلیمی کیفیت کی رپورٹ نے طلباء کے ساتھ ساتھ جامعہ کے ساتھ منسلک کالج انتظامیہ کو بھی متاثر کیا۔ چوائس بیسڈ کریڈٹ سسٹم ،جسے کشمیر یونیورسٹی حکام نے 2015 تعلیمی سال سے متعارف کرایا ، جو اب اس تعلیمی نظام میں ناکامی اور تباہی کے طور پر تسلیم کیا جارہا ہے۔
 یہ بات فراموش نہیں کی جاسکتی کہ وادی کشمیر کے طلباء ،جن کا داخلہ اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی نئی دہلی (IGNOU) اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد (MANUU) میں فاصلاتی تعلیمی نظام میں ہوا تھا، انہوں نے بنا کسی تاخیر کے اپنی ڈگری مکمل کی اور اپنے مقررہ وقت پر ان جامعات سے فارغ تحصیل ہوئے۔ اگر چہ وادی کشمیر میں ناسازگار حالات کی وجہ سے جامعات میں تعلیمی تقویت میں کافی دشواریاں درپیش آئیں لیکن ان سب کے باوجود بھی ان اداروں نے بنا کسی تاخیر کے کسی طرح امتحانات وقت پر مقرر کروائے اور دیگر اسناد بھی وقت پر طلبہ کے لئے دستیاب رکھیں تاکہ ان کو آگے کی تعلیم حاصل کرنے میں کوئی دشواری درپیش نہ آئے۔
 کشمیر کی دیگر جامعات جیسے اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی اونتی پورہ ، شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچر سائنس اینڈ ٹکنالوجی شالیمار سری نگر ، سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر نے بھی اپنے امتحانات بغیر کسی تاخیر کے منعقد کروائے تاہم کشمیر یونیورسٹی ہی ہے جو کچھوے کی چال چلنے کی عادی ہوچکی ہے اور اس کے امتحانی نظام میں خامیاں اب معمول بن چکی ہیں۔گزشتہ سال ہی کشمیر یونیورسٹی کی جانب سے لیے گئے انڈر گریجویٹ امتحانات نے سب کو حیران کردیا ، کیوں کہ کشمیر کے بیشتر ڈگری کالجوں کوکچھ ہنر پر مبنی نصاب کے سوال نامے حاصل نہیں ہوئے۔ جب طلباء نے اس غفلت شعاری کے خلاف آواز اٹھائی تو کالج انتظامیہ نے کسی طرح یونیورسٹیوں کے شعبہ امتحانات سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب حاصل کی ، جنہوں نے بعد میں سماجی رابطہ کے ذریعہ سوالنامے کالجوں کو بھیج دیے۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ ان میں سے بیشتر سوالنامے تعلیمی نصاب سے بالکل باہرتھے۔
 انسانی وسائل کی ترقی کی معزز وزارت نے جامعات میں چھ ماہ کے میقات متعارف کرانے کے لئے ابتدائی طور پر تعلیمی اصلاحی نظام کا مسودہ تیار کیا تھا ، جس کی تشہیر کے لئے ہندوستان بھر کی مرکزی اور ریاستی یونیورسٹیوں کے سربراہوں کے تعاون سے تیار کیا گیا تاکہ ملک بھر کی جامعات میں تعلیم کا نظام تقویت حاصل کرے لیکن کشمیر یونیورسٹی کی سرد مہری پر یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) ، وزارت ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ (ایم ایچ آر ڈی) ، آل انڈیا کونسل برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن (اے آئی سی ٹی ای) ، نے کشمیر یونیورسٹی کے دم توڑتے  تعلیمی منظرنامے کو فروغ دینے کے لئے کشمیر یونیورسٹی کے حکام کو ہمیشہ اور بار بار مائل کیا تاہم یہ جامعہ بنیادی مقصد کو عملی جامہ پہنانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے جس کے اثرات ناقص تعلیمی نظام کے طور پر ابھر کر سامنے آرہے ہیں اور تعلیمی نصاب کی نشوونما اور تحقیق میں تخلیقی صلاحیتوں کی کوئی گنجائش بھی نہیں رہتی ہے۔ کالج امتحانات میں ہونے والی اس تاخیر کو ختم کیا جاسکتا ہے ، اگر یونیورسٹی انڈرگریجویٹ سطح پر منظم طریقے سے امتحانات کے انعقاد کے لئے خود مختار انتظامی نظام تیار کرکے امتحانات منعقد کرے جس سے یونیورسٹی پر تعلیمی بوجھ کو کم کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا یونیورسٹی انتظامیہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ماہرین تعلیم سے وقتا فوقتارجوع کرے اور اپنے تعلیمی نصاب کو مزید متحرک بنائے تاکہ جامعہ کشمیر کی شان رفتہ بحال ہوسکے۔