تازہ ترین

جَل شکتی یا جَل سختی !

محکمہ واٹرورکس کا نام بدلتے ہی پینے کاپانی غائب کیوں ہوگیا؟

تاریخ    2 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


عبدالقیوم شاہ
وزیراعظم نریندر مودی نے ایک بہترین نعرہ دیا تھا’جل بنا جیون نہیں‘۔ اس کے بعد انہوں نے سبھی خطوں اور ریاستوں میں محکمہ واٹرورکس کا نام بدل کر جل شکتی رکھ دیا۔ مدھیہ پردیش، راجستھان، کرناٹک، بنگال اور دوسری ریاستوں کے اْن علاقوں میں بھی اب پینے کا پانی مہیا کیا گیا ہے جہاں لوگ ایک ایک بوند کے لئے ترس رہے تھے۔
 لیکن کشمیر میں مرکز کے خوشگوار اعلانات کا بھی اْلٹا نتیجہ برآمد کیوں ہوتا ہے؟ جونہی کشمیر کا پی ایچ ای محکمہ جل شکتی کہلانے لگا ، پینے کے پانی کے لئے ہاہاکار نہ صرف چند علاقوں بلکہ وادی کے چپے چپے  پر گونج اْٹھی۔ مقامی اخبارات کی سرخیاں اور اداریے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وادی میں محکمہ جل شکتی اب جل سختی بن گیا ہے۔ کشمیر میں محکمہ کے 24 انجینئرنگ ڈویژن ہیں، جسکا مطلب ہے کم از کم 100ماہر انجینئراور سینکڑوں معاون اہلکار۔ 
اس کے باوجود کھنہ بل سے کھادن یار تک پینے کے پانی کے لئے لوگ پریشان ہیں۔ کئی مقامات پر خواتین خالی برتن لے کر احتجاج کررہی ہیں، کہیں بچے سڑکیں بند کرکے حکام کی توجہ اس مصیبت کی طرف مبذول کروانا چاہتے ہیں اور درجنوں رضاکار محکمے کے چکر کاٹتے ہیں لیکن افسران اْنہیں پانی کے ٹینکر مہیا کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ کشمیر میں 9870 گاوں ہیں اور سرینگر کی آبادی اب 20لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ محکمے کے پاس مشکل سے   200 ٹینکر ہیں۔ کیا ٹینکر وں کو پانی لے کر بستیوں میں دوڑانا مسلے کا حل ہے؟ 
محکمے کی کارکردگی کے بارے میں راقم نے کمشنر سیکٹری جل شکتی میں آر ٹی آئی داخل کی ہے جس میں پچھلے تیس سال کی کارکردگی اور تکنیکی سٹاف کی قابلیت اور تعلیمی اسناد کے بارے میں تفصیلی وضاحت طلب کی گئی ہے۔ محکمہ کے افسروں کی تقرریاں اور ترقیاں اْن کی کارکردگی کے ساتھ وابستہ ہوتیں تو ہزاروں کروڑ روپے کی لاگت سے بنی واٹرسپلائی سکیموں کا بیڑا غرق نہ ہوا ہوتا۔ منموہن سنگھ کے دس سالہ دورِ حکومت کے دوران ہر سال پانچ سو کروڑ روپے پینے کے پانی کی تقسیم کاری کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے واگذار کئے گئے۔ اس کا مطلب ہے کہ اْس دہائی میں  محکمے نے 5000کروڑ روپے مرکز سے حاصل کئے۔ یہ خطیررقم کہاں گئی؟ اگر اس رقم کا صحیح مصرف ہوا ہوتا تو آج وادی کی بستی بستی قریہ قریہ پینے کے پانی کے لئے پاپڑ نہیں بیل رہا ہوتا۔ 
مل شاہی باغ آلسٹینگ  میں محکمے کی پائپ اور محکمہ اری گیشن کی پائپ کا گڈمڈ ہونا اور پھر پانی کی پائپ میں شگاف پڑگیا تو مشرقی سرینگر میں سوکھا پڑ گیا ، 400 کروڑ روپے لاگت والی سْکھ ناگ بڈگام سکیم تقسیم کاری کے ناقص نظام کی وجہ سے جنوبی سرینگر اور بڈگام کے بیشتر علاقوں میں قحط پڑگیا۔ کیا چیف انجنئر صرف ریڈکشمیر پر صرف  حقائق کو توڑ مروڑ کر لوگوں کو جھوٹی تسلیاں دینے کی تنخواہ لیتے ہیں؟  افسروں کی موٹی تنخواہیں، گاڑیا، اردلی اور ٹھاٹ پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں، اور یہ پیسہ عوام کے خون پسینہ کا حاصل ہوتا ہے۔ 
ہمارے یہاں جوابدہی کا احساس جیسے رفو چکر ہوگیا ہے۔ سیاسی حکومت نہ سہی، کیا افسران یا اہم محکمہ جات کی جواہدہی کا کوئی نظام نہیں ؟  سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم نریندر مودی، وزیرمملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ اس بات سے واقف ہیں کہ مرکزی کی فلاحی سکیموں کو کس طرح یہاں کے افسر کوڑے دان کی نذر کردیتے ہیں؟ اگر نہیں ہیں تو وقت کا تقاضا ہے کہ کشمیر کا ہر حساس شہری مرکزی حکومت کو یہاں کے غافل اور نااہل  افسروں کی کارکردگی کے بارے میں آگاہ کرے۔ 
(کالم نویس سنیئر سماجی کارکن ہیں، رابطہ9469679449 ،abdulqayoomshah57@gmail.com )