تازہ ترین

! وادیٔ گلوان سے کشمیر تک | تماشائے اہلِ سِتم دیکھتے ہیں

شورِ نشور

تاریخ    30 جون 2020 (00 : 03 AM)   


شاہ عباس
جب جنوب ایشیا کی دو بڑی طاقتیں لداخ کی گلوان وادی میں ایک دوسرے کے ساتھ ہتھیاروں کے بغیر نبرد آزما تھیں، ٹھیک اُسی وقت پاکستان کی درخواست پر ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ گروپ کے ورچیول اجلاس میں کشمیری عوام کی’’ جدوجہد‘‘ کی ایک بار پھر روایتی حمایت کا اعلان کیا گیا۔او آئی سی کا یہ روایتی اعلان اس بات کا غماز ہے کہ خطے میں موجود کشمیر مسئلہ اہمیت کا حامل ہے  اور دنیا کے کئی ممالک کی خارجہ پالیسیاں اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔اور تو اور چینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک چھوٹے سے ویڈیو میں بھی وہاں کے خارجہ سیکریٹری کو جموں کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔ 
تین ایٹمی طاقتوں کے درمیان واقع جموں کشمیر کا خطہ کئی طرح کے پیچیدہ مسائل سے دوچار ہے اور ہر مسئلے کی بنیاد سیاست میں پیوست ہے۔یہاںہر طرف انسانی خون بہہ رہا ہے، چاہے وہ جنگجوئوں کا ہو، فورسز اہلکاروں کا ہو یا پھر عام شہریوں کا جو جنگجوئوں اور فورسز کے مابین معرکہ آرائی کی زد میں آتے ہیں یا کبھی کبھی مخبری کے نام پر مارے جاتے ہیں۔شہری ہلاکتوں کی تازہ مثال ماچھوا کولگام کے کمسن نیہان بٹ کی ہے، جو جنوبی کشمیر کے بجبہاڑہ میں 26جون کو جنگجوئوں اور فورسز اہلکاروں کی طرف سے چلائی جانے والی گولیوں کے بیچ آکر زندگی کھوبیٹھا۔ننھے نیہان کے والد کو کیا پتہ تھا کہ اُس نے اپنے لخت جگر کو گولیوں کا نشانہ بننے کیلئے صبح گھر سے اپنے ساتھ لیا تھا۔ایسے نہ جانے کتنے نیہان اپنے والدین کو نہ ختم ہونے والا درد دے بیٹھے ہیں۔کشمیر میں تعینات فورسز اہلکاروں کے پیارے بھی ہر دم اُن کی فکر میں رہتے ہیں اور اُنہیں بھی آئے دنوں اپنے کمائوں کی لاشیں وصول کرنی پڑرہی ہیں۔ 
 ایسے میں لداخ کی گلوان وادی اور اس کے نزدیکی علاقہ میں بھارت اور چین کے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں فورسز اہلکار وں کے ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے رہنے سے جو حالات بن رہے ہیں، اُن کی وجہ سے بھڑکنے والی آگ میں صرف مذکورہ اہلکار ہی نہیں بلکہ پورا خطہ جھلس سکتا ہے۔پھر خطے کا ایک اور نیوکلیائی ملک پاکستان بھی موقعے کی تلاش میں بیٹھا ہے جس سے خطے کی کشیدگی میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔سیاسی و دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ جس بھارت اور چین کے مابین سرحدی تنازع کی وجہ سے صورتحال اس حد تک خراب ہوسکتی ہے کہ دونوں طرف ایک گولی چلے بغیر بھی بھارت کے20اور چین کے نامعلوم فوجی اہلکار لقمہ اجل بن جائیں، اگر پاکستان کے ساتھ بھارت کی مخاصمت بڑھ جائے تو حالات کتنا سنگین رُخ اختیار کرسکتے ہیں؟ 
 اگر چہ نئی دلی چین کے ساتھ جاری سرحدی کشیدگی کو ’ معمولی‘ قرار دینے میں ایڑی چوٹی کا زور لگارہا ہے لیکن غیر جانبدار اطلاعات میں بتایا جارہا ہے کہ چین نے اپنی سرگرمیاں گلوان وادی سے دپسانگ کے میدانی علاقہ تک شروع کی ہیں ۔یہ وہی علاقہ ہے جہاں بھارتی فضائیہ کی ایک پٹی ، دولت بیگ اولڈی،بھی موجود ہے جودفاعی اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ گلوان وادی سے شروع ہونے والی کشیدگی کو پینگاگ جھیل کا پانی ٹھنڈا نہیں کرسکا ہے، بلکہ چین اس کے پانی میں اپنی فوجی کشتیاںدوڑا کر کچھ اور ہی عندیہ دے رہا ہے۔ 
یہاں وادی کشمیر میں دم بخودعوام حیران و پریشان ہیں کہ آخر اُن کے ارد گرد ہونے والی ان خوفناک سرگرمیوں کا اُن پر کیا اور کتنا اثر پڑسکتا ہے؟ اہل وادی اگست2019سے حالات کی مار جھیل رہے ہیں۔ اس دوران تاجر انجمنوں کے مطابق یہاں کی تجارت کو کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کا ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ یہاں کے طالب علم اُس آن لائن تعلیم سے بھی محدود استفادہ ہی کر پارہے ہیں جس کا چلن گذشتہ کچھ ماہ سے پوری دنیا میں رائج ہے کیونکہ اس خطہ ارض میں گذشتہ گیارہ ماہ سے فور جی انٹر نیٹ سروسز پر مسلسل پابندیاں عائد ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہاں اس جدید انٹر نیٹ سہولیت کو بھی ’’قومی مفاد‘‘ کے تناظر میں ہی دیکھا جارہا ہے۔ باالفاظ دیگر یہاں کے عوام کو لاک ڈائون میں بھی لاک ڈائون کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے اُن کی زندگی کا ہر شعبہ بے حد متاثر ہورہا ہے۔
ستم بالائے ستم یہ کہ خطے میں چین سمیت کئی ممالک اپنی اپنی بالا دستی قائم کرنے کیلئے سرگرداں ہیں اوراس کیلئے سب کو جموں کشمیرہی میدان عمل نظر آرہا ہے۔خطے کا چودھری بننے کی اسی دوڑ کا نتیجہ ہے کہ نیپال جیسا ملک بھی اب کھل کرمیدان میں کود پڑا ہے جس سے ایک بہت بڑے ٹکرائو کیلئے ماحول تیار ہورہا ہے اورجس کا اولین متاثر معلوم وجوہات کی بنا پرجموں کشمیر کے عوام کو ہی بننا پڑے گا۔خطے کے نیوکلیائی ممالک کے مابین جاری کشیدگی کی وجہ سے جو صورتحال بن رہی ہے اُس کو دیکھتے ہوئے دفاعی ماہرین جموں کشمیر کو نیا محاذ جنگ قرار دے رہے ہیں ۔ بالفاظ دیگر خطے میں اپنی چودھرہٹ قائم کرنے کی دوڑ میں جموں کشمیر کے عوام کو ہی اولین تختہ مشق بننا پڑسکتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے ’جموں کشمیر‘کا احاطہ کیا جائے تو یہ تین صوبوں پر مشتمل ہے، صوبہ جموں ، صوبہ کشمیر اور صوبہ لداخ ۔ گذشتہ برس چونکہ جموں کشمیر کو تقسیم کرکے محض دو خطوں یعنی کشمیر اورجموں تک محدود کیا گیا لیکن یہ بات اپنی جگہ موجود ہے کہ تاریخی جموں کشمیر کا حوالہ دیتے وقت کنٹرول لا ئن کے آر پار والے سبھی خطے مقصود ہوتے ہیں اور اس میں لداخ بھی شامل ہوتا ہے۔ 
وفاقی وزیر داخلہ امت شاہ پہلے ہی پارلیمنٹ میں اس بات کا اعلان کرچکے ہیں کہ ’’پاکستانی مقبوضہ کشمیر ، گلگت بلتستان اور اکسائے چن کے علاقے پاکستان اور چین سے واپس چھین لئے جائیں گے‘‘۔ادھر پاکستان بھی اپنی روایتی’’شہ رگ‘‘ پالیسی پر ڈٹا ہے اور تو اور چین لداخ کی سرحدوں پرفوجی سرگرمیوں کے ذریعے اپنے عزائم کا عملی مظاہرہ کرنے میں مصروف ہے۔ 
ایسی صورتحال میں کشمیری عوام کا فکر و تشویش میں مبتلاء ہونا ایک قدرتی امر ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ آگ و آہن کے کھیل میں کس طرح انسانی جانوں کا زیاں ہوتا ہے اور وہ کس قدر تکلیف دہ ہوتا ہے۔وہ جانتے ہیں کہ موت کے ننگے ناچ سے کس طرح یتیموں اور بیوائوں کی فوج تیار ہوتی ہے اور کس طرح خاندانوں کے خاندان نان شبینہ کے محتاج ہوتے ہیں۔ اُنہیں اقتصادی نقصانات کا عملی تجربہ بھی ہے اور اس سے پیدا ہونے والی مشکلات کا علم بھی ۔وہ خاکستر میں تبدیل آشیانوں سے واقف ہیں اور اُن میں راکھ ہونے والے خوابوں کے بارے میں بھی اچھی طرح سے باخبر ہیں۔ اہل کشمیر کا ہر خدشہ اپنی جگہ درست ہے کیونکہ انہوں نے جہلم میں بہتی انسانی لاشیں دیکھی ہیں اور وہ یہاں چلنے والی ہوا میں انسانی خون کی بُو کو بھی سونگھ سکتے ہیں۔وہ سیاسی سازشوں کا علم بھی رکھتے ہیں اور جذبات بھڑکانے والے نعروں سے  بھی واقف ہیں۔اُنہوں نے جمہوریت کی نیلم پری کا ناچ بھی دیکھا ہے اور تسلیوں کے سبز باغ بھی،ترقیوں کے سہانے سپنے بھی سجائے ہیں اور سختیوں کے تیر بھی جھیلے ہیں۔وہ غیروں کے ساتھ ساتھ اپنوں سے بھی لٹے ہیں اور اُنہوں نے وہ سب کچھ سروں کی آنکھوں سے دیکھا ہے جس کو دنیا میں آزمائشوں اور ابتلائوں سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
 

تازہ ترین