تعمیراتی مواد کی قیمتوں میں اضافہ تشویشناک:کارڈی نیشن کمیٹی

غیر مقامی کمپنیوں کو تفویض کئے گئے کام واپس لینے کا مطالبہ

تاریخ    30 جون 2020 (00 : 03 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// لاک ڈائون کے بیچ تعمیراتی موادکی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کو غیر مقامی تاجروں کو خوش کرنے کا فن قرار دیتے ہوئے ٹھیکیداروں کے مشترکہ پلیٹ فارم سینٹرل کنٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی نے سرکار کو متنبہ کیا کہ اگر غیر مقامی ٹھیکیداروں کو تفویض کئے گئے کام واپس نہیں لئے گئے تو5لاکھ لوگ فاقہ کشی کا شکار ہونگے۔سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کارڈی نیشن کمیٹی کے جنرل سیکریٹری فاروق احمد ڈار نے کہا کہ تعمیراتی مواد کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور عام شہریوں کی قوت برداشت سے باہر ہوگئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریت،باجری اور دیگر میٹریل کی قیمتوں میں اضافع حیران کن ہے،جس کے نتیجے میں تعمیراتی پروجیکٹ بند ہونے کی دہلیز پر ہیں۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ ریت کی قیمت11ہزار جبکہ باجری کی قیمت7500تک پہنچ گئی ہے،جس سے نہ صرف ٹھیکیدار بلکہ عام شہری بھی سخت پریشان ہیں۔فاروق ڈار نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ غیر مقامی کمپنیوں اورمافیاکو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ از خود قیمتوں میں اضافہ کریں،جس کی وجہ سے ہزاروں کنبوں کو فاقہ کشی کا سامنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ بھاری مشینری استعمال کرنے سے آبی حیاتیات اور ماحولیات پر جو منفی اثرات مرتب ہونگے،اس کو بھی نظر انداز کیا گیا۔تعمیراتی مواد کی قیمتوں میں اضافہ کو ایک اور معیشی جنگ قرار دیتے ہوئے انہوںنے مشیروں اور انتظامی امورات کے اعلیٰ افسران س کہا کہ اگر اس مسئلے کو سلجھانے میں تاخیر کی گئی تو تعمیراتی پروجیکٹوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کے علاوہ عام شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پریس کانفرنس میں عمر جاوید،اشفاق احمد خان اورمحمد رفیق وانی بھی موجود تھے۔
 

تازہ ترین