تازہ ترین

وائل پارک کی حالت ناگفتہ بہ

۔2013 میں دو کروڑ کی لاگت سے تعمیر کی گئی تھی

تاریخ    30 جون 2020 (00 : 03 AM)   


ارشاد احمد
گاندربل//وائل گاندربل میں 2013 کے دوران نالہ سندھ کے کنارے پر لگ بھگ دو کروڑ روپے کی لاگت سے فاروق عبداللہ انوائرانمنٹ پارک تیار کرکے عوام کے نام وقف کی گئی جو محکمہ کی عدم توجہی اور لاپرواہی سے تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ 2010 میں محکمہ جنگلات کے ماحولیات شعبہ نے 40 کنال سرکاری اراضی پر اس پارک کو تعمیر کرنا شروع کردیا جسے دو سال کے عرصے میں لگ بھگ دو کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا۔پارک تعمیر کرنے کے دوران اس بات کا خیال رکھا گیا کہ یہاں آنے والے لوگ نالہ سندھ کی ٹھنڈی ہوائوں اور تیز بہاو والے پانی سے لطف اندوز ہوسکیں۔ 2013 میں اسے عوام کے نام وقف کیا گیا اورپارک کے رکھ رکھاؤ اور تجدید کے لئے محکمہ ماحولیات کو ذمہ داری سونپی گئی۔ پارک میں گاندربل کے ساتھ ساتھ دیگر اضلاع سے بھی لوگ کافی تعداد میں آتے تھے۔کوروناوائرس نے جہاں عالمی سطح پر تباہی مچائی وہیں اس پارک کو بھی محکمہ نے نظرانداز کردیا۔نہ گھاس کو پانی دینے کی سہولیات میسر ہیں اور نہ ہی پارک کی دیکھ بھال ہورہی ہے جس کے نتیجے میں پارک تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ رہی سہی کسر محکمہ جیالوجی اینڈ مائیننگ نے پوری کردی جنہوں نے پارک کے کنارے لوگوں کو ریت اورباجری نکالنے کی اجازت دی۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ نالہ سندھ کے کنارے ریت اور باجری نکالنے والوں نے پارک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ۔ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل شفقت اقبال نے بتایا ’’ہم نے پارک کے کنارے نالہ سندھ سے ریت اورباجری نکالنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی ہے اور محکمہ جیالوجی اینڈ مائیننگ کے ملازمین کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی انجام دی جائے گی‘‘ ۔