کراچی کے تجارتی مرکز‘پاکستان اسٹاک ایکسچینج‘ پر حملہ | 4حملہ آور ، سب انسپکٹر سمیت 11 افراد ہلاک ،8منٹ میں عمارت کی کلیئرنس کی گئی :فوج

تاریخ    30 جون 2020 (00 : 03 AM)   


یو این آئی
سرینگر//پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے تجارتی مرکز’پاکستان اسٹاک ایکسچینج‘پر سوموار کی صبح نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں پولیس افسر سمیت متعدد افراد ہلاک جب کہ جوابی کارروائی میں 4 حملہ آور مارے گئے ہیں۔کراچی پولیس اور سندھ رینجرز کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث تمام ملزمان کو محض 8 منٹ میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دستی بم حملے اور فائرنگ سے سب انسپکٹر سمیت 3افراد جاں بحق ہو گئے جب کہ 4حملہ آئورمارے گئے۔اے آر وائی نیوز کے مطابق سوموار کی صبح پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر کاروباری ہفتے کے پہلے روز شدت پسندوں نے دستی بم کے ساتھ حملہ کیا، جسے اسٹاک ایکسچینج میں تعینات پولیس اہل کاروں اور سیکورٹی گارڈز نے ناکام کرتے ہوئے چاروں حملہ آوروں کو مار دیا، واقعے میں سب انسپکٹر شاہد اور2سیکورٹی گارڈز سمیت 7افراد ہلاک ہو گئے جب کہ 7 اہلکار زخمی ہوئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ جوابی فائرنگ میں چار حملہ آئور مارے گئے ہیں، حملہ آوروں نے10 بج کر5 منٹ پر پانچ سے7 منٹ تک فائرنگ کی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا، جب کہ زخمیوں کو سِول اسپتال کراچی منتقل کیا گیا، ڈاکٹر خادم قریشی کا کہنا تھا اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آئورنیلے رنگ کی کرولا کار میں آئے، چار حملہ آئوروںنے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہوئے فائرنگ کی، تاہم سیکورٹی اہلکاروں نے جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور کو گیٹ پر ہی مار دیا اور حملہ آئوروں کو عمارت کے اندر داخل نہیں ہونے دیا۔حملہ آئوروں سے برآمد ایمونیشن کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ وہ بڑی کارروائی کی غرض سے آئے تھے، ان کے پاس جدید ہتھیار، رائفل، کلاشن کوف، اور ہینڈ گرینڈز موجود تھے، تاہم سیکورٹی گارڈز نے ان کا حملہ ناکام بنایا۔ماہر معاشیات مزمل اسلم نے اے بتایا کہ اسٹاک مارکیٹ کی عمارت میں حملے کے وقت 2 ہزار کے قریب لوگ موجود تھے، کچھ دیر قبل اچانک پہلے فائرنگ ہوئی اور پھر ٹریڈنگ ہال کے باہر دستی بم حملے کی اطلاع ملی۔ انہوں نے کہا یہ ہائی سیکورٹی زون ہے، یہاں حملہ ہونا حیران کن ہے۔علاقے کی فضائی نگرانی سمیت پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت میں سرچ اینڈ کلیئرنس کی گئی۔ایک رپورٹکے مطابق حملے کے باوجود پی ایس ایکس 100 انڈیکس میں61 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جب کہ انڈیکس34000 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جب کہ سیکورٹی صورت حال کنٹرول میں ہے۔کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن اور ڈائریکٹر جنرل سندھ رینجرز میجر جنرل عمر احمد بخاری نے نیوز بریفنگ کے دوران بتایا کہ ایک کار میں سوار چار حملہ آور کراچی اسٹاک ایکسچینج کے پارکنگ ایریا پر صبح دس بج کر دو منٹ پر پہنچے۔ڈی جی رینجرز سندھ کے مطابق پولیس اور رینجرز نے مشترکہ کارروائی میں8 منٹ میں حملہ آئوروںکو اسٹاک ایکسچینج کے داخلی راستے پر ہی مار ڈالا اور اْنہیں اہداف حاصل کرنے نہیں دیے۔میجر جرنل عمر احمد کے بقول پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے اور دو برس قبل چین کے قونصل خانے پر ہونے والے حملے میں مماثلت ہے۔کراچی پولیس چیف غلام نبی مہمن کا اْس موقع پر کہنا تھا کہ بہتر رسپانس کی وجہ سے حملہ آئور اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ حملہ آئوروںکے نیٹ ورک کے کچھ لوگوں کو پہلے پکڑا جا چکا تھا جن کے سہولت کار اب بھی موجود ہیں۔عالمی خبر رساں اداروں جن میں بی بی سی وغیرہ شامل ہے ،نے اپنی رپورٹس میں بتایا کہ دوسری جانب بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ایک ٹوئٹر اکائونٹ نے کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ’بی ایل اے‘ سے منسلک ٹوئٹر اکائونٹ سے جاری ٹوئٹ میں حملہ کرنے والے چار مبینہ مسلح افراد کی تصاویر جاری کی ہیں اور کہا ہے کہ بی ایل اے کی مجید بریگیڈ کے ارکان نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کیا ہے۔
 

تازہ ترین