تازہ ترین

۔59چینی موبائل ایپلی کیشنز پر پابندی عائد

مرکزی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی طرف سے حکم نامہ جاری

تاریخ    30 جون 2020 (00 : 03 AM)   


نیوز ڈیسک
نئی دلی // بھارت نے ٹک ٹاک اور یو سی برائوزر سمیت چین کے 59موبائل ایپلی کیشنوں کو ملک کی یکجہتی، سالمیت اور سیکورٹی کیلئے خطرہ قرار دیکر ان اپلیکیشنوں پر پابندی عائد کردی ہے۔لداخ سرحد پر چین کے ساتھ جاری پر تنائو صورتحال کے پیش نظر WeChat ، Bigo Live،Helo, Likee, Cam Scanner, Vigo Video, Mi Video Call،Xiaomi, Clash of Kings  اور تجارت کیلئے استعمال ہونے والی اپلیکیشن Club Factory اور shein پربھی پابندی عائد کی گئی ہے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے اپنے بیان میںکہا ہے کہ مختلف ذرائع سے یہ شکایت موصول ہوئی ہیں کہ Android اورiOS   پلیٹ فارموں پر ان اپیلیکیشنوںکا غیر قانونی استعمال ہورہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام اپلیکیشنز مواد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ غیر قانونی طریقے سے منتقل کرنے میں استعمال ہورہی ہیں جن کی وجہ سے بھارت کی یکجہتی اور سالمیت کو خطرہ لاحق ہے ، اس پر سنجیدگی اور جلدی سے اقدامات اٹھانے کی ضرورت تھی۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے کہا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے سیکشن 69Aکا استعمال کرکے 59اپلیکیشنز کو بند کرنے کا حکم جاری کیاگیا ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں موبائل اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والے کروڑوں لوگوں کے مفادات کو تحفظ دینے کیلئے بھارت کی سائبر سپیس کو بچانے کیلئے لازمی تھا۔ وزارت داخلہ کے انڈین سائبر کرائم کارڈنیشن سینٹر نے اپنی سفارشات میں ان اپلیکیشنوں پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی تھی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان وجوہات اور تازہ جانکاری کی بنیاد پر ان اپلیکیشنوں کو بھارت کی ایکجہتی اور سالمیت کے لئے خطرہ قرار دیا گیا ہے جس کے بعد مرکزی سرکار نے ان موبائل اپلیکیشنوں کا استعمال موبائل اور دیگر چیزوں میں استعمال کرنے پر پابندی عائد کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے  130کروڑ لوگوں کے مفادات اور ملکی سالمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان اپلیکیشنوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ 
 

لداخ حقیقی کنٹرول لائن ٹکرائو

فوجی کمانڈروں کی آج تیسرے دور کی بات چیت

نیوز ڈیسک
 
نئی دہلی // لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر  بھارت اور چین کے درمیان ٹکرائو کی صورتحال کی شدت کم کرنے کیلئے آج دونوں ملک فوجی سطح پر تیسرے دورکی بات چیت کریں گے۔یہ بات چیت بھی کور کمانڈر سطح پر کی جائیگی جس طرح 22جون کو ہوئی تھی۔یہ بات چیت مشرقی لداخ میں چوس ہل سیکٹر میں ہوگی اور اسکے لئے دونوں ملکوں کی فوجی قیادت نے ٹکرائو کی صورتحال کی شدت میں کمی لانے کیلئے مختلف امورات کو زیر غور لانے کا فیصلہ کیا ہے۔چوس ہل سیکٹر میں حقیقی کنٹرول لائن پریہ تیسرے دور کی بات چیت ہوگی، جو صبح ساڑھے 10بجے شروع ہوگی۔اس سے قبل دو میٹنگیں مولڈو میں چینی خطے میں ہوئی تھیں۔22جون کو دوسرے دور کی بات چیت میں دونوں ملک اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ ٹکرائو کے مقامات پر صورتحال کی شدت کو کم کیا جائے۔آج ممکنہ طور پر دونوں ملک اس بات پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کریں گے کہ اس معاہدے کو کیسے عملایا جائے۔بات چیت میں بھارتی وفد کی قیادت 16ویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ہریندر سنگھ جبکہ چینی وفد کی قیادت تبت ملٹری ڈسٹرکٹ کے کمانڈر کریں گے۔یاد رہے گلوان وادی میں دونوں ملکوں کی افواج آمنے سامنے ہے اور چین نے وادی میں نہ صرد پختہ تعیمرات کھڑا کی ہیں بلکہ ہیلی پیڈ اور بھاری جنگی سازوسامان بھی پہنچایا ہے۔
 

تازہ ترین