تازہ ترین

فداؔ راجوری

ایک اچھے اور سچے شاعر

تاریخ    28 جون 2020 (00 : 03 AM)   


حسن انظر
24؍ جون2020کو اس جہانِ فانی سے رُخصت ہونے والے فداؔ راجوری اردو، کشمیری اور پہاڑی کے ایک اچھے اور سچے شاعر و ادیب تھے۔ میں اُن سے زندگی میں باالمشافہ ملاقات نہ کرسکا لیکن اُن کی تخلیقات کے ذریعے زمانہ طالب علمی سے ہی اُن سے متعارف رہا ہوں۔
میں1977تا1979علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا اور اُن دنوں وہاں سے ابوالکلام قاسمی(جو بعد میں داڑھی منڈاتے ہی پروفیسر بھی ہوگئے) نے ایک خوبصورت سا ادبی رسالہ ’’الفاظ‘‘ نکالنا شروع کردیا تھا۔
اس میں علی گڑھ سے تعلق رکھنے والے شعراء کا خاص طور سے اور دہلی وغیرہ والوں کا کلام بھی ترجیحی طور پر چھپتا رہتا تھا۔ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے جن دوچار شعراء کو اُس میں جگہ ملتی رہتی تھی اُن میں حامدیؔ کاشمیری کے ساتھ ساتھ شہبازؔ راجوروی اور اُن کے برادر اصغر فداؔ راجوروی بھی شامل تھے۔ لیکن حیرانی کی بات ہے کہ بعد میں تو ادبی تنظیموں کے طفیل اور سوشل میڈیا کے بال و پر کا استعمال کرکے ریاست سے اور خطۂ پیرپنچال سے بھی بہت سارے لوگ شہرت پاتے رہے لیکن فداؔ راجوروی اور شہبازؔ راجوروی کسی گوشۂ گمنامی میں ہی مطمئن دکھائی دینے لگے۔ اب اُن کے چلے جانے پر لازمی محسوس کرتا ہوں کہ اُن کی اچھی اور سچی شاعری کا ایک مطالعہ اور تجزیہ پیش کروں۔ 
سردست اس مضمون میں اُنکی اردو شاعری تک ہی اپنی بات محدود اور مرکوز رکھوں گا۔
کسی انگریزی نقاد نے بہت خوب کہا ہے کہ ایک شاعر بہرصورت وہی کہتا ہے جو اُس کے اندر موجود ہو۔ گویا ٹی ایس ایلیٹ وغیرہ کے اس خیال کے باوجود کہ ہمیں شاعری کو شاعر سے الگ کرکے ہی دیکھنا اور پرکھنا چاہئے، عملی طور پر ہمیں شاعری اور شاعرکی اصل شخصیت دونوں کو سمجھنے کی ضرورت پڑ ہی جاتی ہے۔ میرؔ و غالبؔ کی شاعری کو کیا خاک سمجھا جائیگا اگر اُن کے حقیقی سوانحی حالات اور اُس دورِ پُرآشوب کو ملحوظ نظر نہ رکھا گیا ہو۔ ہمارے پیارے دوست اسعدؔ بدایونی مرحوم نے پروفیسر حیات عامرؔ کے شعری مجموعہ ’’سیاہ شب کی کہانیاں‘‘ پر 2003میں برملا لکھا تھا کہ اگر شاعری کسی شاعر کی سوانح حیات بھی ہوسکتی ہے تو حیات عامرؔ کی شاعری پر ایسا ضرور صادق آجاتا ہے۔ آج میں بھی فداؔ راجوروی کی شاعری کو اُن کی پاکیزہ سوچ اور شریفانہ کردار کا ترجمان کہنے میں غالباً حق بجانب ہوں کیوں کہ اس میں ہمیں معاصرزندگی اور سماجی حالات کا بھی بھر پور عکس ملتا ہے اور شاعر کی شخصیت کے کئی توجہ طلب پہلو بھی نظر آجاتے ہیں۔
2014ء میں شائع ہونے والے اُن کے پہلے اردو شعری مجموعہ کی ابتدائی حمدیہ نعتیہ تخلیقات کو ہی لے لیجئے۔ تمام معاصر شعراء میں انکو اُن دو تخلیقات کی بنیاد پر بھی ایک منفرد حیثیت حاصل ہوجاتی ہے۔ ترقی پسند تحریک، جدیدیت اور پھر مابعد جدیدیت جیسی مغربی دنیا سے در آنے والے تنقیدی اور فکری رجحانات وغیرہ کو اپنی اپنی بساط کے مطابق قبول کرتے ہوئے ہمارے اکثر معاصر شعراء کو تو شعری مجموعوں کی بسمہ اللہ کے لئے عقیدتی اشعار کی روایت تک غیرضروری محسوس ہونے لگی تھی۔ لیکن فداؔراجوری جیسے راسخ العقیدہ شعراء سے خوب صورت روایت کو ترک کرنے پر کبھی آمادہ ہی نہیں ہوسکتے تھے۔ پھر یہ بھی ہے کہ علم دین حاصل نہ ہونے یا بہت کم ہونے کے باعث ہمارے کتنے ہی شعراء تو حمدونعت کے نام پر تخیل کے ایسے گھوڑے دوڑاگئے ہیں کہ پڑھنے والوں کو کوفت اور تردّد بھی ہوجانے لگتا ہے۔ کم فہمی یا مناسب پاسِ ادب کا خیال رکھتے ہوئے کئی شعراء نے خالق ومخلوق یا عبدومعبود کے باہمی فاصلے کو ہی ختم کیا ہے اور ارضی حُسن وعشق کے مطابق ہی اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کے ساتھ طرزِ مخاطب بھی اکثر وبیشتر اختیار کیا ہے۔ لیکن فداؔ راجوری یہاں بیحد محتاط اور باہوش نظر آتے ہیں اور مثال بن جاتے ہیں۔ ’’شہردل‘‘ میں ترکاًدرج واحد نعتِ شریف کے یہ چند اشعار میرے دعویٰ کی تصدیق کرنے کے لئے شاید کافی ہیں۔
مدّاحِ رب ہیں آپ اور ممدوحِ دوسَرا
اک بے مثال شاہد وشاہکار آپؐ ہیں
جوکچھ ملا جہاں کو مِلا آپؐ کے طفیل
بزمِ جہاں کے سیدِ ابرار آپؐ ہیں 
مخلوق کا تو مالک ومختار ہے خدا
کون ومکان کے مگر غم خوار آپؐ ہیں
یہ اشعار عقیدے اور عقیدت کا بھر پور خیال رکھنے کی ایک واقعی مثال کہلاسکتے ہیں۔
فداؔراجوری کا اصل نام عبدالرشید نائیک تھا۔ آپ کا مطالعہ اور مشاہدہ بہت وسیع اور گہرا تھا لیکن آپ فیشن پرستی کے قائل نہیں رہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی شاعری میں وہ جدیدیوں والی غیر ضروری ندرت طلسم سازی ملتی ہے اور نہ روایتی غزلیہ شاعری کے چبّے چبائے اور بار ہا ودہرائے گئے الفاظ وعلائیم کا استعمال ہی ملتا ہے۔ اس شاعری میں ایک سادگی اور تازگی نظر آتی ہے جو دیکھنے میں بھی اور سمجھنے میں بھی بہت اچھی لگتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہہ سکتے ہیں کہ انکی شاعری پہلی ہی سماعت میں شاعر اور قاری یا سامع کے درمیان ایک مکالمہ شروع کردیتی ہے، کوئی بلاوجہ مشکل پسندی یا ابہام گوئی نہیں ملتی عروض و اوزان کے اعتبار سے بھی مجموعی طور پر مہارت ملتی ہے۔ وہ جو بقولِ راحت اندوری لفظوں کھینچ کھینچ کر وزن برابر کرنے والے مشاعروں والے شعراء کی عادت ہے یا گردن کو کھینچ کر وزن پورا کرنے کی بات ہے ،فداؔراجوری کے یہاں تقریباً ناپید ہی ہے۔ تو اس تمہید کے بعد اب چند غزلیہ اشعار بھی ملاحظ فرمادیجئے۔
بے مکانی تھی مکاں کوئی نہ تھا
تھا قفس یا آسماں کوئی نہ تھا
ہم کلامی تھی درودیوار سے
گھر میں اپنے ہم زباں کوئی نہ تھا
دفن سارے گھر کے آنگن میں ہوئے
خواب کیا چُنتا، فداؔ اچھا کوئی 
وفا، احساس، ہمدردی ،مروت
پرانے لوگ، کچھ کہتے رہے ہیں
گھروندوں میں ہوئی ہے زندگی بند
گئے کُنبے ،قبیلے اور ٹھکانے
فداؔ راجوروی کی اردو شاعری میں زندگی کے ساتوں رنگ کہیں کم کہیں زیادہ نظر آتے ہیں۔ فطرتاً امن اور انصاف پسند شاعر کو رواں دور کے پریشان کُن حالات کا نہ صرف بھر پور احساس ہے بلکہ اُس احساس کو اپنے شعروں میں بھی خوب ڈھالتے ہیں ۔مثلاً
کوئی منظر نگاہوں میں نہیں ہے
کوئی خوشبو ہوائوں میں نہیں ہے
یہ انسانوں کی دنیا ہے یہاں پر
کوئی بھی خیر خواہوں میں نہیںہے
شاید کوئی سراغ ملے پھر بہار کا
ہر شاخِ گُل قریب سے یوں تاکتا ہوں میں
دائیں بائیں یار دوستوں کی ریاکاریاں دیکھ کر بے اختیار کہہ اُٹھے ہیں۔ ؎
شاخ پر آکے چہک جائیں اگر زاغ و زغن
اُن کی خاطر بھی لکھا کرتے ہو سہرے لوگو!
ہندوستان اور پاکستان کی باہمی رسہ کشی اور کشمیری قوم پر اُس کے ناگفتہ بہہ اثرات کیطرف بھی کہیں واضح طور پر تو کہیں اشاروں کنایوں میں خوب اشارے کئے ہیں۔ مثلاً یہ اشعار    ؎
دھوپ سہمی ہوئی چناروں میں
موت کی چُپ ہے ان بہاروں میں
سب اُداسی نگل کے چُپ وادی
جاگ اُٹھی فداؔ اشاروں میں
مانگی عزت، جواب تھا گولی!
حوصلہ کیا ہے شہریاروں کا
وہ تو پل بھر کا باسی تھا رخصت ہوا
آگ پر رکھ گیا سارے گھر شہر میں
شام سائے سمیٹے فداؔ آگئی
ہوگئیں بجلیاں تیز تر شہر میں
مضموں کا اختتام فداؔ راجوروی کے اس قطعے کو پیش کرتے ہوئے کرتا ہوں  ؎
کبھی بے رُت نہیں آئی بہاریں
گئے موسم کو اب ہم کیوں پکاریں
جو ہے موجود برگ و بار کوئی
اُسی کو تازہ دم رکھیں سنواریں
���
بمنہ سرینگر،موبائل نمبر؛9419027593