بچپن

افسانہ

تاریخ    28 جون 2020 (00 : 03 AM)   


پرویز یوسفؔ
وہ ایک معمول کا دن تھاہر روز کی طرح میں اپنے کمرے میں بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھاکہ اچانک مجھے احساس ہوا کہ یہاںکسی چیز کی کمی ہے۔کچھ دیر سوچتے سوچتے مجھے یاد آیا کہ نازیہ اور خالدہ کے بچے، جو ہر روز میری کھڑکی کے ٹھیک سامنے کھیلا کرتے تھے ،آج وہاں نہیں تھے ۔ دراصل یہ اُنھیں کے شوروغُل کی کمی تھی جو مجھے تھوڑی دیر پہلے محسوس ہوئی تھی ۔نازیہ اور خالدہ اصل میں جٹھانی تھیں دونوں کے بچے اکثر ہمارے آنگن میں کھیلا کرتے تھے ،حالانکہ دونوں بچوں کے گھر میں بھی ایک سندر سا باغیچہ تھا وہ چاہتے تو وہاں بھی کھیل سکتے تھے۔مگر یہ بچے ان سب چیزوں کو کہاں دیکھتے ہیں ،ان کے کھیل کود اور اُتھل پتھل کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے لیے کوئی چیز رُکاوٹ بن جاتی ہے ۔بچے اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہیں اور شائد اسی آزادانہ زندگی کا نام ’’بچپن ‘‘ہے۔خیر !میں اپنے کمرے سے باہر نکل کر سیدھے ہی اماں کے پاس گیا اور بچوں کے نہ آنے کے بارے میں پوچھا مگر انھیں بھی اس بات کا کوئی علم نہ تھاکہ یہ بچے کیوں نہیں آئے۔نہ جانے کیوں مجھے ان بچوں کا نہ آنا عجیب سا لگا ۔مگر کچھ دیر کے بعد میرا اس بات سے ذہن ہٹ سا گیا اور میں پھر اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔کئی دن گذر گئے مگر یہ بچے یہاں کھیلنے کے لیے نہ آئے،جہاں کبھی اُن کی کھیلوں سے آباد ایک دنیا بسا کرتی تھی۔یہ تو چند روز بعد مجھے اماں سے معلوم ہوا کہ نازیہ اور خالدہ کی آپسمیں کافی نوک جھونک ہوئی ہے اور شائد یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ بچے اب آپسمیں نہیں کھیلتے ہیں ۔خیر میں نے اماں کی ان باتوں پر زیادہ توجہ نہ دی کیونکہ بچے تو ہر بندھن سے آزاد ہوتے ہیں ۔وہ کسی لڑائی جھگڑے کے قائل نہیں ہوتے۔اُنہیں تو یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ لڑائی کے بعد کیا کرنا اور کیانہیںکرناچاہیے۔  وہ ان سب سے بے فکر ہوتے ہیں اور یہی بے فکری انکی اصل معصومیت کی پہچان ہوتی ہے ۔ کچھ دن اور گذر گئے میں اپنی کھڑکی سے کسی کام کی وجہ سے جھانکاتو میں نے دیکھا کہ یہ دونوں بچے اپنے باغیچے میں کھڑے ہیں،مگر دور دور،اور  ایک دوسرے کو گھورتے جا رہے تھے ۔ان کا ایک دوسرے کے تیئں ترچھی نظروں سے دیکھنا اس بات کا غماز تھا کہ وہ آپس میں مُتنفر ہو گئے ہیں۔میں یہ منظر دیکھ کر کافی حیران ہو گیا۔گھر والوں کی باتوں کا ان پر اتنا بُرا اثر پڑا تھا کہ یہ دونوں بچے جو کبھی دوست ہوا کرتے تھے ،آج انجان اور بُت بنے ایک دوسرے کو تکتے جا رہے تھے۔
یہ غلطی دراصل ان بچوں کی نہیں تھی جو آج بُت بنے ایک دوسرے کو نفرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے،بلکہ یہ غلطی ان کے گھر والوں کی تھی جنہوں نے بچوں کے سامنے ایک دوسرے کے خلاف باتیں کی تھیں اوردونوں کے دلوں میں نٖفرت کا زہر بھر دیا تھا۔ میں جلدی اندر کی طرف بھاگا ۔نہ جانے کیوں ان بچوں کی تصاویر میرے ذہن سے جانے کا نام نہیں لیتی تھی ۔میں گہری سوچ میں پڑ گیا،یہ تمام خیالات میرے ذہن میں رقص کر رہے تھے کہ کس طرح بڑوں کے جھگڑوں کے بیچ چھوٹے پس کر رہ جاتے ہیں ۔شائد بڑوں کو اس کا علم تک نہیں ہوتا کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف بول کر بچوں کے ذہنوں پر کیا اثر چھوڑ جاتے ہیں اور آج بھی وہی ہوا تھا ۔ایک بار پھر بڑوں کے درمیان جھگڑوں کی سزا دو معصوموں کو اس قدر ملی تھی کہ وہ ہمیشہ کے لئے دوستی،محبت اور یہاں تک کہ وہ پیارا سا بچپن بھی کھو بیٹھے تھے۔
بچوں کی پرورش کرتے کرتے بچوں کی صحیح تربیت بھی لازم ملزوم ٹھہرتی ہےمگریہ جبھی ممکن ہوتا ہے جب والدین اور بڑے خود بھی سمجھدار ہوں اور جھگڑوں فسادوںمیں اپنے بچوں کو داخل نہ کریں ۔ایک معمولی چنگاری پوری بستی کو خاکستر کر سکتی ہے۔اگر وقت پر اس کا تدارک نہ کیا جائے۔
ان ہی خیالات میں محو ہو کر میری آنکھ لگ گئی ۔اماں بُلاتی رہی تھی تھوڑی دیر میں بیدار ہُوا اور چائے نوش کرنے لگا۔
محلہ قاضی حمام بارہ مولہ کشمیر۔
موبائل نمبر;؛9469447331
 

تازہ ترین