تازہ ترین

کورونا کے ساتھ ڈپریشن کی وبا

دل و دماغ کو ٹھنڈا رکھیں،ذہنی دبائو سے بچیں

تاریخ    25 جون 2020 (00 : 03 AM)   


 ہی کوئی اس بات سے اختلاف کرے کہ اس وقت ہم اپنے عہد کے سب سے مشکل دَورسے گزر رہے ہیں۔اس عالمی وبا کے ابتدائی دِنوں میںعالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ،ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسئیس نے کہا تھا،’’یہ محض عوامی صحت کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک ایسا بحران ہے، جو ہر شعبہ زندگی کو متاثر کرے گا۔‘‘ اور اب ہم سب ہی اس پیش گوئی کو سچ ہوتادیکھ رہے ہیں۔ دیگر عالمی وبائوںکی طرح یہ صْورتِ حال بھی شدید ذہنی تنائو اور الجھن کا باعث بن رہی ہے، خصوصاً بچوں،بوڑھوں اور اْن افرادکے لیے،جو پہلے ہی سے کسی مرض میں مبتلا ہیں۔اور اْن افراد کے لیے بھی جو صحتِ عامہ یا مفادِ عامہ کے شعبوں وغیرہ سے متعلق ہیں۔عموماً ایسے کسی بحران سے دوچار ہونے کی صْورت میں مختلف ردِّعمل سامنے آتے ہیں۔ مثلاً حد سے زیادہ ذہنی دبائو یا بے بسی ، خوف زدہ رہنا اورمزاج میں اْداسی یا غصّے کا عْنصر شامل ہوجانا وغیرہ۔ 
بعض افراد کو نیند کی کمی ،ذہنی یک سوئی یا توجہ میں کمی کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔پھر دیگر افراد سے رابطے یا تعلق کا خوف، عوامی سواریوں پر سفر کرنے اور عوامی مقامات پر جانے کا خوف بھی عام افراد کو متاثر کر سکتا ہے۔نیز،بعض افراد میں خوف سے دوچار ہونے کے ردِّعمل میںجسمانی علامات بھی ظاہر ہوسکتی ہیں۔ مثلاً دِل کی دھڑکن میں اضافہ یا معدے کی خرابی وغیرہ۔ علاوہ ازیں، اگر کوئی الکوحل، تمباکو یا دیگر نشہ آور اشیاء کی لَت میں مبتلا ہے، تو ان کے استعمال میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔تاہم، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بحران کے دوران ہر پہلو کو درست انداز میں سمجھ کر ہی اس کے مطابق درست ردِّعمل کا مظاہرہ کیا جائے۔
ذہنی تنائوکی ایک بڑی وجہ غیر یقینی صورتِ حال ہے۔ اگر دیکھا جائے، تو اس وقت ساری دْنیا اَن دیکھے حالات کے خوف میں مبتلا ہے،کیوں کہ ایسے تمام اطوار اور تصوّرات جو زندگی کے معمولات کو احسن طریق پر جاری رکھنے کے لیے اہم سمجھے جاتے تھے، اب نہ صرف تبدیل ہو چْکے ہیں ،بلکہ ان میں ہر گزرتے دِن کے ساتھ مزید تبدیلیاں بھی رونما ہورہی ہیں۔مثلاً تعلیمی ادارے بند ہوچکے ہیں، معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹیں حائل ہیں، ریستوران، شاپنگ مالز، تھیٹرز، تفریحی پارکس، ورزش گاہیں اور سماجی روابط کے دیگر مقامات ناقابلِ رسائی ہیں۔ 
اسپتالوں میں علاج معالجے کے طریقوں میں تبدیلی آرہی ہے، بین الاقوامی سفر روک دئیے گئے ہیں اور سماجی فاصلے کو لازم و ملزوم قرار دیا جاچکا ہے۔گویا زندگی گزارنے کے تصورات یک سر تبدیل ہوچکے ہیں۔ ملازمت پیشہ افراد روزگار ختم ہونے کے خوف میں مبتلا ہیں،توعالمی وبا کے دوران کام کرنے والے صف اوّل کے کارکنان اس وجہ سے پریشان ہیں کہ وہ ساری دنیا سے کٹ رہے ہیں اوران سے سماجی رابطہ زیادہ خطرے کا باعث ہو سکتا ہے۔ بیش تر افراد اس فوبیاکا شکار ہیں کہ وہ اپنے پیاروں سے دور ہیں اور اس مشکل وقت میں انہیںتحفظ فراہم نہیں کر پا رہے ہیں۔کئی ایسے خاندان بھی ہیں، جو تعلیم یا نوکری کی وجہ سے ایک دوسرے سے دور ہیں اور مختلف ممالک میں آباد ہیں، ان میں بھی اپنے پیاروں سے دْوری کا خوف پایا جاتا ہے۔ 
اِسی خوف کی بنیاد پر عام معمولی نوعیت کے امراض مثلاً معمولی نزلہ، زکام اوربخار وغیرہ بھی کورونا وائرس کی علامات تصور کیے جارہے ہیں۔ یوں کہہ لیجیے کہ دنیا بھر کی فضا میںایک خوف ساطاری ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اس عالمی وبا کے دوران گھریلو تشدد کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ روزمرّہ استعمال کی اشیاء کی ذخیرہ اندوزی، اشیا ئے خورونوش کی ذخیرہ اندوزی، ہاتھوں کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے سینی ٹائزرز، ماسکس، حتیٰ کہ ٹوائلٹ پیپرز کی ذخیرہ اندوزی بھی بہت سے مْمالک میں ایک عمومی طریقہ کار بن چْکی ہے۔ امریکا میں ہتھیاروں کی خرید میں اضافہ ہوا ہے، کیوں کہ شدید معاشی بحران کے نتیجے میں معاشرے میں خلفشار اور انتشار بڑھنے کا بھی اندیشہ ہے۔ 
ایک جانب جہاں طبّی ماہرین کے مطابق آئوٹ پیشنٹس(مریضوں) کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے، وہیں دوسری جانب ماہرینِ نفسیات کے وزٹس میں غیر معمولی اضافہ ہی دیکھنے میں آیا ہے ،جس کی وجہ اکیلے پَن، ذہنی الجھنوں، ذہنی تنائو اور بے بسی کی کیفیت میں مبتلا افراد کی تعداد میں اضافہ ہے۔ ان حالات میںکسی بھی فرد کے ذہن میں متعدّد سولات جنم لے سکتے ہیں۔مثلاً خود کو موجودہ حالات کے مطابق کیسے تبدیل کریں، اہلِ خانہ، پڑوسیوں اور علاقے کے دیگر افراد کے تحفّظ کے لیے کس طرح کے اقدامات کریں،خوف اور ذہنی تنائو پر کیسے قابو پائیں،؟ ان تمام تر سوالات کا صرف ایک ہی جواب ہے کہ ہم میں سے ہر فرد اپنی ذہنی صحت کا ایسے ہی خیال رکھے، جیسے جسمانی صحت کا رکھا جاتا ہے۔ 
مثلاً متوزان غذا استعمال کرکے،زیادہ سے زیادہ پانی پی کر،نیند پوری کرکے یا سانس کی مشقوں اور دیگر ورزشوںسیخود کو تن درست رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے ،بالکل ایسے ہی ذہنی صحت کا خیال رکھنے کے لیے کچھ چھوٹے چھوٹے اقدامات پر عمل ناگزیر ہے،لہٰذا سب سے پہلے تو خبریں دیکھنے، پڑھنے یا سْننے کے دورانیے میں وقفہ دیا جائے(اس میں سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی خبریں بھی شامل ہیں)،کیوں کہ اگر ہم مستقل اس وبا کے متعلق سنتے اور بات کرتے رہیں گے، تو ذہنی پریشانیوں میں اضافہ ہی ہو گا۔ یہ بھی ضروری ہے کہ معمول سے ہٹ کر مختلف کاموں میں وقت گزارا جائے اور ایسی سرگرمیاں اختیار کی جائیں، جن سے لطف و فرحت حاصل ہو۔ مثلاً کتب بینی، موسیقی، غوروفکر، لکھنا لکھانا اور مراقبہ وغیرہ۔ 
علاوہ ازیں، دیگر افراد سے رابطہ رکھنا بھی انتہائی اہم ہے۔یاد رکھیے، دوسروں سے اپنے مسائل کے متعلق بات کرنا، احساسات اور تصوّرات کا تبادلہ اور صحت مندانہ تعلقات استوار رکھنا ایسے امور ہیں، جو تنہائی اور اْداسی سے نبردآزما ہونے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ سماجی فاصلے کی حکمتِ عملی کی(جو اس وقت بیرونی دْنیا سے ہمارے رابطے کی اساس ہے) وجہ سے ہمیں یہ موقع ملاہے کہ ہم برق رفتاری سے دوڑتی زندگی کی رفتار کو اعتدال میں لائیں اورجدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے اْن قریبی اہلِ خانہ اور دوستوں سے رابطے میں رہیں، جو ہماری زندگی میں واقعی اہمیت رکھتے ہیں۔
آج کے دَور میں معلومات کی دستیابی آسان ہے۔بہتر ہوگا کہ صرف ایک یا دو مستندذرائع سے قابلِ اعتماد اور قابل بھروسا معلومات حاصل کی جائیں کہ کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات اور افواہیںبھی ذہنی تنائومیں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔نیز، ایسی کوئی بھی معلومات آگے بڑھانے سے گریز کیا جائے، جن کے ساتھ کوئی قابلِ اعتماد حوالہ موجود نہیں۔ آج جب ہم اس صورتِ حال سے نمٹنے کے طریقوں کی تلاش میں ہیں،تو ہمیں چیزوں کے اصل مقام اور ان کے تناسب کو نہیں بھولنا چاہیے۔ کچھ چیزیں اور عوامل ہمارے دائرہ اختیار سے باہر ہیں، تاہم ایسی بہت سی ہدایات ہیں، جن پر ہم عمل کر سکتے ہیں، بہت سے ایسی معلومات ہیں، جن پر بھروسا کیا جاسکتا ہے اور بہت سے ایسے تعلقات ہیں، جنہیںپروان چڑھا یا جا سکتا ہے،لہٰذاان اقدامات پر توجہ دیں اور مل جْل کر بہت سی منفرد یادیں تخلیق کریں،تاکہ ذہنی تنائو سے حتی الامکان بچاجاسکے۔

تازہ ترین