مسلکی انتشار…ملت کا شیرازہ بکھر نہ پائے!

تاریخ    20 جون 2020 (00 : 03 AM)   


 جموں و کشمیر،خاص کر وادیٔ کشمیر میں گزشتہ کچھ عرصہ سے کورونا کی عالمگیروباء کے بیچ ہی آن لائن اور آف لائن مناظرہ بازی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا ہے ،اُس نے ذی حس طبقوںکو انتہائی مضطرب کردیا ہے اور گزشتہ چند روز سے سوشل اور روایتی میڈیا کے توسط سے مسلسل اپیلیں کی جارہی ہیں کہ اس طرح کی تفرقہ بازی سے اجتناب کیا جائے۔مقامی سیول سوسائٹی نے بارہاعلمائے دین اور مذہبی جماعتوں کو معاملہ کی نزاکت سمجھتے ہوئے آپسی اخوت کو فروغ دینے کی تاکید کرتے ہوئے مسلکی اور گروہی افتراق کو پنپنے نہ دینے کی اپیل کرکے عوام سے کہا کہ وہ دین کے بنیادی عقائد پر جمع ہوکر آپسی اتحاد واتفاق کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کی کوشش کریں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب بنیادی عقائد ایک ہیں تو پھر جھگڑوں کا کیاجواز بنتا ہے؟ ۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلام اخوت اور اتحاد کا پیغام دیتا ہے مگرجموںوکشمیر میں بالعموم اور وادی میں بالخصوص مذہب و مسلک کے نام پر جس انداز میں قوم کو گروہوں میں تقسیم کرنے کی سازشیں رچائی جارہی ہیں ،وہ انتہائی افسوس ناک ہے ۔ماضی قریب تک وادی میں ایسی کوئی روایت نہیں ہے بلکہ اسلامیان کشمیر بنیادی عقائد پر مجتمع ہوکر ملی اتحاد کا بھرپور مظاہرہ کررہے تھے تاہم ا ب جو ہوا چلنے لگی ہے ،اگر فوری طور اس کو روکنے کی کوشش نہیں کی گئی تو کل یہ ہوا ایک آندھی کی شکل اختیار کرکے ملت کا شیرازہ بکھیرنے کا کام کرے گی اور اس وقت ہم چاہ کر بھی کچھ نہیں کرپائیں گے۔مسلکی منافرت اور گروہ بندی کی تباہ کاریوں سے کوئی ناآشنا نہیں ہے۔ایسے ہی فروعی معاملات کو لیکرکئی مسلم ممالک کو جو خمیازہ بھگتنا پڑا ،وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے،اس کے باوجود بھی اگر کشمیر میں کوئی اس سمت میں جانے کی کوشش کرے تو وہ مذہب اور ملت کا بہی خواہ نہیں ہوسکتا ہے ۔پہلے ہی عالم اسلام اس وقت کئی مسائل سے دوچار ہے ۔عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کی شبیہ مسخ کرنے کیلئے باضابطہ طور ایک مربوط مہم چل رہی ہے جس کو اسلام دشمن قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔اس مہم کے تحت مسلمانوں کو انتہا پسندوں اور انسانیت دشمنوںکے طور پیش کرنے کی مکروہ کوششیں کی جارہی ہیں جبکہ اسی مہم کے تحت مسلک اور پارٹیوں کے نام پر مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے منصوبے بھی بنائے جارہے ہیں۔اس نازک ترین صورتحال میں اگر امت ِمسلمہ طبقوں میں بٹ جائے تو اس کا براہ راست فائدہ ایسی قوتوں کو ہوگاجنہیں ملت اسلامیہ کا وجود ایک آنکھ بھی نہیں بھاتا ہے۔اتحاد میں طاقت اور وحدت ہی مسلم امہ کو موجودہ پریشان کن دور سے باہر نکال سکتی ہے ۔انتشار و افتراق کی صورتحال ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہونی چاہئے کیونکہ جب قرآن ایک ہے ،نبیؐ ایک،قبلہ ایک اور اسلا م کے بنیادی عقاید مشترک ہیں تو کون سی چیز ہمیں ایک دوسرے کے خلاف لڑنے کیلئے آمادہ کررہی ہے۔ملت میں انتشار و افتراق ہمیں بنیادی اہداف سے کوسوں دور لے جائے گا ،لہٰذا قوم کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس پریشان کن صورتحال سے نمٹنے میں ادراک سے کام لے ۔علمائے کرام ،جن کا کام اسلا م کی اشاعت ہے ،ان کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔انہیں روز قیامت میں اس بات کا جواب دینا پڑے گا کہ انہوں نے اصلاح معاشرہ اور اتحاد ملت کیلئے کون سی ذمہ داریاں انجام دیں۔وعظ و تبلیغ کا فریضہ انجام دیکر ہی مبغلین اسلام ،مفتیاں کرام ،ائمہ مساجد ،علمائے دین اور مذہبی سکالر اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتے ہیں بلکہ ان پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ ملت کو اُس ڈگر پر لے جائیں جس پر چل کر دنیا و آخرت میں سرخروئی مقدر بن سکے ۔ملت اسلامیہ میں پھیلی بیماریوں پر ان علما ء سے جوابدہی ہوگی ،لہٰذا انہیںبھی خاموش تماشائی بننے کی بجائے عملی طور اتحاد ملت کاخواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے اپنے آپ کو وقف کرنا ہوگا۔اس کے ساتھ ساتھ تمام قائدین ،سماجی جماعتوں ،سیول سوسائٹی اور سماج کے ہر باشعور فرد کو انفرادی طور بھی اپنے آپ کو اس سنگین مسئلہ سے لاتعلق رکھنے کی بجائے اس کا تدارک کرنے کیلئے ہاتھ بٹانا چاہئے ۔حرم کی پاسبانی کیلئے مسلمانوں کا ایک ہونا ضروری ہے ۔ایک ہوکر ہی ملت اغیار کی ریشہ دوانیوں کا منہ توڑ جواب دے سکتی ہے ۔اللہ تبارک و تعالی بھی قرآن ِپاک میں فرماتے ہیں کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور فرقوں میں مت بٹ جائو۔اگر فرمان الٰہی پر بھی ہم عمل نہ کریں تو اس کا انجام تباہ کن ہوسکتا ہے ۔اس سے پہلے کہ خدا کی نافرمانی کی پاداش میں ہم پر عذاب در عذاب نازل ہونے کا سلسلہ جاری رہے،ابھی بھی وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ کے فرقوں اور طبقوں میں بٹے بغیر ملی وحدت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام کے آفاقی اصولوں پر عمل پیرا ہوجائیں ،کوئی مشکل نہیں کہ اللہ کی رحمت برجوش آئے گی اور ہمیں سرخروئی نصیب ہوگی۔ورنہ جس سمت میں ہم جارہے ہیں ،اس کی منزل تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوگی۔ہم ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے رہیں گے اور دشمن دور بیٹھ کرتماشا دیکھتا رہے گاجو کسی بھی طور ایک مسلم قوم کے شایان شان نہیں ہے ۔مسلمان عالمی اخوت کے پیامبر ہیں اور جب مسلمان ہی فروعی معاملات کو لیکر ایک دوسرے کے ساتھ لڑ پڑیں تو اللہ کا عذاب نازل ہونا طے ہے ۔اللہ ہمیں اس عذاب سے بچائے اور ہمیں صحیح مسلمان بنائے کیونکہ اسی میں ہماری دنیاوی و اخروی کامیابی کا راز پنہاں ہے۔(آمین)
 

تازہ ترین