تازہ ترین

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں!

ماسٹر غلام احمد ملک ہزاروں چراغ روشن کرکے ہمیشہ کیلئے بجھ گئے

تاریخ    19 جون 2020 (00 : 03 AM)   


محمد اسلم میر
آہ!ماسٹر حاجی غلام احمد ملک بھی نہ رہے۔  16 جون کی صبح معمول کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ڈسٹرکٹ کپوراہ کے معروف ریٹارئرڈ استاد اور سماجی کارکن محی الدین پوشپوریی کا اسٹیٹس ماسٹر جی کی وفات کے بارے میں پڑھا تو گویا پائوں سے زمین نکل گی۔ خیر موت برحق ہے اور ہر ایک روح نے اس کا مزہ چکھنا ہے۔ حاجی غلام احمد ملک نے ایک پُر بہار اور اچھی70 سال سے زائد عرصے پر محیط زندگی گزاری۔ 1947 کی جنگ کے دوران ان کے والد جاں بحق ہوگئے۔یوں بچپن سے ہی انہیں باپ کے سائے سے  محروم ہونا پڑا۔ ان کی والدہ ایک جہاندیدہ اور باوقار خاتون تھی۔ انہوں اس دور میں اپنے اس اکلوتے بیٹے کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا۔ میٹرک کے بعد غلام احمد ملک صاحب 1970 میں محکمہ تعلیم میں استاد بھرتی ہوئے۔ ماسٹر جی کو اللہ تعالی نے دو بیٹے دئے جنہیں انہوں نے اچھی تعلیم دینے کے لئے  اسلامیہ ماڈل مڈل سکول ترہگام میں داخل کیا۔ یاد رہے اسلامیہ ماڈل سکولزکی پورے جموں وکشمیر میں 1960 سے ایک زنجیر تھی جو فلاح عام ٹرسٹ کے زیر اہتمام چلتے تھے۔ یہ تعلیمی ادارے جدید عصری اور اسلامی علوم کا حسین امتزاج تھے۔ ان تعلیمی اداروں نے وادی کشمیر کے دور دراز علاقوں میں 1960 سے لیکر 1990 تک بہترین اور معیاری تعلیم کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ تاہم مرحوم غلام محمد ملک اپنے بچوں کوان تعلیمی اداروں  سے بھی کسی اچھے سکول میں پڑھانا چاہتے تھے۔ بلند خیالات اور مصمم ارادوں کے مالک ملک صاحب نے اپنے دونوں بیٹوں کو بالترتیب 1986 اور 1988 میں سینک سکول مانسبل میں داخل کرایا۔ ان ایام میں وادی کشمیر کے ہر پڑھے لکھے والدین کا خواب ہوتا تھا کہ ان کے بچے بسکو، برن ہال یا سینک سکول مانسبل اور نگروٹہ جموں میں تعلیم حاصل کریں۔
 ماسٹر غلام احمد ملک مشترکہ خاندان کے بڑے حامی رہے۔ ان کے گھر میں پکنے والے سالن کا ایک مخصوص حصہ ہمیشہ مستقل بنیادوں پر وہ اپنے پڑوس میں رہنے والی دوںوں بہنوں کے گھر بارش اور دھوپ میں پہنچاتے تھے اور اس کام کے لئے اس نے اپنے دونوں بیٹوں اور ان کی عدم موجودگی میں اپنی بیٹی کو وقف کیا تھا۔ انہوں نے شروع دن سے اپنے خاندان اور عزیر و اقارب کا ہر مرحلے پر خیال رکھا۔ اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ اپنے بھانجوں کی بھی تربیت اور رہنمائی کی۔ وہ اپنے گائوں ہاین، ترہگام اور دیگر مضافاتی علاقوں کے لڑکوں کو اعلی تعلیم کی طرف اکثر مائل کرتے تھے۔ سر پر سجے سفید بال اور چہرے پر ہمیشہ خوبصورت مسکراہٹ ماسٹر جی کی پہچان تھی۔ وہ جس سے بھی ملتے تھے ان کا پہلا جملہ یہی ہوتا تھا آپ کیسے ہیں۔ ان کے آبائی گاوں میں جب بھی کوئی بچی یا بچہ اسی کی دہائی میں میٹر ک کا امتحان پاس کرتا تھا تو ماسٹرجی سب سے پہلے ان کے گھر جاکر مبارک باد کے بعد کامیاب ہونے والے طالبعلم کو آگے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کا مشورہ دیتے تھے۔ وہ ایک محنتی اور جدید دور کے تقاضوں اور عصر حاضر کی تعلیمی ضروریات کو سمجھنے والے استاد تھے۔
 ایک کامیاب ماہر تعلیم کے ساتھ ساتھ حاجی صاحب ایک کامیاب باغبان بھی تھے۔ اپنے علاقے میں ان کے سیب کا باغ آج بھی سب سے زیادہ پھل دیتا ہے۔ وہ اپنے گائوں میں زندگی کے ہر شعبہ میں ایک کامیاب کہانی کا عنوان بنے۔ وہ دوستوں کے دوست تھے۔ ملک صاحب نے جس سے بھی دوستی کی اس کو بھر پور نبھایا۔ علاقے میں کامیاب استاد کے ساتھ ساتھ ان کی پہچان ایک معاملہ فہم انسان کے طور پر بھی تھی۔ وہ ہر ایک کے کام آنے والے تھے۔ ان کے گائوں میں اگر کسی کو کوئی قانونی یا دیگر مدد درکار ہوتی تھی تو وہ مرحوم ملک صاحب سے را بطہ کرتے تھے جو ایک زیر ک انسان کے طور پر الجھے ہوئے مسلے کو سلجھانے کا ہنر جانتے تھے۔ 
وہ بین الاقوامی سیاست کو بہت گہرائی سے سمجھنے کے ساتھ ساتھ ایک انقلابی ذہن کے آدمی بھی تھے۔ 3 جون 1989 کو ایرانی انقلاب کے بانی سیدروح اللہ موسوی خمینی کا انتقال ہوا۔ ان ایام میں ماسٹر جی گورنمنٹ مڈل سکول کرالپورہ میں تعینات تھے وہ سابق صدر پاکستان ضیاالحق کے بعد سب سے زیادہ رنجیدہ خمینی کے انتقال پر تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ضیاالحق نے پاکستان میں زکواۃکے نظام کو جس احسن طریقے سے بینکوں کے ساتھ جوڑا، اس کی نظیر کسی اسلامی ملک میں نہیں ملتی اور اسی بنیاد پر مصر جامعتہ الاظہر( اظہر یونیورسٹی) نے جنرل ضیا الحق کو اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی دی تھی۔ خمینی کو وہ ایک مقبول اور عوام دوست لیڈر مانتے تھے۔
 الغرض ماسٹر غلام احمد ملک ایک بے لوث اور محبت کرنے والے انسان تھے۔ اس کے ماتھے پر کبھی بل نہیں تھا وہ ہر ایک سے مسکراتے چہرے سے ملتے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے حج کیا اور زیادہ تر گھریلو کاموں میں ہی مصروف  رہتے تھے۔ وہ سینئر سٹیزنز یعنی بزرگ شہریوں اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین ضلع کپوارہ کی تنظیم کے عہدہ دار بھی تھے۔ شوگر کے مریض تھے تاہم اس مرض کو انہوں نے اپنے اوپر کبھی حاوی نہیں ہونے دیا اور زندگی کے پہئے کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ رواں رکھ کر علاقے میں ایک مثال قائم کی۔گزشتہ کئی ہفتوں سے گھر پر ہی تھے اور 16 جون کو مختصر علالت کے بعد اللہ کے حضور پیش ہوئے۔ماسٹر حاجی غلام احمد ملک کی موت کے بعد اہلیان ہاین ترہگام بالخصوص اور ضلع کپوارہ کے لوگ بالعموم واقعی ایک زیر ک ، دور اندیش اور معاملہ فہم انسان سے محروم ہوگئے۔  ؎
خا ک میں ڈھونڈتے ہیں سونا لوگ
ہم نے سونا سپرد خا ک کیا 
 

تازہ ترین