کاروباری سرگرمیوں کی مشروط اجازت | کمائیں لیکن جان بھی بچائیں

گفت و شنید

تاریخ    15 جون 2020 (00 : 03 AM)   


معراج مسکینؔ
اب جبکہ تین ماہ کے طویل لاک ڈاون کے بعد انتظامیہ نے سرینگر اور وادی کے دیگر اضلاع میں کاروباری سرگرمیاں شروع کرنے اور تین تین دن تک باری باری دوکانیں و کارخانے کھولنے کا مشروط اجازت نامہ جاری کردیا ہے تو قطع نظر اس کے کہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے یا منفی،مگرحقیقت تو یہی ہے کہ آخر کب تک کرونا وائرس سے بچنے کے لئے لوگوں کو لاک ڈائون کے تحت گھروں میں قید و تنہائی کی صورت بند رکھا جاتااور گھروں میں محصور لوگ آخر کب تک اور کس طرح طویل عرصہ تک اپنی اور اپنے زیر کفالت افراد کی ضروریات پوری کر پاتے؟ کشمیر کا تقریباً ہر طبقہ پہلے ہی کئی عشروں کے نامساعد حالات کے دوران کریک ڈاونوں ،محاصروں اور طویل ترین لاک ڈاونوںسے ڈھیر سارے مسائل سے دوچار ہے۔ معاشی بد حالی ،بے کاری ،بے روزگاری ،کساد بازاری وکورپشن نے بھی اْسے بدحال کردیا ہے۔ کشمیر کا تاجر پیشہ طبقہ بھی معاشرے کا ایک حصہ ہے اور اقتصادیات کے انحصار کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، بھی پچھلے تیس برسوں کے نا مساعد حالات سے بْر ی طرح متاثر ہوا ہے۔طویل ترین عسکری تحریک نے جو المناک اور کربناک نقو ش کشمیری معاشرے پر چھوڑ دئے ہیں اور اْن کی روز مرہ زندگی پر مرتب کئے ہیں ،اْس سے وادی ٔ کشمیر کا کوئی بھی طبقہ اچھوتا نہیں رہ سکا ہے۔  
بلا شبہ کسی بھی ملک ،قوم یا معاشرے کی معیشت کا انحصار کاروبار پر ہی منحصر ہے ، ہر بندہ اور ہر شعبہ ہائے زندگی ایک دوسرے سے منسلک ہے ،اس کے بغیر نظام ِزندگی چلانے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ گھروں میں بیٹھ کر اگر انسانوں حتیٰ کہ پرندوں کو بھی رزق ملتا تو کسی کو بھی محنت ومشقت کرنے کے لئے اپنے آشیانوں سے نکلنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ ظاہر ہے کہ مسلسل لاک ڈاون کے نتیجہ میںساری دنیا میں کاروبار ِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی اور لاک ڈائون کی صورت میں قیدِ تنہائی نے ہر فرد خاص طور بچوں اور بوڑھوں کو ذہنی امراض میں مبتلا کر دیا ہے جبکہ اس وائرس کی آڑ میں منفی پروپیگنڈے اور وسائل کی کمی نے بھی بیشتر لوگوں کو عجیب خوف سے دوچار کر دیاہے۔ 
 اب تک کی تمام تر طبی شعبوں اور تحقیقی اداروں کی رپورٹوں میں صرف احتیاط کو ہی اس بیماری کا علاج قرار دیا گیا ہے اور جسمانی فاصلوں جسے سوشل ڈسٹنسنگ کہا گیا ہے، اس سے ہی نجات حاصل کرنے کا واحد ذریعہ قرار دیاگیا ہے۔ دیکھا اور سْنا بھی گیا ہے کہ احتیاط سے ہی خاطر خواہ فائدہ پہنچ رہا ہے۔جنوبی کوریا یا دیگر کئی ممالک میں اگر کورونا کے ختم ہونے کی بات کہی جا رہی ہے تو اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ وہاں صد فی صد آبادی کی جانچ پڑتال کی گئی ہے اور یہ بات عام لوگوں کو بھی بتا دی گئی ہے کہ کون سا آدمی کورونا سے متاثر ہے۔اس لئے باقی لوگ کورونا کے خوف سے باہر نکل آئے ہیں اور وہ حسب معمول زندگی گزار رہے ہیں۔بھارت میں تو صد فی صد جانچ پڑتال ممکن ہی نہیں ہے۔یہاں توشروع سے ہی کورونا وائرس سیاست گری کی شکار ہو گئی ہے،جس کے نتیجہ میںایسی صورت حال پیدا ہوگئی کہ جہاں ملک کے مختلف شہروں میں کام کرنے والے محنت کش کاریگروں اورمزدوروںکے کارواں در کارواں کی ہجرت کے دوران پیش آمدہ ستم سوز والم ناک مناظر سامنے آتے رہے وہیںبعض شہروں میں مسلم اقلیت کے ساتھ متعصبانہ اور جانبدارانہ سلوک کی کاروائیاں بھی خبروں کی زینت بنیں۔
 ا س سچ سے بھی انکار کی گنجائش نہیں کہ خود حکمرانوں کو بھی نظام سلطنت چلانے کیلئے وسائل درکار ہوتے ہیں ،وسائل کی عدم دستیابی سے کوئی بھی حکمران ملکی اور عوامی سطح پر کامیاب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جب لاک ڈاون کے نتیجہ میں حکمرانوں کوبھی ہر طرف اندھیرا ہی اندھیر ا نظر آیاہے تو انہوں  نے اپنے وزار اور مشیروں کے ساتھ صلح و مشوروں کے بعد لاک ڈاون کے سسٹم کو مرحلہ وار طریقوں پرختم کرنے کا فارمولا بنایا،چونکہ کوئی بھی قوم اس عذاب الٰہی کا مقابلہ کرنے یا اس سے بچنے کی حکومتی پالیسیوں کے خلاف بولنے یا احتجاج کر نے کی ہمت جْٹا نہیںپائی اورلاچاری کے عالم میں ہر وہ ستم اٹھانے پر مجبور ہوگئی ،جس کے نتیجہ میں اس کی زندگی تلپٹ ہوکر رہ گئی ہے۔آنے والے وقت میں زندگی کے حالات کیا رخ اختیار کر تے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا ،تاہم یہ بات اب ہم سب کے لئے لازمی بن گئی ہے کہ وقت کے تقاضوںکے مطابق احتیاط کا پورا پورا خیال رکھا جائے اور اس وبائی بیماری کو ہرگز مذاق نہ سمجھا جائے۔اپنے آپ ،اپنے اہل و عیال ،دوست و احباب اور دوسرے انسانوں کو کرونا وائرس سے بچنے اور بچانے کیلئے ایسی حکمتِ عملی اپنائیں، جس پر عمل کر کے معیشت کا پہیہ چلتا رہے اور لوگوں کی معاشی مشکلات میں بھی خاطر خواہ کمی آئے اور جانیں بھی بچ جائیں۔
 سلسلہ وارلاک ڈائون کی وجہ سے ہر چیز کی قلت پیدا ہو گئی ہے ، لوگوں کے ذرائع آمدن ختم ہو کر رہ گئے ہیں،سفید پوش لوگ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا پسند نہیںکرتے ، ایسے میں ان گھروں کی حالتِ زار کیا ہو گی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ حکومتی انتظامیہ نے لوگوں کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ کاروبار کرنے کی مشروط اجازت دے دی ہے تا کہ لوگ اپنا نظام زندگی تواتر کے ساتھ چلا سکیں۔ اس لئے حکومتی انتظامیہ کے لئے یہ اہم ذمہ داری ہے کہ وہ معیشت کو بہتر بنانے اور عوام کا سکون بحال کر نے کیلئے واضح حکمتِ عملی کے تحت ٹھوس پالیسی اپنائے اور اس بات کو ملحوظ نظر رکھا جائے کہ یہاں ہر گذرتا دن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کا باعث بنتا جارہا ہے،روز مرہ کے استعمال کی چیزیںعام آدمی کی پہنچ اور اس کی رسائی سے باہر ہوتی جارہی ہیں۔معاشی بحران اور انحطاط کے باعث پہلے ہی معاشی ترقی کی رفتار بْری طرح متاثر ہوچکی ہے ،لاکھوں لوگ روزگار سے محروم ہوگئے ہیں،کئی کمپنیوں اور چھوٹے بڑے اداروں میں تنخواہوں میںکٹوتی کی گئی ہے۔یومیہ اجرتوں پر کام کرنے والوں کے لئے تو حالات قابو سے باہر ہوگئے ہیں،عام آدمی کے لئے اب ساگ اور دال کا استعمال بھی مشکل سے مشکل ہوتاجارہا ہے،بیشتر لوگ فاقہ کشی کے شکار ہورہے ہیں۔یہ ایسی صورت حال ہے جس سے یقینا اَپر کلاس طبقہ پر کوئی اثر نہیں ہوگا لیکن مڈل کلاس اور غریب طبقہ بْری طرح متاثر ہوتا جارہا ہے۔معاشی سْست روی کے وقت میں یہ مہنگائی خاصی آمدنی والے طبقہ کے بجٹ پر بھی اثر انداز ہورہی ہے تو غریب اور متوسطہ طبقہ پر ہونے والے اثرات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔تاجر اور کاروباری حلقے نے بھی اپنی گوناگوں صورت حال سے حکومتی انتظامیہ کو آگاہ کردیا ہے ،اْنہیں بھی راحت پہنچانے کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور یہی کشمیری عوام کے حق میں بہتر ہوگا۔بصور ت دیگر یہی کہا جاسکتا ہے کہ کورونا سے پریشان حال لوگوں کے لئے جینا دن بہ دن دشوار ہوجائے گا اور یہ بھی ممکن ہوسکتا ہے کہ ایک اور شدید بحران پیدا ہوجائے اور جو بچی کچی اقتصادی صورت حال ہے ،اْس کا اثر بھی زائل ہوجائے۔
 

تازہ ترین