تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    12 جون 2020 (00 : 03 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی
سوال : ہمارے بہت سارے رشتہ دار اور ہم خود بھی سردیوں میں جموں ، دہلی یا ممبئی جاتے ہیں ۔بعض لوگ تو کرایوں کے مکانات میںرہتے ہیں جبکہ اکثر لوگوں کے اپنے فلیٹ ہوتے ہیں۔  اب یہ لوگ وہاں مقیم قرار پائیں گے یا مسافر رہیں گے ،ان میں جولوگ پوری سردیوں کے لئے جاتے ہیں وہ تو یقیناً وہاں مقیم ہوں گے مگر جو لوگ چند دن کے لئے جائیں گے اُن کے لئے کیا حکم ہے؟بعض حضرات کہتے ہیں کہ چونکہ جموں ،دہلی وغیرہ آبائی مقام یعنی کشمیر سے دور ہیں، لہٰذا نماز ہر حال میں قصر ہی کرنا ہے ۔اس کے لئے کیا حکم ہے؟جو لوگ تعلیم حاصل کرنے کے لئے کسی کالج یا یونیورسٹی میں جاتے ہیں وہاں وہ کبھی پندرہ دن سے کم اور اکثر پندرہ دن سے زیادہ قیام کرتے ہیں ،اُن کے لئے کیا حکم ہے؟سفر میں نمازیں کس طرح پڑھیں :کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر ،جہاز میں ،ٹرین میں ،بس میں یا چھوٹی گاڑیوں میں کیسے نماز پڑھی جائے؟گھر میں نماز قضا ہوئی ہو اور گھر میں پڑھی تو کتنی رکعت پڑھیں؟ تعلیم ،ملازمت ،تجارت ،سیاحت وغیرہ کے لئے بے شمار لوگ مختلف شہروں اور ملکوں میں جاتے ہیں ،اُن کو نماز یں پڑھنے میں اُلجھن ہوتی ہے کہ کب قصر پڑھیں اور کب پوری پڑھنی ہیںتو سوال یہ ہے کہ جو لوگ دوسرے شہروں یا ملکوں میں جاتے ہیں ،وہاں ہی اُن کا قیام ہوتا ہے ،وہ نمازیں پوری پڑھیں یا قصر کریں۔خصوصی طور پر عرض ہے کہ نماز ِ قصر کے متعلق پورا اصولِ شرع نقل فرماویں تاکہ ہم کو سمجھنے میں آسانی ہو ۔ 
(غلام محی الدین ۔رعنا واری سرینگر)

سفر اور گھر سے دور قیام ۔۔۔ نماز میں قصر کے مسائل

جواب  :  شریعت اسلامیہ نے سفر کی وجہ سے کئی رخصتیں دی ہیں ۔اُن میں سے ایک اہم رخصت یہ دی ہے کہ نمازمیں قصر کرنے کی اجازت ہے ۔قصر کے معنیٰ چار رکعت نماز فرض کے بجائے دو رکعت پڑھنا ہے۔جب کوئی شخص کسی ایسی جگہ کے سفر کے لئے نکلے جو اُس کی بستی سے 48میل یعنی 77کلومیٹر دور ہو تو یہ شخص شرعی مسافر کہلائے گا اور اُسے قصر کرنے کی اجازت ہوگی۔یہ قصر وہ اپنی بستی سے نکل جانے کے بعد کرے گا ۔اگر کوئی شخص اپنے گھر سے نکلا مگر ابھی اپنے ہی شہر میں ہے تو جب تک وہ اپنے شہر میں رہے گا وہ قصر نہیں کرے گا۔قصر کی اجازت شہر سے باہر نکلنے کے بعد ہے پھر پورے سفر میں یہ قصر کی اجازت برقرار رہے گی ،پھر جب وہ کسی جگہ قیام کرے گا تو اگر وہاں کا قیام پندرہ دن سے کم ہوا تو قصر ہی کرے گا اور اگر پندرہ دن سے زائد قیام کا ارادہ کیا تو پھر وہ مقیم کہلائے گا اور ایسی صورت میں پوری نماز پڑھے گا ۔جو لوگ موسم کی وجہ سے یا تجارت یا ملازمت کی وجہ سے کسی دوسرے شہر میں مقیم ہوگئے ہوں تو اگر ذاتی مکان بھی ہو تو ایسی صورت میں یہ دوسرا شہر اُس کا وطن اصلی کی طرح ہوجائے گا اور اس لئے وہاں اگر پندرہ دن سے کم کی نیت سے بھی قیام کرے تو بھی وہ مکمل نماز پڑھتا رہے گا ۔اسی طرح جو شخص ملازمت کی وجہ سے یا تجارتی ضرورت کی وجہ سے اہل و عیال سمیت دوسرے شہر میں مقیم ہو اور عرصہ ٔ طویل قیام کرنے کا ارادہ ہو تو یہ شخص بھی وہاں مقیم کہلائے گا اور ہمیشہ پوری نماز ادا کرتا رہے گا ۔جو لوگ دوسرے شہروں میں تعلیم کے لئے مقیم ہوں ،چاہے وہ ہوسٹل میں رہتے ہوں یا کرایہ کے مکانات میں ،وہ صرف اُس صورت میں پوری  نماز پڑھیں جب پندرہ دن سے زائد قیام کی نیت پائی جائے اگر کبھی پندرہ دن سے کم عرصہ کے لئے وہ وہاں مقیم ہوں تو اُس صورت میںوہ قصر نماز ادا کریں گے ۔سفر کی دو حالتیں ہوتی ہیں ۔ایک یہ کہ انسان عملاً بھی سفر کررہا ہو، چاہے ریل یا بس میں ہو یا جہاز میں،اُس شخص کو چار رکعت فرض کے بجائے دو رکعت فرض پڑھنے کی اجازت تو ہے ہی ،ساتھ وہ سُنتیں بھی ترک کرسکتا ہے اور اگر کوئی شخص حالت سفر میں مقیم ہے مثلاً جموں یا دہلی وغیرہ میں قیام پذیر ہے مگر قیام پندرہ دن سے کم مدت کے لئے ہے تو یہ شخص فرض نماز چار رکعت کے بجائے دو رکعت پڑھے مگر وہ ایک جگہ قیام پذیر ہے اس لئے سنت پڑھنے کا بھی اہتمام کرے،اور اگر سفر کی وجہ سے سنت نہ پڑھے تو گنجائش مگر پڑھنا افضل ہے ۔
اگر کسی شخص کو اپنے گھر میں نمازیں قضا ہوئی ہوں اور وہ اُن قضا شدہ نمازوں کو حالت ِ سفر میں پڑھنا چاہے تو اُسے وہ نمازیں پوری پڑھنی ہوں گی اور اگر حالت سفر میں کوئی نماز قضا ہوئی ہو اور مقیم ہونے کی حالت میں ادا کرنا چاہے تو وہ قصر ہی پڑھنی ہوں گی ۔سفر کی حالت میں نمازیں پڑھنے کے متعلق اصول یہ ہے کہ چلتے جہاز ، بس ،ٹرین یا چھوٹی گاڑی میں سیٹ پر بیٹھے بیٹھے نماز نہیں پڑھ سکتے ۔اگر کسی نے پڑھی تو وہ ادا نہ ہوگی۔اس لئے کہ اس میں کئی فرائض چھوٹ جاتے ہیں۔چلتی ہوئی ٹرین میں کھڑے ہوکر نماز ادا کی جاسکتی ہے ،اس لئے جو لوگ کھڑے ہوکر نماز پڑھ سکتے ہیں وہ ٹرین میں کھڑے ہوکر  نمازیں ادا کریںاور جو لوگ سُستی ،کاہلی کی وجہ سے نہیں بلکہ واقعتاً ٹرین میں کھڑے ہوکر نماز پڑھنے میں اُن پر جھٹکے سے گر جانے کا گمان غالب ہو ،وہ لوگ ٹرین میں سیٹ پر بیٹھ کر رو بقبلہ ہوکر نماز ادا کرسکتے ہیں اور رکوع وسجدہ میں پوری طرح ادائیگی کا اہتمام کریں ۔سفر کے دوران مزید مسائل پیش آسکتے ہیںوہ اہل ِ علم سے دریافت کرسکتے ہیں۔
سوال  :لاک ڈاون کی وجہ سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اور سب کچھ بند پڑا ہے، کیاایسے حالات میں وہ لوگ ،جو کسی بھی جگہ ملازم ہیں ،تنخواہیں لینے اور مانگنے کا حق ہے یا نہیں؟اس سلسلے میں جن اداروں یا جن افراد کو تنخواہ ادا کرنی ہے ،اُن کا سوال یہ ہو سکتا ہے لاک ڈاون کی وجہ سے ملازمین یا سیلز مین کا م نہ کرپائے اور نہ ڈیوٹی پر آسکے تو تنخواہ کس چیز کی دیں۔ملازمین کی طرف سے سوال ہوگا کہ انہوں نے بذات خود کوئی کوتاہی نہیں کی ہے بلکہ لاک ڈاون کی وجہ سے ڈیوٹی پر نہ آسکے تو اُن کا قصور کیا ہے؟ اس مسئلہ کا جواب عنایت فرمائیں؟
محمد رمضان ۔باغ مہتاب ،سرینگر

لاک ڈائون میں اُجرتوں کی ادائیگی۔ چند پہلو

جواب  : لاک ڈاون کی وجہ سے ملازمین چاہے وہ پرائیویٹ اداروں کے ہوں یا سرکاری محکموں کے ہوں وہ اپنی ڈیوٹی نہیں دے پارہے ہیں ۔اس میں یقینی طور پر خود ملازمین کی کوتاہی کا کوئی دخل نہیں ہے۔یہ مسئلہ عالمگیر ہے اور ہر جگہ کے ملازمین کے سامنے یہ سوال ہے کہ اُن کو اُن ایام کی تنخواہ لینا درست ہے یا نہیں،جن ایام میں وہ ڈیوٹی نہ دے پائے۔یہ مسئلہ اُن اداروں کا بھی ہے جن کو اپنے ملازمین کو تنخواہیں دینی ہیں کہ کیا اُن پر لازم ہے کہ ڈیوٹی کے بغیر بھی تنخواہ دیںیا تنخواہ دینے سے انکار کردیں۔غرض کہ یہ مسئلہ دو طرفہ ہے اور یقیناً بہت بڑے پیمانے کا مسئلہ ہے۔
اس سلسلے میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ جو ملازم اجیر ِخاص کے درجہ کا ہے اور اس نے ڈیوٹی پر آنے میں عملاً کوتاہی نہیں کی ہے اُس کا اجارہ یعنی ملازمت کا ایگریمنٹ برقرار ہے ۔اس لئے اُس کو تنخواہ لینے کا شرعاً حق ہے ۔اگر ملازمت دینے والا ادارہ یا ملازمت دینے والا فرد اپنے ملازم سے کام نہ لے پائے اور ملازم کی کوئی غلطی یا کوتاہی نہ ہو تو بھی اس ملازم کو اجیرِ خاص ہونے کی وجہ سے اُن ایام کی تنخواہ لینے کی اجازت ہے ،جن ایام میں وہ ڈیوٹی دینے کو تیار تھا مگر لاک ڈاون کی وجہ سے نہ آسکا۔
اگر تنخواہ دینے وال فرد یا ادارہ تنخواہ دینے میں بوجھ محسوس کرے تو اُسے پہلے ملازمت ختم کرنے کی اطلاع دینی ضروری ہے اور جب وہ ملازمت ختم کرنے کی اطلاع دے دے تو اُس کے بعد وہ ملازم اجیرِ خاص کے زُمرے سے باہر ہوجائے گا اور اُس کے بعد کے ایام کی تنخواہ لینے اور دینے کا مسئلہ بدل جائے گا ۔اس کی مثال یوں ہے کہ جب تک مرد و عورت آپس میں میاں بیوی ہیں ،دونوں پر ایک دوسرے کے حقوق لازم رہینگے ۔اگر عورت کسی وجہ مثلاً حمل کی وجہ سے شوہر کے حقوق زوجیت ادا کرنے سے عاجز رہی تو بھی شوہر پر نفقہ وغیرہ لازم رہے گا ۔ہاں جب نکاح ختم ہوجائے تو حقوق مالیہ بھی ختم ہوجائیں گے ۔گویا جب تک نکاح قائم ہے حقوق ادا کرنا لازم رہیں گے ۔اسی طرح جب عقد ِاجارہ (ملازمت کا ایگریمنٹ ) قائم ہے ،تنخواہ کا حق بھی قائم رہے گا ۔اس مسئلہ پر ہر جگہ کے اہل علم مسلسل غور بھی کررہے ہیں اور بحث و تحقیق بھی جاری ہے ۔مسئلہ کے دو نازک پہلو ہیں جیساکہ اوپر لکھا گیا ۔
 

تازہ ترین