تازہ ترین

نئی میڈیا پالیسی

تاریخ    12 جون 2020 (00 : 03 AM)   


آزاد صحافت پر براہ راست حملہ: پی ڈی پی 

سرینگر// پی ڈی پی نے میڈیا پالیسی2020کو صحافیوں اور اظہار رائے کیلئے دہشت ناک قرار دیا ہے۔  پارٹی کے ترجمان اور میڈیا مشیر سہیل بخاری نے فوری طور پر اس پالیسی کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے آزاد صحافت کو براہ راست نشانہ بنانے اور حملہ کرنے کے مترادف قرار دیاہے۔انہوں نے میڈیا پالیسی2020کو جمہوری اداروں کو منہدم کرنے کا اور ایک قدم قرار دیتے ہوئے مکمل آزادی اور آزاد آوازکو ختم کرنے کے مترادف قرار دیا۔ سہیل بخاری نے کہا ’’ میڈیا پالیسی کو متعارف کرنے کا اصل مقصد حقیقت میں اپنا ایک اور ایجنڈا مسلط کرنا ہے،جس کی شروعات گزشتہ برس5اگست کے بعد کی گئی کہ لوگوں کو بے اختیار کیا جائے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ میڈیا پالیسی کو علیحدہ نظریہ سے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ اس کھیل کے منصوبے کا حصہ ہے،جو انصاف کے اداروں کو منہدم کریں گی۔ سہیل بخاری نے کہا’’ یہ بدقسمتی ہے کہ صحافیوں کو نشانہ بنانے کے بعد کالے قوانین کے تحت انکی آواز کو خاموش کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں‘‘۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جموں کشمیر کو’’  سخت اقدامات‘‘ کیلئے ایک تجربہ گاہ میں تبدیل کر رہی ہے اور بعد میں ان اقدامات کو پورے ملک میں نافذ کیا جائے گا۔ ترجمان نے کہا کہ یہ بلاواسطہ طور پر بھارت کے صحافیوں کیلئے ایک اشارہ ہے کہ وہ اس مہم کے اگلے شکار ہونگے۔
 

آزادیٔ اظہار پر قدغن غیر جمہوری: قیوم وانی 

سرینگر//سرکار کی نئی میڈیا پالیسی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے سول سوسائٹی ممبر اور ایجیک کے سابق صدر عبدالقیوم وانی نے کہا ہے کہ مذکورہ میڈیا پالیسی غیرجمہوری ہے۔قیوم وانی کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی آزادیٔ اظہار پر براہ راست وار ہے جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ انہوںنے کہا کہ سرکار بلواسط طور آزادی ٔاظہار پر قدغن لگانا چاہتی ہے جبکہ آزادی ٔاظہار کو قانونی حیثیت ہے۔ سابق ایجیک صدر عبدالقیوم وانی نے کہا کہ ماضی قریب میں جس طرح ریاست کے صحافیوں کو مختلف ایجنسیوں کے ذریعے مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا ،وہ قابل تشویش ہے۔ وانی نے کہاکہ جموں وکشمیر کی میڈیا برادری سرکار کے نت نئے حربوں سے واقف ہے اور اگر وہ اس میڈیا دشمن فیصلے کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں تو انہیں سماج کے ہر طبقے سے بھرپور ساتھ اور یکجہتی حاصل ہوگی۔