تازہ ترین

کورونا سے پیداشدہ شرمندگی اور سماجی بدنامی کا مقابلہ کیا جائے

بیمار معیشت اور وباء سے نمٹنے میںتوازن قائم کرنے کی ضرورت : الطاف بخاری

تاریخ    12 جون 2020 (00 : 03 AM)   


سرینگر// اپنی پارٹی صدر سعید محمد الطاف بخاری نے حکومت پرزور دیا ہے کہ جموں وکشمیر میں کووڈ وباء کے پھیلاؤ کو روکنے اور اِس سے متعلق سماجی بدنامی کو ہٹانے کیلئے بیداری مہم شروع کی جائے۔ ایک بیان میں الطاف بخاری نے کہا کہ اگرانتظامیہ خاص طور سے محکمہ صحت کورونا وائرس کی علامات کے بارے میں عوام کو باخبر کرنے کیلئے میڈیا کے ذریعے بیداری مہم چلائے تو اس سے بہترنتائج حاصل ہوسکتے ہیں اور اِس بیماری کے بارے لوگوں میں پائے جارہے منفی تاثر کو دور کیاجاسکتا ہے۔انہوںنے کہاکہ ’’لڑکھڑاتی معیشت اور وباء سے نمٹنے کے درمیان توازن قائم کرنے کیلئے جموں وکشمیر حکومت کو چاہئے کہ ساتھ ہی اِس وباء سے منسلک شرمندگی سے بھی لڑا جائے جس سے لوگ علامات چھپانے پر مجبور ہورہے ہیں‘‘۔ الطاف بخاری نے کہاکہ اگر حکومت نے کاروباری وتجارتی مراکز کھولنے کی اجازت دی ہے تو ہمیں ایسے طریقہ کار تلاش کرنے ہیں جس سے زیادہ بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں سماجی دوری قائم کی جاسکے اور عوام کو اِس سے آگاہ بھی کیاجائے۔علاوہ ازیں صرف اِس بات پرزور دینا کافی نہیں کہ لاک ڈاؤن کے دوران کریانہ دکانیں کھلیں رہیں گی، لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، یہ بھی اہم ہے کہ ایسا حل تلاش کیاجائے جس سے اشیاء ضروریہ اُن لوگوں کے گھروں تک پہنچیں جولاک ڈاؤن کے دوران گھروں سے باہر نہیں جاسکتے۔بخاری نے کہاکہ ایسے کئی واقعات پیش آچکے ہیں جہاں لوگ قرنطینہ مراکز اور اسپتالوں کے آئی سولیشن وارڈ سے فرار ہوگئے جس سے انتظامیہ کی مشکلات مزید بڑھیں اور اُنہیں دوبارہ پکڑکر لاناپڑا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا’’ اِس وقت ہم انتہائی متعدی بیماری سے لڑ رہے ہیں، ہم صحت سے متعلق مغربی ماڈل کو آنکھیں بند کر کے نہیں اپنا سکتے ، ہمیں کووڈ19مخالف مہم چلاتے وقت اپنے معاشرتی اور ثقافتی عوامل کو بھی مدِ نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ الطاف بخاری نے اِس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ صحت امور پرمعاشرتی بدنامی اثر انداز ہے جس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، اس پیمانے پر وائرس سے لڑنے کے لئے لوگوں کو چاہئے کہ وہ ہر سطح پر اِس منفی تاثر کو ختم کریں۔الطاف بخاری نے کہاکہ کووڈ19سے منسلک سماجی بدنامی کو کم کرنے کے لئے اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن، موبائل فون وغیرہ کے ذریعے مہم چلانے کے ساتھ ساتھ حکومت ِ جموں وکشمیر کو کورنٹائن کے بارے پائے جارہے تصور کو بھی درست کیاجائے۔مہم کے دوران اِس بات کو اُجاگر کیاجائے کہ کورنٹائن صرف کویڈ19سے لڑائی کے لئے محض طبی ضرورت نہیں، یہ کوئی سزا ئے موت نہیں اور نہ ہی یہ وائرس متاثرہ لوگوں کو پکڑے جانے پر ریاستی انتظامیہ کی طرف کوئی سزا کے طور ہے بلکہ لوگوں کو یہ سمجھانے اور انہیں قائل کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر چہ آئی سو لیشن وارڈ میں افراد خانہ سے علیحدہ ہوکر وقت گذارنا مشکل ہے لیکن اِس وباء سے صحتیابی کایہی علاج ہے جس کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ اب چونکہ کویڈ کیمونٹی سطح پر پھیل چکا ہے، اس لئے یہ ناگزیر بن گیا ہے کہ حکومت دیہات وقصبہ جات میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بیدار بھی کرے ۔