آخری نشانی

افسانہ

تاریخ    7 جون 2020 (00 : 03 AM)   


اشہر اشرف
بہارکا موسم تھا ۔ہر طرف ندی، نالوں اور خوبصورت آبشاروںکا ملا جھلا شور سنائی دیے رہا تھا۔  مختلف اقسام کے پھول کھلے ہوئے تھے ۔بادِ نسیم ان گلوں میں رنگ بھر رہی تھی جو اس خطہِ عرضی کوایک پُر کیف رونق بخش رہے تھے۔ یہ خوبصورت مناظراپنی اور کھینچ رہے تھے۔ گویا کہ قدرت اپنی تمام رُعنائیوںکے ساتھ جلوہ افروز تھی۔یہی وہ قدرتی نظارے ہیں جن کے بدولت کشمیر کو جنتِ ارضی کہا گیاہے۔
ندی کے کنارے ایک چھوٹی سی پہاڑی کے دامن میں سر سبز سفیدوں اور بید کے درختوں کے درمیان ایک خستہ حال مکان زمانے کی کئی سرد و گرم ہوائوں کی داستانِ ستم سنا رہا تھا۔جہاں زینب دنیا سے بے نیاز اپنے کمسن بچوں کے ساتھ قید حیات کاٹ رہی تھی۔ زینب جس کی خوبصورتی کبھی ہر ایک کو پلٹ کر دیکھنے کے لئے مجبور کرتی تھی۔ جسم میں توازن ، قد فربہ ، گلابی رُخسار، جب ہنستی تو گالوں میں ڈمپل بن جاتے، موٹی گول سرمئی آنکھیں، مرجان  سے سُرخی مائل ہونٹ، آبرو قوسِ قزح ، پلکیں تلوار کی دمار ، لمبی زُلفیں، صراحی دار گردن، ابھری ہوئی چھاتیاں ، جو چلتے ہوئے بے قابوسی ہوجاتی تھیں ۔۔۔۔ گویا  خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھی۔ لیکن اب بالکل اس کے برعکس تھی۔
ـ’’بہت سال ہوئے ہیںجب بابا نے ہمیں چوڑیاں لاکر دی تھیں۔ میں آج بھی انکی کھنک اور خوبصورتی نہیں بھولی۔  مجھے آج بھی یاد ہے جب آپی نے میری وہ  چُوڑیاں کسی بات پر لڑتے ہوئے توڑ دی تھیںتو میں بہت روئی تھی اورکھانا بھی نہیں کھایا تھا۔پھر بابا نے مجھے بڑی مشکل سے منایا تھا۔  پھرجب میری شادی ہوئی تھی تو آپی نے مجھے ایسی ہی چُو ڑیوں کا جوڑا تحفے میں دیا تھااور میری شادی پر بہت سارے کشمیری گانے بھی گائے تھے‘‘   
زینب اپنی کلائی میں پہنی بے رنگ سی  چُوڑیوں کوانگلی سے گماتے ہوئے یادِرفتہ میں کہیں کھو جاتی ہے۔  ’’دس سال ہوئے ہیں ہماری شادی کو۔کتنا حسین لمحہ تھا جب میری شادی زاہد سے ہوئی تھی۔گول سرخی مائل چہرہ، سلیقے سے تراشی ہوئی سیاہ داڑھی، کتر ائی مونچھیں ،درمیانیے بال ،دراز قد، سڈول جسم،سلیم الفطرت،حلیم الطبیعت،ایثار و خلوص کا پیکرایک وجیہ نوجوان۔بابا بہت رویا تھا میری رخصتی پر اور میں بھی بابا کے سینے کے ساتھ لگ کر جی بھر کے روئی تھی۔کتنا پیار کرتا تھا زاہد مجھے؟شاید باباکے بعد سب سے زیادہ۔!جب میں کسی بات پرروٹھ جاتی تو وہ سب سے چھپ چُھپاکر میرے لئے جلیبیاں لایاکرتا تھا۔ وہ جانتا تھا مجھے جلیبی اچھی لگتی ہے۔سمجھو زاہد کی کمزوری زینب اور زینب کی جلیبی۔آج نہ بابا میرے ساتھ ہے نا آپی اور ناہی زاہد ۔ ہائے مارا زاہد۔۔۔۔۔۔۔۔!‘‘
 اس کے ساتھ ہی زینب کی آنکھوں سے آنسوئوں کی  ایک لڑی اتر آتی ہے اور اس کے رخساروں کو تر کرتی ہوئی گر یبان میں جذب ہوجاتی ہے۔گویا کہ مُرجھائے پھولوں پر شبنم کے قطروں کا گزر ہوا۔ ’زہرہ اور زیدد‘ دنیا ومافیہا سے بے فکر اپنے اسکول کا کام کرنے میں مست تھے۔ زہرہ نے جب اپنی ماں کی آنکھوں میں آنسوں دیکھے تو معصوم سی صورت بنائے ہوئے یوں بولی، ـ’’ کیا ہوا ہے اما؟ کیوں اتنا رو رہی ہو؟ کیا ابا کی یاد آرہی ہے؟ ‘‘ زہرہ نے اپنے معصوم انداز میں بغیر سانس لئے کئی سوال کئے، جن کے جواب میں زینب کے پاس سوائے چُپ کے کچھ نہیں تھا۔ننھی سی جان نے اپنی ماں سے جب کوئی معقول جواب نہیں پایا تو خود بھی کہیں خیالوں میں گُم ہوگئی۔ لیکن ٹھوڑی سی دیر کے بعد وہ چونک کر بولی:  ’’ امی ، اب سمجھی آپ کیوں اتنا رو رہی ہو۔۔۔!‘‘ ۔زینب کو زہرہ کے معصوم لیکن بے ساختہ جملے نے چونکا دیا ۔ جلدی سے آنسوں پونچھے اور مسکراتے ہوئے بڑی شفقت سے اپنی بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا:  ’’کیا سمجھی ہو میری ننھی پری۔۔؟‘ ‘ ’’ آپ کو اُبو کی یاد آرہی ہے۔ ۔۔  ہے نا ۔۔۔۔؟ــ‘‘ زہرہ نے اپنی معصوم ادا میں جواب دیا۔ زہرہ  کے اس ناقابلِ توقع فقرے نے زینب کو ورظِ حیرت میں ڈال دیا اور اس نے موضوع کو بدلنے کی ناکام کوشش کی کہ کہیں اس کی بیٹی پھر سے اپنے اُ بو  زاہد کے بارے میںکچھ پوچھ نہ بیٹھے ، کیوں کہ اسے یاد تھا کہ زہرہ تب صرف چھ سال کی ہی تھی جب اس نے زاہد کے بارے میں پوچھا تھا۔ ’’امی اُبو کہاں ہے اور وہ ہمارے ساتھ کیوں نہیں رہتے ہیں؟‘‘ تب زینب نے زہرہ کو یہ کہہ کر ٹال دیا تھا کہ وہ شہر میں کسی کار خانے میں کام کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت  زہرہ  سے زیادہ دیر تک چھپی نہیں رہی تھی۔
 ’’پیارے بچو، جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ اگلی سوموار کو یومِ والدین( Parents day  )ہے ۔اس سال ہمارا اسکول بھی ایک اعزازی نشت Programmeکا اہتمام کرنے جارہا ہے۔ اس لئے آپ تمام بچے اپنے والدین کو ساتھ لیکر آنا اور ہم انہیں دعوت نامہ بھی ارسال کرینگے۔۔۔‘‘   ہیڈماسٹر صاحب مارنگ اسمبلی میں سبھی بچوںسے مخاطب تھے۔ ’’ماسٹر جی، زہرہ دیدی کا تو پاپا ہی نہیں ہے ۔ وہ کس کو ساتھ لیکر آئے گی۔ میری ممی کہتی ہے زہرہ دیدی کی امی کوئی کڈھائی سلائی کا کام کرکے اپنا اور بچوں کا پیٹ پالتی ہے بیچاری!‘‘ ’’مجھے نہیں پتا وہ کیا ہوتا ہے‘‘ زیشان نے ایک ہی سانس میں یہ سب کچھ کہا۔ سارے بچے زہرہ کو دیکھنے لگے۔  ماسٹر جی زہرہ کے پاس آئے اور پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور مسکراتے ہوئے شفقت آمیزلہجے میں کہا: ’’زہرہ بیٹا، تم زیشان کی بات پر دھیان مت دینا۔  یہ بھی تیری طرح ابھی بہت چھوٹا ہے۔ تم اپنی امی کو ضرور ساتھ لیکر آنا ‘‘۔ 
’ ’ٹھیک ہے ماسٹر جی‘‘ زہرہ نے افسردہ چہرا بنائے جواب دیا۔ 
 اس روز ذہرہ روتے ہوئے گھر ائی تھی اور ماں سے اپنے ابو کے بارے میں بہت سارے سوالات پوچھے تھے اور زیشان کی باتیں بھی بتائی تھیں۔ تب زینب نے اسے بڑی مشکل سے سنبھالا تھا۔
  ’’ میری ننھی سی پری، میری جان، میرے ارمان۔۔۔۔۔ آو  میں تم کو ہوم ورک کراتی ہو‘‘۔ زہرہ ۔ نے مزید معصوم سی صورت بنا کر دو زانو ہو کر اپنی ماں کا چہرا اپنے ننے منے ہاتھوں میں لیکر اسرار کرتے ہوئے پوچھا ،’’ کیا ہوا تھا امی اس دن ؟ بولو نا امی۔۔۔۔مجھے سب پتا ہے ۔۔۔ میں آپ کو اکثر روتے ہوئی دیکھتی ہوں۔ لیکن میں آپ سے نہیں کہتی ہوں۔میں بھی پھر اپنے ابو کو یاد کرتی ہوں۔ابو ہوتے تو مجھے اور بھیا کو کتنا پیار کرتے۔۔۔۔۔‘‘ زہرہ  اب آٹھ سال کی ہوگئی تھی۔ اب یہ بڑی بڑی باتیں کرنے لگی تھی۔ وہ اب اپنی ماں کی حالت اورجذبات سمجھنے لگی تھی۔ اس کے اسرار اور تکرار کے آگے زینب بے بس و شکست خوردہ حالت میںپھر ایک بار ماضی کے پنوں میں کھوگئی۔ وہ زمانے کی سرد و گرم ہوائیںجھیلتی ہوئی ٹوٹ چکی تھی۔ اسے اب زہرہ  سے جھوٹ بولنا کسی جُرم سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ اس لئے اس نے کچھ خاص ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔ گویا کہ کسی غم خوارکی تلاش ہی تھی۔
’’زہرہ۔ تم بہت چھوٹی تھی جب ہم پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔ باپ کی شکل میں دنیا کا سب سے بڑ ا سہارا اور زندگی کی تمازت میں شفقت کی گھنی چھائوں فراہم کرنے والا مضبوط ترین ستون زمین بوس ہوگیا ۔ گھر کا شیرازہ بکھر گیا  اور ہم بے آسرا ور بے سہارا ہوئیں۔ سردیوں کا موسم تھا۔جنوری کا مہینہ پُوری شُدت کے ساتھاپنے زور لگا رہاتھا۔تازہ برف بھاری ہوئی تھی ۔ دور دور تک کہیں زمین کا وجود نظر نہیں آرہا تھا ۔ جیسے زمین نے بے رنگ سی چادر اُوڑھ رکھی تھی۔ جنگل سے درندے بستی کی اور اُتر رہے تھے۔ لوگ گھروں میں ڈر کے مارے سہم گئے تھے۔ پرندے بھوک کے ہاتھوں مجبور شکاریوں کے جال میں پھنس رہے تھے اور وہ ظالم قہقہے مار مار کر ان کی بے بسی پر ہنس رہے تھے۔ شام ڈھل چکی تھی۔ بجلی روز کی طرح دو دن سے غائب تھی۔تمہارے اُبو دُکان سے شمع لانے کے لئے نکلے تھے۔ میں نے ان سے کہاتھا کہ باہر اندھیرا ہے اوردرندوں کا زیادہ خطرہ رہتاہے۔میں ایسی حالت میں گھر میں اکیلی ڈر جائوںگی۔ اُس نے میری ایک بھی نہ سنی او ر جاتے ہوئے کہا  تھا کہ وہ جلد لوٹ آئے گا۔ میں نے دروازہ اندر سے بند کیا تھا اور اس کی واپسی کابے صبری سے انتظار کررہی تھی  تو بازار سے چند گولیاں چلنے کی آوزیں سنائی دیں۔  پھر کسی کا سہاگ اُجڑگیا اور کسی کی گود سونی ہوئی، میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا۔میرا دل زور سے دھڑکنے لگا اور میں بے چینی و اضطراری حالت میں باہر نکلی تو وہاں کچھ شور سنائی دینے لگا۔ شور گائوں کی طرف سے ہوتے ہوئے سنائی دینے لگا اور گزرتے وقت کے ساتھ نزدیک تر ہوتا جارہاتھا۔ تھوڑی ہی دیر میں مجھے اندھیرے میں کچھ سائے اپنی طر ف آتے ہوئے نظر آئے۔ میں بہت گبھرائی اور پھر اند ربھاگنے لگی ۔ اس سے پہلے کہ میں اندر جاتی تو وہاں سے آواز آئی : ’ کیا زاہد خان کا گھر یہی ہے؟‘  میںنے گبھرائی ہوئی آواز میں کہا  جی یہی ہے ۔لیکن کیوں۔۔۔ ؟ کیا ہو۔۔ا؟  ان میں سے ایک آدمی نے پہلے باقی آدمیوں کی طرف تذبذب کی حالت میں دیکھا اور پھر مجھ سے مخاطب ہو کر کہا ’ آپ کون ہیں؟‘ میں نے کانپتے ہوئے ہونٹوں سے کہا کہ میں زاہد خان کی بیوی ہوں۔ اس نے بلا تکلف کہا ’ آپ جلدی سے ہمارے ساتھ چلئے آپ کے شوہرکو کسی نے گولی ماردی ہے ۔وہ کافی زخمی ہیںاوروہاں چوراہے پر پڑا ہے۔ اس کے بعد مجھے معلوم نہیں کیا ہوا تھا اور میں اسپتال کیسے پہنچی تھی۔  مجھے جب اسپتال میں ہوش آیا تو میں نے ’ زید ‘ کو اپنی گود میں روتے ہوئے پایا‘‘ زینب کی آنکھوں سے کبھی نہ ختم ہونے والا سیلِ رواں جاری تھا اور ننھی زہرہ بھی زار و قطار رہ رہی تھی۔ 
آخر میں زینب نے خود کو سنبھالا پھر زید اور زینب کو باہوں میں سمیٹ کر  سوزِ جگر میں ڈوبی آواز میں گویا ہوئی:
’’تم دونوں ہی میرے زاہد کی آخری نشانی ہو‘‘
���
موبائل نمبر؛ 7006400948
ڈونگڈارہ ، بارہمولہ۔ کشمیرasharashraf786@gmail.com