تازہ ترین

چپہ چپہ ہے زرخیز میرے کشمیر کا

آئیں غیر آباد زمینوں پر سبزیاں اُگائیں

تاریخ    5 جون 2020 (00 : 03 AM)   


امتیاز خان
آج جبکہ اسرائیل جیسے صحرائی ملک نے اپنے تمام وسائل بروئے کار لاکر ریگزاروں میں سبزیاں ،پھل اور دیگر زرعی پیداوار اگانا شروع کردیا ہے کہ ان میں چند ایک اشیاء برآمد بھی کرتا ہے تو مختلف فصلوں کیلئے موزون آب و ہوا اور موسمی حالات سے مزین جموں و کشمیر اپنی زمینوں سے خاطر خواہ استفادہ حاصل کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوئی ہے۔
انسان کو زندگی گزارنے کیلئے جن بنیادی اشیاء کی ضرورت ہوتی ہے ان میں خوراک ، لباس اور رہائش شامل ہیں۔چونکہ ان اجزا کا تعلق براہِ راست زراعت سے ہے ،اسلئے کسی بھی یا ریاست کیلئے زراعت کلیدی اہمیت کا حامل شعبہ ہے۔ زراعت کا شعبہ نہ صرف عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرتا ہے بلکہ اس کے علاوہ مختلف شعبوں میں عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے اورمعیشت کی ترقی میں کردار ادا کرتا ہے۔
کوروناوائرس کے نتیجے میں پیداشدہ معاشی بحران سے مستقبل میں غذائی تحفظ (فوڈسیکورٹی)اہم ترین معاملہ ہوگا۔خوراک کے معاملے میں خود کفیل ممالک اس بحران سے بڑی حد تک محفوظ رہیں گے ۔اس تناظر میں جموں کشمیر کیلئے یہ ضروری ہے کہ زمین کے کسی ٹکڑے کو غیر آباد نہ رہنے دیا جائے۔
دنیامیں بعض ممالک ایسے ہیں جہاں بے پناہ غلہ پیدا ہوتا ہے اِن میں آسٹریلیا اور کناڈا کا نام لیا جاسکتا ہے جہاں کی آبادی کروڑوں میں ہے لیکن ان کے پاس کاشت کاری کیلئے بے پناہ زمینیں اور جنگلات ہیں اور یہ ممالک کاشت کاری میں نمایاں مقام بھی رکھتے ہیں۔جاپان کی مثال ہمارے سامنے ہے،جہاں زمین کا کوئی چپہ غیر آباد نہیں بلکہ دیوراوں پر جو گملے آویزاں ہوتے ہیں ان میں بھی سبزیاں یا پھول اگائے جاتے ہیں۔یوں سمجھ لیجئے کہ جاپانی عوام ایک انچ زمین سے بھی استفادہ کرلیتی ہے۔
 اب ہم اپنے آس پاس کی طرف نظر دوڑائیں تو بے شمار اراضی نہ صرف بیکار پڑی ہوئی دکھائی دے گی بلکہ کہیں کہیں تو بنجر بنی ہوئی ہے۔روزانہ بازار سے سبزیاں خریدنا یہاں باعث افتخار سمجھا جاتا ہے لیکن اپنی زمین یا گھر کے صحن کو ان خوبصورت سرگرمیوں کیلئے استعمال میں نہیں لایا جاتا ہے۔سبزیوں کے کاروبار سے بھی ایک طبقہ وابستہ ہے اور ایسا کہنا بجا نہیں ہوگا کہ بازار کا رخ کرنا ہی نہیں ہے لیکن بڑھتی آبادی کی مانگ کو پورا کرنے کیلئے نئے طور طریقے اپنانے ہی ہونگے۔ہمیں اس بات کو ملحوظ نظر رکھنا ہے کہ آئے روز مکانات اور کارخانوں کی تعمیر سے زرعی زمین سکڑتی جارہی ہے اوروقت کا تقاضا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی اور نئے اقسام کی سبزیاں کم سے کم رقبے پر کاشت کرکے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کریں۔ ان سرگرمیوں کیلئے ہمیں کیمیائی کھادوں اورزہریلی ادویات کے بجائے گھروں میں روزانہ جمع ہونے والے(Biodegradable) موادکوقدرتی کھاد میں تبدیل کرکے استعمال میں لاسکتے ہیںجس کے نتیجے میں زمین کی پیداواری صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ 
 زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر بالخصوص وادی میں بڑی حد تک اپنی خوراک بالخصوص سبزیوں کی کاشت کرنے میں کوئی دقت کا سامنا نہیںہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ کشمیر میںاکثروبیشتر شاہراہ بند رہنے کے نتیجے میں بھی سبزیوں کی قلت کا سامنا کرنا پرتا ہے۔کبھی کبھار تو شاہراہ کئی کئی روز تک بند رہتی ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف اُن سینکڑوں درماندہ گاڑیوںمیں موجود سبزیاں سڑجاتی ہیںبلکہ وادی میں قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں ۔سبزیوں میں خودکفیل نہ ہونے کی وجہ سے ذخیرہ اندوز مافیا کی کارستانیاں پھر عام آدمی کیلئے مشکلات اور مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
 آب وہوا کی بنیاد پریہاں زرعی سرگرمیاں بالخصوص سبزیوں کی کاشت ایک سودمند سرگرمی ثابت ہوسکتی ہے ۔اگریہ سلسلہ شروع کیا جائے تو آنے والے وقت میں لاک ڈائون یا شاہراہ بند ہونے سے کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔محکمہ زراعت کے مطابق آب وہوا کی بنیاد پر یہاں سبزیاںاگانے کے بارے میں وہ کسانوں کو وقتاً فوقتاً جانکاری بھی فراہم کرتے ہیں، اسلئے کسانوں کو چاہئے کہ ایک ہی فصل اگانے کی بجائے موسم کے لحاظ سے فصلوں کی کاشت پر توجہ دیں۔
سبزیاں اپنی غذائی و طبی اہمیت کی وجہ سے ’’حفاظتی خوراک ‘‘کے نام سے منسوب کی جاتی ہیں اور انسانی خوراک کا بنیادی جزو ہیں۔ ان میں صحت کو برقرار رکھنے اور جسم کی بہترین نشوونما کیلئے تمام ضروری غذائی اجزاء مثلا حیاتین، نمکیات، لوہا، فاسفورس، سوڈیم اور پوٹاشیم وغیرہ وافر مقدار میں پائے جاتے ہیںجو دیگر غذائی اجناس میں قلیل مقدار میں میسر ہیں۔
یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ ودی کشمیر بالخصوص شہر اور قصبہ جات میں گھریلو پیمانے پر سبزیوں کی کاشت (کچن گارڈننگ)ایک شوق کی طرح ابھررہا ہے۔کچن گارڈننگ سے مراد گھریلو پیمانے پر سبزیوں کی کاشت ہے۔ خصوصی طور پر اس سے مراد ایسی سبزیوں کی کاشت ہے جو کسی بھی گھر کی روزمرہ کی ضرورت بھی ہو اور جنہیں کچن کے قریب لان،گملوں ،ٹوکریوں ،لکڑی یا پلاسٹک کے ڈبوں میں اگا کر ہروقت تازہ سبزی کے حصول کوممکن بنا کر گھریلو ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔کچن گارڈننگ کے بہت سے فائدے بھی ہیں جیسا کہ گھر کے اندر فراغت کا وقت اچھا گذرسکتا ہے اور کچن کیلئے ہر وقت تازہ سبزیاں حاصل ہوتی ہیںاور کچن کے ماہانہ اخراجات میں بھی کمی ہوتی ہے۔
دیہی سطح پر یا گھر یلو پیمانے پر سبز یوں کی کاشت سے ہم سبزیوں کے معاملے میں خود کفیل ہوسکتے ہیںاوریہ مشغلہ نہ صرف انسانی صحت کیلئے اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ یہ انسان کے جسم اور دماغ کوتوانا رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں گھروں میں سبزیاں اْگانے کے رجحان میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں کشمیر میں کچن گارڈننگ کو پروان چڑھانے کیلئے محکمہ زراعت کاایک شعبہ ہی قائم ہے جو مختلف مواقع پر متعدد اقسام کی سبزیوں کی پنیری رعایتی داموں پرتقسیم کرتے ہیں۔لال منڈی سرینگر میں محکمہ زراعت کے اس شعبہ کے ایک ذمہ دار الطاف احمد بٹ کا کہنا ہے کہ سبزیوں کی کاشت میں اب لوگ مثبت اپروچ کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈائون کی وجہ سے اس شعبہ کی طرف لوگوں کی دلچسپی میں اضافہ دیکھنے کو ملااور مارچ2020سے مئی2020تک تقریباً12لاکھ پودے انہوں نے رعایتی داموں پر تقسیم کئے ہیںجن میں مرچ، بینگن، کھیرا،کدو، ساگ اورگوبھی وغیرہ شامل ہیں۔
ماہرین خوراک کے ایک اندازے کے مطابق انسانی جسم کی بہترین نشوونما کیلئے غذا میںسبزیوں کا استعمال روزانہ ہونا انتہائی ضروری ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے سبزیوں کی پیداوار میں ممکنہ حد تک اضافہ کریں۔موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر نہ صرف کم آمدنی والے بلکہ تمام طبقہ جات سبزیوں کی کاشت کو فروغ دیںتاکہ لاک ڈائون کی مختلف صورتوں یا شاہراہ بند رہنے کی صورت میں نہ صرف سبزیوں کی قلت پر قابو پایا جاسکے بلکہ مہنگائی جیسی پریشانی سے بھی نجات مل سکے۔
 

تازہ ترین