مردو زن کے مابین صنفی تصادم آرائی

بشریت کے دو اَزلی حلیفوں کو ابدی حریف نہ بنایاجائے

تاریخ    4 جون 2020 (00 : 03 AM)   


فداحسین بالہامی
 عالمی سطح پر انسانی معاشرے کو جن مسائل نے آگھیرا ہے، اُن میں مردو زن کے مابین صنفی جنگ بھی ایک حساس مسئلہ ہے جس نے انسانی سماج کو ایک غیر ضروری چپقلش میں مبتلا کررکھا ہے۔اس چپقلش کے مضرت رساں اثرات کو توضیحاً بیان کیا جائے تو مضمون در مضمون والا معاملہ در پیش ہوگا لہٰذا کنایتاً چند ایک نکتوں پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ صنفی اعتبار سے مردو ں کو عورتوں پر تفوق حاصل ہے لیکن اس صنفی فوقیت کا غلط استعمال کرکے طول تاریخ میں صنف نازک پر مردوں نے گوناگوں مظالم ڈھائے ہیں۔ ہر خطہ زمین اور ہرگذشتہ تہذیب کے ساتھ داستانہائے ظلم وابستہ ہیں کہ جن سے کتابوں کی کتابیں بھریں پڑیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب آزادیٔ نسواں کی تحریک بڑی شدومد کے ساتھ سرزمین یورپ سے اٹھی۔ تو ایک عورت کیلئے اس کا بنیادی منشور'' پیکار با مرد''ہی قرار پایا۔ اس قسم کی تحریکوں سے حقیقی معنوں میں آزادی ٔ نسواں کاپر کشش ہدف حاصل ہوا کہ نہیں ؟یہ ایک الگ بحث ہے البتہ ان تحریکوں کے نتیجہ میں صنفی منافرت نے ضرور سر اٹھایا جس کے واضع اثرات کامشاہدہ انسانی معاشرے میں بآسانی کیاجاسکتاہے۔ آزادی نسواں کی تحاریک کے پیچھے یہ فکر کارفرما تھی کہ جب تک ہوا کی بیٹی اس کے ازلی حریف یعنی آدم کے بیٹوں سے کسی بھی شعبہ ٔ زندگی میں معمولی سی بھی احتیاج رکھتی ہے، اسے ایک آزاد مخلوق قرار دینا سراسرخوش فہمی ہے۔صنف نازک کی بقا ء اور ارتقاء کی راہ میں مردوں کی چودھراہٹ کو واحد سدِ راہ قرار دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی ماڈرن اوربزعم خود( آزادی نسواں کی علمبردار خواتین )مردوں کے شانہ بشانہ نہیں بلکہ ان کے مدِمقابل کی حیثیت سے مسافتِ حیات طے کرنا چاہتی ہیں۔ اس صنفی دوڑ نے فریقین کے مابین ایک وسیع خلیج پیدا کی ہے جسے قریب دکھائی دینے والے زن و مرد حقیقتاً ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔ مرد بیزاری کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ آج ڈنمارک اور اس طرح کے بہت سے شہروں میں خواتین کی ایک کثیر تعداد مردوں کی قربت سے زیادہ کتوں کی قربت کو بہتر سمجھتی ہے اور اس سلسلے میں یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ کتے مردوں کی بہ نسبت وفادار ہوتے ہیں۔ (بحوالہ کتابWestern  Civilization Through Mislim Eyes. By Syed Mujtaba Mosavi )
خواتین کی خود کفالت کا اصل مقصد:    
 مغربی دنیا  میں خواتین کو زندگی کے مختلف شعبوں علی الخصوص معاشی شعبہ میں ایک مخصوص فکری پس ِ منظر کے ساتھ خودکفیل بنانے کی جووکالت کی جارہی ہے،اسے رشتۂ ازدواج میں بندھے مردو زن کے مابین ایک وسیع خلیج پیدا ہوئی ہے۔ اس تناظر میں ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ بظاہر ایک دوسرے کے قریب،ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے ، ایک دوسرے کے ہم سفر کہلانے والے، ایک دوسرے ہمراز و دمساز اور شریکِ حیات مانے جانے والے جسمانی اعتبار سے قریب ہونے کے باوجود بھی ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔ چونکہ عالمِ مشرق اس وقت مغرب کی اندھی تقلید پر کمر بستہ ہیں۔ لہٰذا اس صورت حال کے خفیف اثرات ہمارے معاشروں میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ہمارے یہاں والدین کا اپنی بیٹیوں کو محض اس لئے مروجہ تعلیم سے آراستہ کرنا کہ وہ برسر روزگار ہوں، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اب انکی تعلیم کا مقصد بھی روزگار ہی قرار پایا ہے اور اس روزگار کی حصولیابی کے پیچھے یہی سوچ کار فرما ہے کہ خواتین کسی بھی شعبہ میں مردوں کی محتاج نہ رہیں حتیٰ کہ ایک زوجہ اپنے شوہر کی بھی اس سلسلے میں دست نگرنہ رہے۔ضمناً عرض کرتا چلوںکہ خواتین کی خودکفالت سے اگر اسکی حرمت اور عصمت و عفت پر حرف نہ آئے تو اس میں کوئی عیب نہیں ہے کیونکہ یہ اسلام ہی ہے جس نے سب سے پہلے عورت کو وراثت کا حق اور حقِ ملکیت دے کر اسے معاشی اعتبار سے خودانحصاری سے نوازا۔انسان کی خلقت اور بقا کا نظام جو قدرت نے مقرر کر رکھا ہے، اس کے مطابق مرد و زن ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ حلیف ہیں اور ہرگز ان کے ایک دوسرے پر انحصار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ قرآن ِ مجید نے اس کی صراحت سورہ بقرہ کی آیت میں یوں کی ہے ''ھن لباس لکم وانتم لباس لھن''وہ(عورتیں تمہارے لئے لباس ہیں اور تم(مرد) ان کے لئے لباس ہو'' ۔اس آیت کریمہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر دو صنف(مردو زن) مکمل طور ہم آہنگ ہیں،نیز ان کا ایک دوسرے پر انحصار یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ہے ۔ان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہونا چاہئے معاشی اور صنفی بنیاد پرانہیں الگ الگ کرنا کلی طور پر ا نسانی فطرت کے بر خلاف ہے جبکہ قرآن نے انہیں ایک دوسرے کا لباس قرار دے کر دراصل اولاد آدم کو یہ بتایا ہے کہ ان میں معنوی قرب نہایت ہی ضروری ہے۔کیونکہ لباس کی تین نمایا ں خاصیتیں ہوتی ہیں ، قربت ، حفاظت ،زینت۔ قرآن نے یہ جو لباس کا استعارہ استعمال کیا ہے ،اس کا اولین مقصد یہی ہو سکتا ہے کہ شوہر اور بیوی میں ایسی قربت ہو جیسے لباس اور بدن کی ہوتی ہے۔یہ دونوں ایک دوسرے کی عزت و ناموس کی حفا ظت کا اہتمام کریں۔ جس طرح لباس انسان کو سرد ی اور گرمی سے بچاتا ہے،اسی طرح شوہر اور بیوی بھی زندگی کے سرد وگرم اور بدلتے ماحول میں ایک دوسرے کے کام آئیں اور آپسی زینت کا باعث ہوں۔ ان میں دوئی کا شائبہ تک نہ ہو ں بلکہ دو جسم ایک جان کی مانند ہوں۔
 لیکن خود انحصاری کا جو لیکھا جوکھا آج عالمی سطح پر ابھرکر سامنے آرہا ہے اور جس نے دنیا کے ہر خطے کو کسی نہ کسی لحاظ سے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ،اس کا اصل ہدف یہ ہے کہ زندگی کی گاڑی کو چلانے والے جو دو پہئے (مرداور عورت)جو اب تک ایک ہی سمت کی جانب رواں دواں تھے )وہ ایک دوسرے کی مخالف سمت میں حرکت کریں۔ ان کے مابین اشتراک ختم ہوجائے اور افتراق سراٹھائے اور صنفی بنیادوں پریہ افتراق بشریت کے تاروپود بکھیرنے کے لئے کافی ہے کیونکہ اس کا راست منفی اثر عائلی زندگی پر پڑتا ہے اور عائلی نظام کی کمزوری معاشرے کی اساس کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔
 مساوات ِبین مردو زن یا مخاصمت بین مرد و زن:       
اس افتراق اور چپقلش کو ہوا دینے کے لئے ’’مساوات بین زن ومرد‘‘ کاخوش کن نعرہ لگایا گیا ۔ سماجی ،ثقافتی، سیاسی، اقتصادی ، ادبی غرض ہر سطح پر تحریکیں چلائی گئیں جنہوں نے نہ صرف ان کے مابین سرد مہری کی فضاء قائم کی بلکہ سرد جنگ کا سماں پیدا کرنے کے لئے ایک اہم رول اد کیا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ فرسودہ پدر شاہی نظام (MALE DOMINATED SYTEM) نے جہاں ایک عورت کی عظمت و شخصیت کو کافی حد تک پامال کیا وہیں اس پدر شاہی  نظام (MALE DOMINATED  ( کو ختم کرنے کے لئے جو بھی تحریکیں اٹھیں،اُن سے صنفی منافرت و تعصب نے ایک آندھی کی صورت اختیار کی جو گھروں کے گھر اجاڑ رہی ہے۔ ان تمام ہمہ جہت تحریکات کا احاطہ کرنایہاں پر کافی طوالت کھینچے گا۔ اس لئے ان میں سے’’ مساوات زن و مردِِ‘‘کے حوالے سے جو ادبی تحریک سر زمین یورپ سے چلی اور جس نے بعد ازاں دیگر مشرقی ادباء،افسانہ نویسوں، شعراء اور ناول نگاروں کو متاثر کیا، کا سرسری جائزہ پیش کیا جائے گا تاکہ قارئین کرام یہ اندازہ لگا سکیں کہ حقوقِ نسواں کی بازیابی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے کس طرح صنفی جنگ کی آگ کا ایندھن بن گئے۔
مساواتِ نسواں کی ادبی تحریک کا لب ِ لباب:
ادبی سطح پر یورپ کی ایک خاتون مصنفہ ورجینا وولف کا نام ’’مساوات نسواںـ‘‘feminism )) کے حامی دانشوروں اور ادیبوں میں سرفہرست مانا جاتا ہے۔ ’’حقوق نسواں کی بازیابی‘‘ یا ’’ مساوات بین مردو زن‘‘ کی ادبی تحریک کا باضابطہ آغاز اس مصنفہ کی ناول نگاری اور مضمون نگاری سے ہوا۔ ان کی قلمی جولانیوں کا نچوڑ بھی یہی تھا کہ مرد نے طویل تاریخ میں عورت کا ہمہ پہلو استحصال کر رکھا ہے اور اس صنف نازک پر گوناگوں مظالم روا رکھے گئے ہیں لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے مادر پدر آزادی مل جائے اور یہ مرد کے چنگل سے آزاد ہوجائے۔پھر اپنے صنفی دشمن کو لتاڑنے اور پچھاڑنے میں اپنا سارا زور استعمال کرے۔بنگلہ دیش کی ایک اور مصنفہ تسلیمہ نسرین بھی اسی تحریک کا حصہ بنی اور اس نے بھی اپنی تمام تر قلمی نگارشات کو ’’مرد ستیزی ‘‘ کی نذر کردیااوراپنی واہیات کو اسی بہانے منظر عام لایا۔فروغ فرخ زاد نامی ایک ایرانی شاعرہ، جو قبل انقلاب فارسی ادب کے منظر نامے پر شد و مد کے ساتھ نمودار ہو ئی اور اس کی فکر کا محور نام نہاد آزادیٔ نسواں اور ’’پیکار با مرد ‘‘ ہی تھا۔اس کی ایک نظم کا ہی نام’’ پیکار با مرد‘‘یعنی ’’مرد کے ساتھ جنگ ‘‘تھا۔ 
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا 
جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا 
مردوں کیلئے ہر ظلم روا عورت کیلئے رونا بھی خطا 
مردوں کیلئے ہر عیش کا حق عورت کیلئے جینا بھی سزا 
مردوں کیلئے لاکھوں سیجیں، عورت کیلئے بس ایک چتا
(ساحر لدھیانوی) 
صنفی تصادم آرائی کا نتیجہ:
 مختصراً بشریت کے جو دو پہلو(مرد اور عورت) ایک دوسرے کے بغیر ناقص و نامکمل ہیں ،جن کا سرچشمہ ٔ وجود یکسان ہے، اور جو ایک ہی ماں اور ایک ہی باپ(آدم و حوا )کی اولاد میں سے ہیں بلکہ ان کی نمائندگی کا فریضہ انہیں کے ذمہ ہے۔ان کے آپسی معاونت و ہمکاری کے بغیر بشریت کی بقاء وارتقااور تربیت و تکامل ناممکنات میں سے ہیں۔لیکن افسوس بشریت کے ان دو ازلی حلیفوں کو ابدی حریف بنا کر پیش کیا جا رہاہے۔صورت حال کو یوں ایک مثال کے ذریعے سمجھایا جا سکتا ہے کہ اس نظری تصادم کے نتائج بشریت کے لئے کس قدر بھیانک ہوں گے، اسے بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ اس کے نتائج مشرق و مغرب میں بالکل واضع اور نمایاں ہیں۔البتہ اس در پردہ صنفی جنگ نے بشریت کو کتنا نقصاں پہنچایا ہے، اس کا اندازہ لگانے کے لئے ایک بات کا ذکر یہاں پر کافی ہوگا کہ شرحِ طلاق میں عالمی سطح پر1960ء سے لے کر اب تک قریباً252فی صداضافہ ہوا ہے۔شرحِ طلاق میں اس قدر ناقابل یقین اضافہ تشویشناک ہے۔صنفی تصادم آرائی نے بہت سے ایسے گھروں کو اپنا نشانہ بنا دیا ہے جہاں میاں بیوی ایک ساتھ تو رہتے ہیں لیکن پھر بھی ایک دوسرے کا ساتھ نہیں نبھاتے ہیں۔ ان کی زندگی آپسی رسہ کشی اور منافرت میںہی گزر جاتی ہے۔’’ایلاء ‘‘نامی ایک رسم جو دور جاہلیت میں عربوں میں رائج تھی اس کے مطابق ایک شوہر اپنی بیوی کونہ ہی طلاق تو دیتا تھا اور نہ ہی اسے بساتا تھا ۔بالفعل یہ رسم آج بہت سی جگہوں پر رائج ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر نمونہ صفحہ ۵۲۹) 
email: fidahussain007@gmail.com
cell: 7006889184
 

تازہ ترین