تازہ ترین

ہند ۔چین سرحدی مناقشہ

منظر کو سمجھنے کیلئے پس منظر جاننا لازمی

تاریخ    4 جون 2020 (00 : 03 AM)   


وپالا بالاچندرن
یہ مشاہدہ مایوس کن تھا کہ بھارتی ویب سائٹس پر اُس عہد سے متعلق مواد موجود نہیں ہے جس میں 1993میں’’ہند ۔چین سرحدی علاقوں پر لائن آف ایکچول کنٹرول پرامن وسکون کی برقراری سے متعلق معاہدہ‘‘طے پایاتھا۔نتیجہ کے طور ہمیں اقوام متحدہ اور سٹیم سن سینٹر جیسی غیرملکی ویب سائٹس کو کھنگالنا پڑتا ہے۔ یہ معاہدہ 1988 میں راجیو گاندھی کے کامیاب دورہ چین اورعظیم چینی رہنما ڈینگ ژاؤپنگ سے ان کی ملاقات کا براہ راست نتیجہ تھا۔
 اس کے علاوہ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور چینی وزیر اعظم لی کی شیانگ کے مابین 23 اکتوبر 2013 کو دستخط شدہ "ہندوستان اور چین کے مابین سرحدی دفاعی تعاون کا معاہدہ" کی اگر صدق دلی ساتھ پیروی کی جاتی تو 2017 کا ڈوکلام تنازعہ یا موجودہ سرحدی کشیدگی جیسے واقعات کو روکا جاسکتاتھا۔
 1993 کے معاہدے میں کہا گیا ہے کہ باؤنڈری کی حتمی تصفیے کے لئے ہر فریق لائن آف ایکچول کنٹرول کا احترام کرے گا۔ اگرایک  فریق سے لائن عبور ہوتی ہے تو وہ دوسری طرف سے احتیاط برتنے پر پیچھے ہٹ جائے گا۔ مشترکہ کوششوں سے سرحدی صف بندی کے بارے میں اختلافی آراء کو حل کیا جائے گا۔ 2013 کے معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر سرحدی افواج کا آمناسامنا ان علاقوں میںہوتا ہے جہاں سرحدوں کی حدود کے بارے میں یکساںسوچ نہیں ہے ،تو حتی الامکان خود احتیاطی سے کام لیاجائے اور طاقت کے استعمال یا طاقت کا حقیقی استعمال کرنے کی کوئی اشتعال انگیز حرکت یادھمکی نہیں دی جائے گا۔اگر ایسا ہے تو ہم دونوں اطراف سے اس طرح کی دھینگا مشتی کے نظارے کیوں دیکھ رہے ہیں؟میرے نزدیک اس کی وجہ مائو روایات خاص کر محصوریت کے عالم میں چینی دماغ کے کام کرنے سے متعلق ہماری کم عملی یا کم فہمی ہے۔
 صرف جواہر لال نہرو ہی اپنے وسیع سفر کے ذریعے ماؤ نواز چین کی روش ہماری آزادی سے پہلے ہی سمجھ گئے تھے۔ انہوں نے ماؤ کے اقتدار میں آنے سے قبل امریکی صحافی اگنیس سمیڈلی اور فرانسیسی دانشور آندرے ملروکس جیسے لوگوں سے بھی اس موضوع پر گفتگو کی تھی۔ اگنیس سمیڈلی، جو نیویارک میں لالہ لاجپت رائے کے معاون تھے ، نے 1926 میں برسلز میں نہرو سے ملاقات کی تھی۔ وہ ینان غاروں میں رہنے والی پہلی امریکی خاتون صحافی تھیں جہاں چیئرمین ماؤ اور ان کے ساتھی رہتے تھے اور کام کرتے تھے۔ اس کے ذریعہ ہی ماؤ کو ہندوستان کے بارے میں معلوم ہوا تھا۔
 1951 میں نہرو نے ہندوستان میں امریکی سفیر چیسٹربائولس کو بتایا کہ چین ممکنہ طور پر"جارحانہ اور توسیع پسند"ہے۔ مرحوم ہاورڈ بی شیفر ، جوبائولس کے معاون تھے اور بعد میں پاکستان میں امریکی سفیر تھے ، نے 1993میں 1951-53 اور 1963-69 میں دو بار ہندوستان میں امریکی سفیر رہنے والے چیسٹربائولس کی سوانح عمری میں یہ بات درج کی ہے۔
 امریکی قومی دفاع یونیورسٹی کی طرف سے 1994 میں شائع ہونے والی ایک کتاب "چائنیز ایٹ دی نیگوشیٹنگ ٹیبل یعنی مذاکراتی میز پر چینی" میں چینی ذہنی رجحانات اور حکمت عملی کی تفصیل دی گئی ہے۔ یہ ڈاکٹر الفریڈ ڈی ولیم جونیئر نے لکھی تھی جو اٹلانٹک کونسل کے نائب صدر تھے۔ اس کا دیباچہ سفیر الیکسس جانسن کا ہے جنہوں نے صدر نیکسن کے 1972بیجنگ دورہ سے قبل 1979میں سفارتی تعلقات شروع ہونے سے پہلے چیکو سلوواکیا میں امریکی سفیر کی حیثیت سے (1953-58) ، جنیوا اور وارسا میں ماؤ کے سفیروں کے ساتھ بات چیت کی تھی۔
 بنیادی تصور،جس کے تحت ماؤ نے دوسروں کے ساتھ تعلقات کی وضاحت کی تھی، وہ یہ ہے کہ چین "مغربی سامراج کی وجہ سے 100 سال تکلیف اور ذلت کے بعد" کسی بھی ایسی بڑی قوت یایا طاقتوں کے بلاک کے ساتھ ایسے تعلقات کی اجازت نہیں دے گا جو چین کے سیاسی ، نظریاتی ، معاشی ، ثقافتی مفادات کے متصادم نظر آئیں۔ انہوں نے دوسرے ممالک سے چین کے اصولوں اور اقدار سے ہم آہنگ ہونے کی توقع کی ،یہاں تک کہ چنگ خاندان کے زوال کے برسوں (1644-1912) میں بھی انہوں نے بہت سی ادارہ جاتی تبدیلیاں نہیں کیں۔ چین نے "مساوات اور باہمی فائدے" کے اصول کو برقرار رکھا اور مزید کہا کہ "دروازہ بیرونی سے زیادہ اندر کی طرف جھولتا ہے"۔ اس اصول کی بنا پر عوامی جمہوریہ چین نے تعلقات معمول پر آنے کے پانچ سال بعد بھی 1984 میں امریکہ کو "دوست" کی درجہ بندی میں شامل نہیں کیاحالانکہ اُس وقت سوویت یونین کو بنیادی خطرہ سمجھا جاتا تھا۔
 اس پیچیدہ رشتوں کی نوعیت میں بھارت کہاں کھڑا ہے؟ سوویت یونین کے ساتھ چین کے تعلقات اُس وقت خراب ہوئے جب سوویت یونین نے مارکسسٹ-لیننسٹ اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ یکطرفہ سمجھوتے گئے۔ چین کو کوریائی جنگ کے دوران ماسکو کے ایک "سروگیٹ" یا نائب یا پروردہ کی حیثیت سے خمیازہ بھگتنا پڑا جبکہ 1958 کے تائیوان آبنائے بحران کے دوران اور 1962 کی چین - ہندوستانی جنگ کے دوران سوویت حمایت کہیں موجود نہیں تھی۔
 چینی لغت میں ممالک سے مذاکرات کیلئے تعلقات کو بیان کرنے کے لئے مختلف الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں: "تنپن" سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں فریق حتی کہ سخت دشمن بھی ہیں ، یہ دیکھنے میں سنجیدہ ہیں کہ صورتحال خراب نہ ہو۔ "ہوتن" کو گفتگو کو معمول پر لانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے اعتماد کو کسی دشمنی سے مبرا سمجھا جاتا ہے۔ "ہوشینگ" دوست ممالک کے درمیان استعمال ہوتا ہے۔ "ژیشانگ" اعتماد کی اعلی سطح کا اشارہ کرتا ہے اور اسے "مشاورت" کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس فارمولے سے وضاحت ہوتی ہے کہ کیوں چین نے جولا ئی1971 میں کسنجر کے خفیہ دورے کویقینی بنانے اور صدر رچرڈ نکسن کے1972کے تاریخ ساز بیجنگ دورہ کیلئے راہ ہموار کرنے کی خاطر خفیہ بات چیت کیلئے پاکستان کو خصوصی طور پر پاکستان کو ترجیح دی ۔
 1971اور1971میں چین نے بھارت کو سویت یونین کا دم چھلا تصور کیاجوچائونلائی ۔کسنجر اور چائونلائی ۔نیکسن مکالموں کے ریکارڈ سے واضح ہوجاتا ہے ۔ انہوں نے خاص طور پر1956کے بعد نکیتا خراچو کے اکسانے پراکسائی چن پر دعوے کرنے کیلئے نہرو کو ہدف تنقید بنایا۔ 1972 میںچائو نے مسز اندرا گاندھی کو پاکستان کودھمکی دینے پر چین کے مخالفین میں شامل کیا۔ 1988 میں راجیو گاندھی کے کامیاب دورے کے بعد ہی ہندوستان کی حیثیت کو "ہوتن" سطح کی مذاکرات کے لئے اپ گریڈ کیا گیا تھا۔ بھارت 1998میں اس مقام یا حیثیت سے اُس وقت محروم ہوگیا جب وزیراعظم واجپائی کا وہ نامناسب خط افشاء ہوکر13مئی 1998کو نیو یارک ٹائمز میں شائع ہوا جس میں انہوںنے بھارت کے جوہری تجربات کیلئے چین کو ذمہ دار ٹھہرایاتھا ۔
اس پس منظر میں یہ سمجھنا آسان ہے کہ چین مودی سرکار کے ساتھ سرحدی کھیل کیوں کھیل رہا ہے جنہوںنے ہندوستان کی خارجہ ، مالی ، تجارتی اور سیکورٹی کی پالیسی کو امریکی ترجیحات کے ساتھ قریب سے جوڑ دیا ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی چین سے دستبرداری کے مشورے کے بعد ہم نے امریکی کاروباری اداروں کو ہندوستان میں اپنے پنجے گھاڑنے کی اجازت دینے پر اپنی آمادگی کا اشارہ کیا ہے۔ سینئر وزیر نتن گڈکری نے 27 اپریل کو یہاں تک تجویز پیش کی تھی کہ’’بھارت کو چین کے لئے دنیا کی نفرت کوبھارت کیلئے معاشی مواقع میں تبدیل کرنے کے امکانات کا جائزہ لیناچاہئے‘‘۔لہٰذا "ووہان" یا "ممالا پورم" کے متعدد مذاکرات اس وقت تک صرف "واقعات" ہی رہیں گے جب تک یہ شک چینیوں کے ذہنوں میں رہتا ہے۔
 (کالم نویس سابق سپیشل سکریٹری ، کابینہ سیکرٹریٹ ہیں ،مضمون بلین پریس کے شکریہ کے ساتھ شائع کیاجاتا ہے،مترجم ریاض ملک)
 رابطہ :thebillionpress.org