منشیات کے دلدل میں دھنسا کشمیری معاشرہ

خاموش قاتل سے پیچھا چُھڑائیں

تاریخ    3 جون 2020 (00 : 03 AM)   


بلال احمد پرے
آج کل منشیات نے سماج کو پوری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جو انتہائی تشویش ناک بات ہے۔ 27 دسمبر 2019کو حکومت جموں و کشمیر حکومت کے ذریعے عدالت عظمیٰ میں دائر کی گئی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ساڑھے تین لاکھ افراد منشیات کے دلدل میں پھنس چکے ہیں جنہیں علاج و معالجہ کے علاوہ پیشہ وارانہ مدد کی نہایت ضرورت ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 99607 افراد شراب نوشی کے شکار ہیں جبکہ 25731 گانجہ، 124508 فکی، 2401 سیڑیٹیویز، 29882 انہالینٹس، 831 اے ٹی ایس کے شکار ہیں اور 25098 انجکشن کے ذریعے منشیات کو جسم میں براہ راست داخل کرنے والے مریض بن چکے ہیں۔ اسی طرح باقی منشیات کے مد مقابلہ میں ہیروئن (Heroin) کا استعمال وادی کشمیر میں کافی حد تک بڑھ چکا ہے۔ رجسٹرڈ مریضوں میں سے 90 فی صدی ہیروئن کے شکار ہے جن میں 20 سے 30 فی صدی اس مہلک و جان لیوا نشہ کو براہ راست انجکشن کے ذریعے جسم میں داخل کرتے ہیں۔ (بحوالہ گریٹر کشمیر، 28 دسمبر 2019ء ص/1)
 منشیات کا شکار ہونے کی سب سے اہم اور بڑی وجہ یہ ہے کہ چرس،گانجا، فکی، افیون، ہیروئین اور دیگر دماغی توازن بگاڑنے والی ممنوعہ اشیاء کی بہ آسانی دستیابی ہے۔ گھریلو تشدد، جھگڑے و فساد، پریشانی، تناؤ، محبت و تعلیم میں ناکامی، بے روزگاری، کسی عزیز کی موت، قلیل مدتی لذت و سکون حاصل کرنے اور تکلیف و الجھن سے بچاؤ جیسے اس نشے کے دیگر وجوہات بھی پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے اردگرد ماحول میں نشہ آور آدمی کی پیروی، دوستوں کی صحبت، نامناسب ماحول کے تحت مجبور ہونا، زیادہ کام اور تھکن کی بنا پر، والدین کی غفلت، بہتر خاندانی تعلقات کا بگاڑ، بے یارو مددگار ہونا، لاعلمی، گھٹن، زیادہ لاڑ و پیار، وافر مقدار میں پیسوں کا ہونا، شوق یا فیشن کے طور لینا وغیرہ بھی نشہ کے شکار ہونے کے دیگر وجوہات پائے گئے ہیں۔ 
نشہ کرنے والے افراد اکثر اَمراض جسم و تنفس کے شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کی سانس کی نالی تنگ ہو جاتی ہے۔ پھیپھڑوں میں بلغم جم جانے سے ان کی حرکات سست ہو جاتی ہے۔ انہیں تپ دق، دمہ، برونکائیٹس کی بیماری لگنے کے ساتھ ساتھ منہ و ناک یا دونوں کے راستے سے خون بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ بعض نشے قبض اور بعض پیچش لگا دیتے ہیں سب سے زیادہ مضر اثرات دماغ پر ظاہر ہوتے ہیں۔ اس میں مرگی، چکر آنا، لڑکھڑاتی چال، سستی، نیند کا نہ آنا، پاگل پن اور سوچنے و سمجھنے کی قوت کھو دینا قابل ذکر ہیں۔ منشیات سے امراض جگر جیسے خون کی کمی، چہرہ کی زردی، جسمانی کمزوری، بیماری کا مقابلہ کرنے کی طاقت کھو دینا ( Antibodies)، بھوک کے ضائل ہونے کے ساتھ ساتھ گردے بھی بے کار ہو جاتے ہیں۔ پیشاب میں بھی خون پایا جاتا ہے، آنکھوں کی بینائی دن بدن کمزور ہو جاتی ہے۔ بالوں کا گرنا شروع ہو جاتا ہے۔ 
اس کے علاوہ منشیات میں ملوث افراد کے ہاں جو اولاد ہوتی ہے وہ دماغی طور پر کند ذہن یا کسی پیدائشی خرابی میں مبتلا ہوتی ہے۔ ازدواجی زندگی برباد ہو کر رہ جاتی ہے بچوں میں رعب نہیں رہتا، رشتہ دار بھی ساتھ دینا چھوڑ دیتے ہیں۔ نشہ آور افراد نہ صرف منشیات پر رقم خرچ کرنے سے اپنے گھر کو تباہ کرتے ہے بلکہ چوری و ڈکیتی اور قتل و غارت گری جیسے بڑے جرائم کا مرتکب بھی بن جاتے ہیں۔ اکثر اپنی حقیقی دنیا کو بھول کر محض خیالات کی وادیوں میں بھٹکنے لگتے ہیں۔ پست ہمتی، اخلاقی گراوٹ، بے شعوری بڑھتی جاتی ہے۔ اور آخر کار سماج کے لیے ناسور بن کر بے وقت موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
 متبادل فصل اور ماہر زراعت کا کردار
منشیات کو جڑ سے ہٹانے کے لیے نہ صرف سخت قوانین درکار ہے بلکہ ماہر زراعت کے کردار ادا کرنے کی بھی سخت ضرورت ہے۔ ماہرین کے زریعے ہی کاشت کار کو مؤثر انداز میں صحیح مشورے دے دیئے جائیں۔ انہیں منشیات کی فصل سے زمین پر منفی اثرات پڑنے کے بارے میں آگاہ کریں۔ ایسی فصل کی جگہ متبادل فصل کی کاشت کی جائے، جو کاشت کار کے ساتھ ساتھ سماج کے لئے بھی منافع بخش ہو۔ لہسن، لیوینڈر، ادرک، مونگ پھلی، سورج مکھی، مٹر وغیرہ جیسے فصلیں منشیات کی جگہ اگانے سے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ اقتصادی ترقی بھی ممکن ہو سکتی ہے۔ اس طرح زراعت کے شعبے میں روزگار کے نئے مواقع بھی میسر ہو سکتے ہیں۔
 چونکہ یہ مسئلہ انفرادی سطح کے بجائے اجتماعیت کا مسئلہ ہے جس نے ہمارے سماج کو ناسور بنا دیا ہے اور سماج کے بہترین اشخاص کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ یہ ایک شخص کے پہل کرنے سے حل نہیں ہو جائے گا۔ اس انتہائی مہلک وبا کو جو ہمارے معاشرے میں ناسور کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے کو اولین ترجیحات پر سدباب کرنا ہوگا۔ حکومت کی زمے داری بنتی ہے کہ اس پر قابو پانے کے لئے جس قدر  NDPS کا سخت قانون بنانا پڑے وہ بنائے اور اس پر من و عن عمل درآمد کروائے۔ اس لیے کہ یہ ہماری بقا کا مسئلہ ہے اور نئی نسل کی صحت و زندگی کا سوال ہے۔ 
آئے روز وافر مقدار میں ذہنی فتور پیدا کرنے والی ممنوعہ اشیاء کو زیر زبطی لایا جاتا ہے لیکن اس سے کئیں گنا زیادہ سماج کو تباہ و برباد کرنے کے خاطر منشیات کا کاروبار کرنے والوں کے ہاتھوں بآسانی پہنچ جاتا ہیں۔ لہٰذا بھنگ (Cannabis) اور خشخاش (Opium ) کی کاشت کرنے والوں کے خلاف، اس کے بیچنے، خریدنے، استعمال کرنے، درامد و برآمد کرنے والے، خواہ کوئی بھی ملوث ہو کو سخت ترین قانونی کارروائی کر کے سزا بھی ملنی چاہیے، نہ کہ صرف احکامات کے صادر ہونے تک ہی محدود رہیں۔محکمہ پولیس کو دیانتداری سے اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔منشیات کے عادی مجرمان کے چال و چلن، کاروبار، ملنے جلنے والوں پر کڑی نظر بنائے رکھنا ہوگا۔ ان کے پیچھے ان کے ہی آبائی علاقوں کے باشندوں کو بطور خبر رساں اشخاص لگا دیے جائے۔نیشنل ہائے وے پر گزرنے والی تمام گاڑیوں کی چیکنگ کی غرض سے ٹول پلازوں پر جدید ٹیکنالوجی سے لیس اسکینر نصب کروانے ہوں گے۔ محکمہ مال، ایکسائز،  پولیس اور ممنوعہ ادویات مخالف سرگرم فورس ’’اینٹی ڈرگ ٹاسک فورس‘‘ کو آپسی تال و مال بناتے ہوئے بھنگ و خشخاش کی کچی فصل کو بلا کسی اثر و رسوخ کے قبل از وقت ہٹانا چاہیے اور کاشت کاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔ کرناہ (کپوارہ) سے لے کر لکھن پور (کٹھوعہ) تک تمام داخلہ و اخراج ہونے والے راستوں پر کڑی نگاہ بنائے رکھنا ہوگا، کشمیر سے صوبہ جموں کی طرف آنے والے تمام راستوں پر پولیس کے سخت پہرے لگائے رکھنا ہوگا، سرینگر- جموں قومی شاہراہ پر مال بردار گاڑیوں خصوصاً تیل و گیس ٹینکرز کو تلاشی کیے بغیر جانے نہ دیا جائے اور نیشنل ہائے وے- 44  پر چل رہے مختلف ڈھابوں پر چھانپے مار کاروائی کرنا لازمی ہوگا۔
عدلیہ، میونسپل اور پنچایت گھروں، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں، طبعی عملہ جات، پولیس تھانوں، ایس ڑی ایم اور تحصیلداروں کے علاوہ قومی و بین الاقوامی کھلاڑیوں، غیر سرکاری تنظیموں، غیر منافع اداروں، صحافیوں، قلم کاروں، مذہبی و سیاسی رہ نمائوں، ٹیلی ویڑن اور ریڈیو سے منسلک فن کاروں، اسکالروں اور دیگر غیر معمولی انعامات حاصل کردہ افراد کے زریعے بہتر سے بہترین انداز میں آگاہی پھیلائی جائے۔
 نشہ کی لت چھڑوانے کیلئے قائم کئے گئے باز آبادکاری مراکز کو مزید فعال بنا کر انہیں وسعت دیتے ہوئے بلاک سطح پر نافذالعمل بنایا جائے۔اس کے لیے پیشہ ورانہ ماہرین کی خدمات حاصل کریں۔ بہتر سے بہترین نشہ سے بچاؤ کے لیے مربوط باز آبادکاری مراکز بنائے جائیں۔اس کے علاوہ خاندان کا رویہ، صلاح و مشورہ، کونسلنگ، انفرادی و گروپ تھراپی، اعتماد پیدا کرنا، دیکھ بھال اور نشہ چھوڑنے کے بعد ان کی مسلسل نگہداشت یا فالو اَپ جیسی تدابیر کو اختیار کر کے ہی اس ناسور کو جڑ سے ہی اکھاڑا جا سکتا ہے۔ اس طرح "جیو اور جینے دو" کی جیسی اصطلاح کو زمینی سطح پر کامیاب بنا کر ایک مہکتا ہوا گلستان بنایا جا سکتا ہے جو منشیات سے پاک، چمکتے و مہکتے ہوئے پھولوں سے آراستہ چمن ہوگا۔
رابطہ : ہاری پاری گام ترال،موبائل نمبر9858109109
 برقی پتہ :  paraybilal2@gmail.com 
 

تازہ ترین