عیش پرستی بربادی کا سبب، زندگی سے لڑنا شیوہ مسلمانی

نوبہ نو

تاریخ    3 جون 2020 (00 : 03 AM)   


منتظر مومن وانی
عیش پرستی ایک ایسی نفسیاتی بیماری ہے جو انسان کے غیرت اور ہمت کو موت کی نیند سلا کر تباہ کرتا ہے۔اس بیماری سے انسان زندگی کے حقیقی مٹھاس سے بے خبر رہتا ہے۔اس لیے علامہ اقبال ؒ نوجوان کو کبھی شاہین کے اڑان کا پیغام دیتا ہے تو کبھی پہاڑ میں بسیرا کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔عیش پرستی چھوڑ کر جب انسان کاہلی سے دور ہوکر ہمت سے کمر بستہ ہوتا ہے تو پھر وقت کے حالات اس کے تابع بن جاتے ہیں۔
 ہمت عالی تو دریا بھی نہیں کرتی قبول
غنچہ ساں غافل ترے دامن میں شبنم کب تک
 (ہمت والے انسان کے آگے اگر سمندر یا دریا بھی ہو وہ اس کو بھی ٹھکرا کر آگے جاتا ہے. اے کم ہمت اور عیش پرست انسان کب تک معمولی شبنم کے قطروں پر قناعت کرو گے. محنت اور ہمت سے اپنے عظمت کا سامان تیار کر)
سماجی تحقیق سے جب انسان لوگوں کے حال واحول کو پڑھتا ہے تو پھر یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ جو لوگ زندگی کے سفر کے پہلے مرحلے میں ہی ناکامی کا واویلا کرتے ہیں وہ اکثر سستی اور عیش پرستی کے شکار ہوتے ہیں۔زندگی سے لڑنا جب انسان اپنا مزاج بناتا ہے پھر اس کی اندر کی ہمت جاگ جاتی ہے اور اس میں یہ فہم جنم لیتی ہے کہ وہ حالات کا رخ ہنستے ہنستے تبدیل کرسکتا ہے۔انسان کو خود میں وہ مزاج پیدا کرنا چاہیے کہ وہ کسی بھی مشکل حالات میں شیر کی طرح آگے بڑھے۔
دوسری جانب عیش پرستی وہ وبا ہے جو کسی بھی قوم کو تباہ کرکے ہی چھوڑتی ہے۔ اللہ تعالی انسان کو یہ بات سمجھاتا ہے کہ:’’اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہے پھر وہاں کے عیش پرستوں کو حکم دیتے ہیں وہ بدکرداری میں لگ جاتے ہیں ایسے میں اس بستی پر عذاب آکر اللہ تعالی اس کو ویران کرتا ہے‘‘۔( الاسرا)  
موجودہ دور میں مسلمانوں کی خستہ حالی کا اصل سبب یہی عیش پرستی ہے۔تاریخ کے اوراق پلٹنے سے یہ بات صاف ہوتی ہے کہ جب بھی کوئی قوم عیش پرستی کا شکار ہوئی تو وہ ہمیشہ مشکلات کے شکار ہوئے۔عیش پرستی ایک سماجی بیماری ہے جو کسی معاشرے کو لگ جائے تو پھر ان کا مقام تنزلی کا شکار ہوجاتا ہے۔اقبال کی بلند سوچ مسلمانوں کے حالات پرآہ وزاری کرتی ہے:
وسعت گردوں میں تھی ان کی تڑپ نظارہ
 بجلیاں آسودہ دامان خرمن ہوگئی
 جس انسان کو عیش پرستی کامرض لا حق ہوتا ہے ،سستی اس کے جسم میں جنم لیتی ہے۔ پھر وہ مشکل حالات میں زندگی کا کوئی مثبت فیصلہ نہیں لے سکتا۔عیش پرستی کا مطلب یہی کہ انسان دنیاوی لزتوں کا غلام بن جاتا ہے اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا حد سے زیادہ استعمال کرتا ہے اور اس  طرح ہر ذمہ داری سے غافل ہوجاتا ہے۔اللہ نے قران کے ذریعے اس بیماری کی اطلاع ہمیں پہلے سے ہی دی ہے۔جب جب کوئی نبی اللہ کی دعوت لے کر آتا تھا تو یہی عیش پرست ان کی دعوت میں اکثر رکاوٹ بن جاتے تھے۔حضرت نوح ؑکو جو لوگ دعوت میں رکاوٹ بنے، انہوں نے یہی بات کہی کہ بھوک اور فاقوں سے مرے لوگ ہی اس کی بات سنیں گے اور ان میں کوئی بڑے گھر کا فرد نہیں ہے۔ اللہ نے یہ بات یوں بیان کی:’’اور اس کے قوم کے سردارں نے جواب دیا ہم اپنے جیسے لوگوں کو مانتے ہیں اور جن لوگوں کوآپ مانتے ہیں وہ ہماری نظروں میں کمین ہے آپ کو کیسے ہم فضیلت بلکہ آپ جھوٹے ہو‘‘۔( ھود ؑ۷)
ریزن ہمت ہوا ذوق تن آسانی ترا
بحر تھا صحرا میں گلشن میں مثل جو ہوا
 عیش پرستی وہ نفسیاتی بیماری جو ایک انسان کو زندگی کی ذمہ داریوں سے الگ کرکے سست بناتی ہے۔عیش پرستی کا مزاج اپنا کر انسان کبھی بھی زندگی کو وفا نہیں کرسکتا،اللہ تعالی عیش پرستوں کو پیغام سناتا ہے کہ:’’اور جب ان عیش پرستوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے پھر وہ چلائیں گے‘‘۔( المومنون)
 امام کائنات حضرت محمدؐنے فرمایا: مجھے اللہ کی قسم مجھے آپ کیلئے بھوک اور فاقے کا ڈر نہیں۔ مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ آپ کو بھی دنیا ایسا دیا جائے گا جیسے پچھلی قوموں کو ۔پھر آپ اس کے پیچھے لگو گے جو پچھلی قوموں نے کیا۔ آخر یہ دنیا ااپ کو اسی طرح تباہ کرے گا جیسے ان لوگوں کو‘‘۔
یہ عیش پرستی کا مرض اکثریت میں پایا جاتا ہے۔ اس لئے لوگ معمولی مسائل کے سامنے ہمت ہار کر تقدیر کو برا بھلاکہتے ہیں۔نوجوانوں کو گھروں میں اسی عیش پرستی کی تربیت ملتی ہے، اس لئے وہ یہ تربیت پاکر معمولی مسائل کے سامنے بے ہمت بن جاتے ہیں اوران کے  اندربے بسی جنم لیتی ہے۔
 نئے انداز پائے نوجوانوں کی طبعیت نے
یہ رعنائی، یہ بیداری،یہ آزادی،یہ بیباکی
 عیش پرست انسان میں تکبر، ظلم اور بد تمیزی جیسی بری عادات بھی پید اہوجاتی ہیںجس سے انسان اچھائی سے دور ہوجاتا ہے۔ عیش پرستی میں انسان یہ بھول جاتا ہے کہ وہ زندگی اللہ کے فضل سے گذارتا ہے۔موجودہ دور میں نوجوانوں کی اکثریت اس چیز کا شکار ہے، اس لیے ان میں وہ فہم و ادراک ختم ہوا ہے۔ عیش پرستی کے شیدائی موجودہ دور کے نوجوان زندگی کے اصل حقیقت سے بہت دور ہوگئے ہیں۔
 قیامت ہے کہ فطرت سوگئی اہل گلستان کی
نہ ہے بیدار دل پیری، نہ ہمت خواہ برنائی
 عیش پرستی میں انسان فضول کاموں میں دل لگاتا ہے۔موجود دور اور آنے والے کل کے لئے انسان میں دور اندیشی ختم ہوجاتی ہے،انسان ہر معاملے میں راحت طلب بن جاتا ہے اور یہ ہر کام کو حل کرنے کے لیے چھوٹے راستے اختیار کرتا ہے جس کی وجہ سے یہ مسائل کی گرفت میں آتا ہے۔ اگر انسان کو حقیقت میں زندگی کے اصل بات سے آشنا ہونا ہے تو اس کو خود میں وہ مزاج پیدا کرنا ہے کہ یہ عیش پرستی کو یکطرف رکھ کر مشکلات میں جینے کا ہنرخود میں پیدا کرے 
تمنا آبرو کی ہو اگر گلزار ہستی میں
تو کانٹو میں الجھ کر زندگی کرنے کی خو کرلے
آخر مسلمان کب تک چمن کی شاخوں پر جانوروں کی خوبصورت آواز سننے میں محو ررہیں گے۔مسلم کے بازو میں وہ طاقت ہے جو پہاڑوں میں رہنے والے شاہین میںہوتی ہے ۔عیش پرستی کو چھوڑ کر جدوجہد کو اپنا عمل بنائیں۔ اسی سے مسلمان کی عظمت اور بقا کا سامان تیار ہوگا۔
رابطہ :  بہرام پورہ کنزر،ٹنگمرگ
موبائل نمبر:  8982706173
 

تازہ ترین