’ارطغرل غازی ‘ کی دھوم کیوں؟ ! | تاریخی ڈرامہ کے کردار سچے اور آج بھی چلتے پھرتے

شورِ نشور

تاریخ    3 جون 2020 (00 : 03 AM)   


شاہ عباس
مسلم دنیا میں گذشتہ کچھ عرصہ سے ترک ڈرامہ ' ارطغرل غازی ' کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ ڈرامہ سب سے زیادہ دیکھے جانے والے اور پسند کئے جانے والے سیریلوں کی فہرست میں نمایاں مقام تک پہنچ گیا ہے ۔لوگوں کی اکثر تعداد اس ڈرامہ کو انتہائی دلچسپی اور سنجیدگی کے ساتھ دیکھتی ہے تاہم ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے جو اس کیخلاف سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں یہاں تک کہ اس کے ’شرعی اور غیر شرعی‘ پہلوئوں کو بھی زیر بحث لایا جارہا ہے۔البتہ ماہرین و تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ ارطغرل ڈرامہ پر اعتراض جتانے والے اسلام میں فنونِ لطیفہ کے قائل نہیں ہیں۔ ایسے لوگوںکی بھی کمی نہیں ہے جو سوشل میڈیا پر اس ڈرامہ کے فنکاروں کو اُن کی نجی زندگیوں کی بنا پر شدید تنقید کا نشانہ بنانے میں مصروف ہیں۔
کچھ بھی ہو،سلطنت عثمانیہ کے بانی کی کہانی نے مسلمانان عالم کو اپنے سحر میں جکڑ لیاہے جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گذشتہ کچھ عرصہ سے سوشل میڈیا پر ارطغرل کے ہیش ٹیگ کا خوب تڑکا لگا ہواہے۔ ذرائع ابلاغ میں شائع رپورٹوں کے مطابق اس ڈرامہ کو وزیر اعظم پاکستان ،عمران خان کی ہدایت پر اُردو میں سرکاری ٹیلی ویژن پر ٹیلی کاسٹ کے بعد اس کا اثر بر صغیر میں سب سے زیادہ دیکھنے کو مل رہا ہے یہاں تک کہ بچے بھی اس کے سحر سے بچ نہیں سکے ہیں اوروہ جو’ سپائڈر مین‘، ’سوپر مین‘ اور’ بیٹ مین‘ کو اپنا ہیرو بنا کر بڑے ہوتے تھے، اب ’ارطغرل ‘کو اپنا ہیرو بنا کر اس کی طرح بننا پسند کر رہے ہیں۔ عمران خان نے حال ہی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران پاکستان کے عوام کو 'ارطغرل غازی'دیکھنے کا مشورہ دیا ۔ اْن کا کہنا تھا ’’ یہ ڈرامہ دیکھ کر اسلامی تاریخ اور اخلاقیات سے متعلق آگاہی ملتی ہے‘‘۔
وادی کشمیر میں’ ارطغرل ڈرامہ کی طرف میلان کا سلسلہ گذشتہ برس کے اوائل سے ہونے لگا اور جب 5اگست2019کو جموں کشمیر سے متعلق لئے گئے سیاسی ، دور رس اور متنازع فیصلوں کی وجہ سے پوری وادی کے اندر سخت ترین بندشیں اور مواصلاتی پابندیاں عائد کی گئیں، تو لوگوں نے ارطغرل ڈائون لوڈ کرنے والوں سے اس کی قسطیں حاصل کرکے شدید ذہنی تنائو کے ایام اسی کے سہارے کاٹنے کا سلسلہ شروع کیا۔ مسلمانوں کے شاندار اور جاندار ماضی سے متعلق تاریخی حقائق کے بارے میں دیکھنے اورجاننے سے لوگوں کو نہ صرف ایک گوناں اطمینان میسر ہورہا تھا بلکہ وہ اس کے بارے میں اپنے حلقوں کے اندر ذکر کرکے اس کو اپنے تکلیف دہ حالات کے تناظر میں بھی دیکھ رہے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ارطغرل کی ایک قسط دیکھنے والا اس کا گرویدہ ہوتارہا یہاں تک کہ پوری وادی میں اس کی دھوم مچ گئی۔
'ارطغرل غازی ابھی تک دنیا کی 60 مختلف زبانوں میں نشر ہو چکا ہے۔ مجموعی طور پریہ سیرئل 5طویل سیزنوں پر مشتمل ہے اور یہ پہلی مرتبہ 2014 میں ترکی کے سرکاری چینل سے نشر ہوا تھا۔اس ڈارمہ کا مرکزی کردار،ارطغرل ،سلطنتِ عثمانیہ کے بانی عثمان اول کے والد تھے۔ اس ڈرامے کی کہانی ترک مسلمانوں کی تیرہویں صدی میں کی جانے والی فتوحات کے گرد گھومتی ہے۔کئی صدیوں تک دنیا کے ایک بہت بڑے حصے پر حکمرانی کرنے والا عثمانی خاندان تاریخ کی کتابوں کا حصہ ہے۔اس خاندان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ عثمان کا تعلق آج کے ترکی میں اناطولیہ کے علاقے میں آباد ترک خانہ بدوش قبیلے (قائی) سے تھا اور اس کی حکومت اناطولیہ کی چھوٹی چھوٹی حکومتوں میں سے ایک تھی جن کی طاقت میں زیادہ فرق نہیں تھا۔بعد ازاں عثمان یا پھر ان کے والد(ارطغرل )کی وجہ سے اس خاندان کی حکومت تین بر اعظموں میں پھیل کر خلافت میں تبدیل ہوگئی۔اس سلطنت یعنی سلطنت عثمانیہ کی بنیاد 14 ویں صدی کے اوائل میں رکھی گئی اور یہ 20 ویں صدی میں ختم ہوئی۔ اس دوران ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے 37سلاطین مسند نشین ہوئے۔تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ کسی ایک خاندان کا مسلسل اتنی دیر تک حکومت کی سربراہی کرنا کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔
تاریخی روایات کے مطابق منگول حملوں کے پیش نظر دیگر بہت سے ترک قبائل کی طرح عثمانی (قائی) قبیلہ بھی غلامی اور تباہی سے بچنے کے لیے نئے علاقوں کی طرف روانہ ہوا۔اس خاندان یا قبیلے کا سردار شام میں داخل ہوتے ہوئے دریائے فرات میں ڈوب گیا جس کے بعد اُن کا بیٹا ارطغرل مغرب کی طرف نکل پڑا۔وہ اناطولیہ کے علاقے میں داخل ہوگئے جہاں سلجوق حکمرانوں نے ان کی مدد کے بدلے انہیں اناطولیہ کے مغربی علاقے میں زمین دے دی۔ ارطغرل بے پناہ مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرنے والا کردار ہے جو اپنی اہلیہ ،جسے ڈرامہ میں ایک قابل تقلید مسلم خاتون کے طور پر پیش کیا گیا ہے، کی بھر پورتعاون اور حوصلہ افزائی سے قابل قدر کامیابیاں حاصل کرتا ہے۔ ارطغرل 1280 میں چل بسے جس کے بعد قبیلے کی قیادت ان کے بیٹے عثمان کو مل گئی۔سوگت کے علاقے (جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ارطغرل کو سلجوق سلطان سے ملا تھا) میں ارطغرل کے نام کی ایک چھوٹی سی مسجد اور ایک مزار آج بھی موجود ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ارطغرل کے بیٹے نے ان کے لیے بنائی اور پھر جس میں عثمان کے بیٹے ارہان نے اضافہ کیا۔ 19ویں صدی کے آخر میں سلطان عبدالحمید دوم نے کمزور ہوتی سلطنت کی ساکھ بہتر بنانے کیلئے اپنے آباء و اجداد کی شہرت کا سہارا لینے کی کوشش کی اور سوگت میں ارطغرل کا مزار از سر نو تعمیر کیا اور ’عثمانی شہیدوں‘ کا ایک قبرستان بھی بنایا۔
ماہرین کا تاہم پوچھنا ہے کہ ڈرامہ تیار کرتے وقت ترک حکومت کے کئی مشہور کرداروں کو چھوڑ کر آخر ارطغرل کا ہی انتخاب کیوں کیا گیا؟شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ارطغرل کی سیاسی و عسکری سرگرمیاں بعد میں پیدا ہونے والے حالات اور خلافت عثمانیہ قائم ہونے کی بنیاد بن گئیں۔دوسری جانب ڈرامہ ارطغرل کی شہرت کو بعض مبصرین’ ایک انقلاب کا اشارہ‘ تصور کرتے ہوئے اس کو مسلمانان عالم کے نشاط ثانیہ کے طور بھی دیکھ رہے ہیں۔ذرائع ابلاغ میں شائع رپورٹوں کے مطابق امریکہ میں ڈرامہ کو ’بے آواز ایٹم بم‘ کہا جا رہا ہے۔ مصر ،عرب امارات اور سعودی میں اس پر پابندی عائد کی گئی ہے یہاں تک کہ کئی علما ء اس کو مسلمانوں کی شاندار تاریخ کا ایک سبق کہہ رہے ہیں تو کچھ علما ء اس کا دیکھنا’ ناجائز اور حرام‘ قرار دے رہے ہیں۔
’ارطغرل غازی‘ ڈرامہ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کردار تاریخی اعتبار سے سچے ہیں اور مسلم دنیا میں آج بھی ہر جگہ موجود ہیں۔ ڈرامہ کے اہم کردارجیسے ’غورتغل‘ اور’کورتوغلو‘آج بھی مسلم دنیا کے اندرسرگرم عمل ہیںجو اپنے ہم وطن وہم عقیدہ لوگوں کیخلاف سازشیں رچانے میں پیش پیش ہیں۔آج بھی ’نویان‘ اور الان چیک‘ جیسے کردار نفرت پھیلانے میں مصروف ہیں اور مسلم دنیا آج بھی ’کولپان‘، ‘غونچا غل‘، ’اطالون‘جیسے چالباز افراد سے بھرا پڑا ہے یہاں تک کہ’ غمص طغین‘ جیسے جاسوس آج بھی مسلم دنیا کا حصہ بنے ہوئے ہیں جو چند سکوں کے عوض کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔دوسری طرف ’ارطغرل ‘کا مقصدِ حیات مظلوموں کی مدد اور عدل و انصاف کا قیام  دکھایا گیا ہے اور اپنے اسی مقصد کے لئے وہ جان کی پروا ہ کئے بغیر عدل اور انصاف کے قیام کی راہ پر گامزن رہتا ہے ،جوڈرامہ کا اصل پیغام ہے۔
جہاں تک اس ڈرامہ کے دیکھنے کو ’حرام اور ناجائز ‘ قرار دینے کی بات ہے تو بقول کسے ’’بعض مسلمانوں نے پہلے پہل پرنٹنگ مشین ، لائوڈ سپیکر اور گھڑیوں کے استعمال سے اذان دینے کو بھی حرام قرار دیا تھا،ابھی ماضی قریب میں انٹرنیٹ، ٹیلی ویژن، سوشل میڈیا، کیمرہ اور ویڈیو وغیرہ کے بارے میں بھی ایسی باتیں کہی گئی تھیں،ان ساری چیزوں اور ایجادات کو حلال ہونے میں کئی سال لگ گئے ۔‘‘ایک شائع تجزیہ کے مطابق ’’ہماری کم سے کم دو نسلیں علمی اور تہذیبی طور پر انٹرنیٹ کے دور میں اپنے شعور کو پہنچی ہیں۔ ’ٹوم اینڈ جیری‘ کے ساتھ بچپن گزرا ہے، ’مائیکل جیکسن ‘کے ساتھ جوان ہوئے ہیں اور گوگل سے دین،تاریخ اور کلچر سیکھا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اکثریت کو وہی تاریخ معلوم ہے جو انہیں ٹیلی ویژن یا انٹرنیٹ پر انگریزوں نے بتائی ہیں، جس میں ہمارے ہیروز کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا لیکن ان کے ہیروز کا تذکرہ اس طرح ہوتا ہے جیسے کہ وہ اصلی مہذب اور تاریخ ساز لوگ تھے۔ حالانکہ صدیوں تک پورے ایشیا، افریقہ اور آدھے یورپ پر مسلمانوں کی حکومت تھی۔ سائنس، ٹکنالوجی، حساب، فنِ تعمیر اور ادب میں صرف مسلمانوں ہی کی تہذیب تھی جس کا عشرِ عشیر بھی کسی اور قوم کے پاس نہیں تھا۔لیکن جب کیمرے، ویڈیو اور انٹرنیٹ ایجاد ہوئے تو ہم حلال وحرام کی بحثوں میں اٹک گئے، ٹھیک اُسی طرح جس طرح بغداد میں جب ہلاکو خان داخل ہوا ،اس وقت ہم گدھے اور کوّے کا گوشت حلال ہے یا حرام کی بحثوں میں مشغول تھے‘‘۔
ارطغرل ترکی کے جس قبیلے سے تعلق رکھتا تھا اُس نے ایک ایسی سلطنت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی جس میں محققوں کو اعلیٰ مقام حاصل تھا اور یہ ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے جس کا اعتراف مخالف سلطنتوں نے بھی کیا ہے اور اسی کی وجہ سے یہ سلطنت سات دہائیوں تک اپنا لوہا منواتی رہی۔اسی حقیقت کے پیش نظرماضی قریب میں خلافت عثمانیہ ایک ایسی سلطنت رہی ہے جس پر علاقائی عصبیت کی عینک اُتار کر مسلمانان عالم فخر کررہے ہیں کیونکہ جس مثالی اور فلاحی ریاست کا تصور مسلمان سیاسی مفکرین پیش کرتے آرہے ہیں، ارطغرل نے اُسی کے قیام کیلئے زندگی بھر جد و جہد انجام دی اور بعد ازاںاُن کے فرزند عثمان نے اُس کی داغ بیل ڈالکر اس کوعملی جامہ پہنایا۔خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد ایک بار پھر مسلمانان عالم شیرازی بندی کے صرف خواب ہی دیکھ رہے ہیں یہاں تک کہ چین میں آج کل جو مسلمان حکمرانوں کے ظلم و ستم کا رونا رورہے ہیں اُن کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ ارطغرل کے قبیلہ قائی سے ہی تعلق رکھتے ہیں جو تاریخ کے تھپیڑے کھا کھاکر موجودہ چین کے علاقوں میں آباد ہوگئے جہاں اُنہیں شدید مصائب کا سامنا ہے ۔   
مبصرین کہتے ہیں کہ ارطغرل غازی نامی اس سیریل نے پہلی مرتبہ امریکہ اور یورپ کو ہلا کر رکھ دیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ ایسے تاریخی واقعات پر مشتمل ہے جن سے صلیبیوں کے کرتوت سے پردہ اٹھ رہا ہے۔ارطغرل ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے جس نے اپنے ملی جذبے کی بنا پر سلطنت قونیہ میں جاگیر حاصل کی ،جو بعد میں اُن کے فرزند عثمان خان کے نام سے خلافت عثمانیہ میں تبدیل ہوگئی اور عثمان خان ہی اس خلافت کے اولین حکمران بنے جنہوں نے29سال تک حکمرانی کی وہ تاریخ رقم کی جس کیلئے مسلمان جانے جاتے ہیں اور جس کیلئے اُنہیں مثالی حکمران بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔عثمان خان زہد و تقویٰ میں اس قدر اُونچے مقام پر فائز تھے کہ جب وہ دنیا سے رخصت کرگئے تو خلافت عثمانیہ کے اس با حشمت حکمران کے پاس ایک زرہ اور ایک تلوار کو چھوڑ کر کوئی ذاتی جائداد نہیں تھی۔ یہ وہی تلوار تھی جسے بعد میں خلافت عثمانیہ کے ہر نئے حکمران کو بطورحکمرانی کی سند پیش کیا جاتا تھا اور جس کا سلسلہ اس خلافت کے آخری حکمران تک جاری رہا۔  
جب تک ماضی کی معلومات نہ ہوں تب تک بہتر حال اور مضبوط مستقبل تعمیر کرنے کی راہ دکھائی نہیں دیتی ہے۔ارطغرل غازی بے شک بہترین اداکاری پر مشتمل ایک ڈرامہ ہے لیکن اس سے مسلمانان عالم کو اُن کے ماضی قریب کے بارے میں حوصلہ افزا معلومات فراہم ہوتی ہیں یا کم سے کم اُنہیں اپنی تاریخ کا مطالعہ کرنے کی ہی ترغیب ملتی ہے۔شاید یہی مقصد ترک صدر رجب طیب اردگان کے ذہن میں بھی تھا جب اُنہوں نے اس ڈرامہ کے تیار کرنے کی حامی بھرلی۔یہ بھی ممکن ہے کہ اردگان سر نو خلافت کے زاویوں پر سوچ رہے ہوں؟ لیکن اس کیلئے اردگان کو اکیسویں صدی کا ارطغرل بننا پڑے گا اور ایسا کرنے کیلئے اُنہیں محمد مرسی کے انجام کو زیر نظر رکھ کر اقدامات کرنا پڑیں گے۔
 
 

تازہ ترین