درجہ چہارم کی بھرتیوں کی تجویز | 60ہزار عارضی ملازمین کے حقوق پر شب خون:ایجیک

تاریخ    2 جون 2020 (00 : 03 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// ملازمین کے مشترکہ اتحاد ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے درجہ چہارم کی نئی اسامیوں کی تازہ بھرتیوں کی تجویز کو عارضی ملازمین کے حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف قرار دیا۔سرینگر کے پی ایچ ای دفتر میں پریس کانفرنس ے خطاب کرتے ہوئے ایجیک کے صدر فیاض شبنم نے کہا کہ عارضی ملازمین کی مستقلی کا نہ صرف جواز بنتا ہے بلکہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایجیک نے ہمیشہ ملازمین جموں کشمیر کے جائز مطالبات کی حمایت کی ہے جبکہ عارضی ملازمین کی مستقلی کا جواب بھی بنتا ہے کیونکہ انہوں نے طویل عرصہ سے عوامی خدمات کو انجام دیا ہے۔ان کا کہنا تھا’’حال ہی میں انتظامیہ نے جو دس ہزار ملازموں کی بھرتی کی پالیسی مرتب کی ہے اس سے قبل یہاں بیس پچیس برسوں سے مختلف محکموں میں کام کرنے والے عارضی ملازمین کی نوکریوں کو مستقل کرنے کے لئے ایک پالیسی بنائی جانی چاہئے‘‘۔فیاض شبنم نے کہا کہ وہ سرکار پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وہ پہلے یہاں کے 60 ہزار عارضی ملازمین کے لئے ایک مثبت، منظم اور فیصلہ کن پالیسی بنائے جو برسوں سے ترس رہے ہیں کہ کب ان کی نوکریاں مستقل ہوجائیں گی۔انہوں نے کہا کہ وہ سرکار کی اس پالیسی کے خلاف نہیں ہیںلیکن یہ پالیسیاں عارضی ملازمین کے کاندھوں پر گولی چلا کے نہیں بننی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ایجیک نہ صرف عارضی ملازمین کے مطالبات کی حمایت کرے گی بلکہ جموں کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گی۔پریس کانفرنس میں ایجیک کے جنرل سیکریٹری خورشید احمد بٹ،سینئر لیڈر سجاد احمد پرے اور ترجمان شبیر احمد بھی موجود تھے۔
 

تازہ ترین