دوہرا لاک ڈائون اور مفلوج تعلیمی نظام

طلباء کی کارکردگی کوپرکھنا حکومت کیلئے امتحان

تاریخ    2 جون 2020 (00 : 03 AM)   


یٰسین جنجوعہ
پوری دنیاکیساتھ ساتھ ہندوستان بھر میں عالمگیر وباء کی وجہ سے دیگر شعبوں کیساتھ ساتھ نظام تعلیم پوری طرح سے مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔اکثر ریاستوں اور خطوں میں کئی جماعتوں کے سالانہ امتحان کا وقت تھا لیکن وائر س کے پھیلا ئو کو روکنے کیلئے عائد پابندیوں کی وجہ سے اس نظام پر بھی روک لگ گئی ہے ۔یو جی سی کی جانب سے یونیورسٹیوں کی جانب سے لئے جانے والے امتحانات و کلاسز کے سلسلہ میں  رہنما ہدایات بھی جاری کی جارہی ہیں لیکن سب کوششوں کے باوجود نہ بچوں کے ذہن اورنہ ہی انتظامیہ آئن لائن سسٹم کیلئے تیار تھی اور نہ ہی ہمار ا تعلیمی نظام اس قدر معیاری ہے کہ پیدا شدہ صورتحال کے دوران وہ معمول کے مطابق آن لائن چل سکے ۔ملک میں اکثر سیمیناروں، کانفرنسوں اور تعلیمی اجتماعوں میں تعلیم کے معیار کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ عام طور پر جب تعلیمی معیار کا ذکر آتا ہے، تو سکولوں کی تعداد، ان میں سہولیات کی موجودگی یا عدم موجودگی اور اساتذہ کی تعداد پر گفتگو ہوتی ہے۔ یہ سارے معاملات تعلیمی معیار کے اہم اجزاء ہیں لیکن ان معاملات کی موجودگی تعلیمی معیار کی ضمانت نہیں ہے۔کوالٹی(معیار) کا تعلق تدریس اور سیکھنے کے عمل سے ہے، جو کلاس روم میں جنم لیتا ہے اور جس کا تعلق نصاب، استاد، طالب علم، نظام امتحان اور سکول کے ماحول سے ہے لیکن لاک ڈائون کی وجہ سے کلاس روم اور استاد و شاگرد کا تعلق پوری طرح سے ٹوٹ چکا ہے ۔نظامِ امتحان اس وقت موضوع بحث بنا ہوا ہے ۔
اگر ہم تعلیمی معیار کے اُس پہلو کا جائزہ لیتے ہیں جو کمرے یا جماعت کے اندر جنم لیتا ہے اور جس کا تعلق اساتذہ،نصاب، کتاب،طلباء،امتحانی نظام اور سکول کے ماحول سے ہے۔ اس پر پہلے جموں وکشمیر کا خصوصی درجہ اثر انداز رہا اور اب عالمگیر وباء کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے ۔اگر چہ ملک کی دیگر ریاستوں میں نظام تعلیم بہتر ہونے کیساتھ ساتھ کچھ حد تک نصاب بھی مکمل کیا گیا ہے لیکن اس سیاست زدہ یوٹی کے طلباء اپنے مستقبل کو لے کر ذہنی دبا ء میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔
جموں وکشمیر میں اگر تعلیمی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو 5اگست 2019کے بعد نہ تو پوری طرح سے کلاس روم طلباء کا مقدر بن سکے اور نہ ہی استاد و طالب علم کا رابطہ مضبوط طریقہ سے چل سکا ۔اس صورتحال میں اگر انتظامیہ کی جانب سے کسی قاعدہ کے مطابق بھی امتحانات منعقد کئے جاتے ہیں تو اس کا طریقہ کار کیا ہو گا، یہ معاملہ طلباء کیلئے کافی پیچیدہ بن چکا ہے ۔تعلیمی برس 2019-20کو جموں وکشمیر کیلئے اگر کورونا لاک ڈائون کیساتھ ساتھ ’ڈیجیٹل لاک ڈائون ‘کا برس بھی کہا جائے تو مناسب ہوگا ۔اس برس میں تعلیمی اداروں میں بچوں کی تعلیم پوری طرح سے متاثر ہو ئی ہے ۔مرکزی زیر انتظام جموں وکشمیر میں پہلے سے ہی بچوں کو معیاری سہولیات ہی دستیاب نہیں تھی اور عمارتوں و ٹیچروں کی قلت کیساتھ بچوں کو کچھ حد تک نصاب مکمل ہوتا تھا جبکہ یوٹی میں زیادہ تر عمارتیں شکستہ ہیںاور کئی سکولوں میں ریاضی و سائنس ودیگر شعبوں کے ٹیچر ہی موجود نہیں ہیں ۔سہولتوں کا فقدان یقینا درس و تدریس کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔ سرکاری سکولوں میں سہولتوں کے حوالے سے یہ اعداد و شمار تشویش ناک ہیں۔ جموں وکشمیر میں حالانکہ چھوٹی کلاسزکے بچوں کو چھوٹ دی گئی ہے لیکن اعلیٰ تعلیم کے سلسلہ میں بچوں کے امتحانات کیلئے انتظامیہ کو معیاری حل نکالنے میںہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔اگر ہم جموں وکشمیر میں امتحانی نظام کا جائزہ لیں توبد قسمتی سے یہ نظام انتہائی فرسودہ ہے، جو طالب علم کی یاد داشت کا امتحان بن کر رہ گیا ہے۔ طالب علم کی مضمون کی سمجھ بوجھ یا زندگی کے مختلف پہلوؤں پرعلم کا اطلاق ہمارے نظام امتحان کا مقصد ہی نہیں۔ اس کا نتیجہ ہے کہ طلباء امتحانوں میں اچھے گریڈز تو حاصل کر لیتے ہیں، لیکن ان میں تخلیقی سوچ کا فقدان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے پاس ایسے لوگوں کی کمی ہے، جو زندگی کے مختلف میدانوں میں ایجادات کر سکیں۔ہمارا نظامِ امتحان چونکہ اعلیٰ تخلیقی صلاحیتوں کو ماپنے کا پیمانہ نہیں ہے اور نہ ہی اس نظام امتحان میں اچھے گریڈز حاصل کرنے کیلئے اعلیٰ تخلیقی صلاحیتوں کی ضرورت ہے، لہٰذا سکولوں میں اساتذہ کی تدریس کامحوربھی طلباء میں تخلیقی صلاحیتوں کا فروغ نہیں ہوتا ۔
ان مشکل حالات میں جموں اور کشمیر میں قائم اعلیٰ تعلیمی ادارے بالخصوص یونیورسٹی انتظامیہ کیلئے بچوں کے سالانہ امتحانات ،سائنسی شعبوں میں عملی مشقیں اورتفویض مشقوں کے سلسلہ میں کوئی حتمی فیصلہ کرنا انتہائی مشکل عمل لگتا ہے حالانکہ کشمیر یونیورسٹی کی جانب سے طلباء کو پرموشن دینے کیلئے قاعدہ بنایا گیا ہے لیکن دیگر تعلیمی ادارے اب بھی تذزب کا شکا ر ہیں ۔
ان تعلیمی اداروں کے پاس کثیر انتخابی (MULTIPLE-CHOICE) اور کھلا انتخاب ((OPEN CHOICEطرز سے امتحان منعقد کرنے کا ایک فارمولہ موجود ہے تاہم کورونا وائرس کے پھیلا ئو کو روکنے کیلئے سماجی دوری ایک اہم معاملہ ہے جبکہ اس کے علا وہ ان مشکل حالات میں بچوں کو کتابیں کھول کر لکھنا کی اجازت (OPEN BOOK TEST)ایک فارمولہ ہوسکتا ہے جس کے تحت تعلیمی اداروں بچوں کو آن لائن پرچے ارسال کریں او ر ان کو کتابوں سے لکھنے کی پوری اجازت دی جائے تاہم مارکنگ سسٹم کے دوران بچوں کی جانب سے جوابی پرچوں میں تحریر کئے گئے مواد کے معیار کی جانچ کی جائے نہ کہ ان کے یاد کرنے کی صلاحیت کی ۔اس کے علاوہ بچوں کو ’ماس پرموشن ‘دینے کا ایک فارمولہ بھی موجود ہے لیکن اس عمل میں ’پرائیوٹ‘طورپر امتحانات دینے والے بچوں کا وقت اور مستقبل کسی طرح سے بچایا جائے گا وہ بھی ایک اہم معاملہ ہے ۔جموں وکشمیر کے سبھی تعلیمی اداروں میں سالانہ ہزاروں کی تعداد میں ایسے بچے بھی رہ جاتے ہیں جو یا تو کم اہلیت کی وجہ سے فیل ہو جاتے ہیں یا تو خراب مارکنگ نظام کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بچوں کا تعلیمی برس بچانے کیلئے انتظامیہ کو باقاعدہ سکولوں میں جانے والے (Regular)بچوں کیساتھ ساتھ پرائیوٹ بچوں کے مستقبل اور اپنے تعلیمی معیارو عالمگیر وباء کو ذہن میں رکھتے ہوئے فیصلہ لینا ہوگا ۔جموں یونیورسٹی کی جانب سے انڈر گریجویٹ کورسز کیلئے ایک حکمت عملی بنائی گئی ہے جس کے تحت آخری سمسٹر کے بچوں کا امتحان کثیر انتخابی (MCQ)طرز کے سوالات و جوابات کے ذریعہ لیا جائے گا اور مذکورہ امتحان ائو ایم آر شیٹ پر لینے کا پلان مرتب کیا گیا ہے جبکہ آخری سمسٹر کے بچوں کیلئے پیپر نصاب کے مطابق ہی مرتب کیا جائے گا ۔یونیورسٹی کی جانب سے ابھی تک جاری ہدایت کے مطابق انڈر گریجویٹ کورسزکے اول اور دوم سیشنوں میں زیر تعلیم بچوں کے امتحانات نہیں لئے جائینگے ۔اسی طرح یونیورسٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سمسٹر دوم اور چہارم کے بچوں کو پہلے سمسٹروں کی کارکردگی کی بنیاد پر نمبرات دئیے جائینگے تاہم لگاتار کالجوں میں جانے والے بچوں کیساتھ ساتھ جموں یونیورسٹی کے زیر تحت تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو کہ پرائیوٹ ہونے کساتھ ساتھ پہلے اور تیسرے سمسٹر میں بھی کچھ کتابوں میں فیل ہو ئے ہیں جن کو ان سمسٹروں کی کارکردگی کی بنیاد پر نمبرات دینا اور ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنا انتہائی مشکل اور ناانصافی پر مبنی قدم ہوگا ۔بچوں کی جانب سے مانگ کی جارہی ہے کہ جموں کشمیر کے سبھی تعلیمی اداروں میں گزشتہ 10ماہ کا ڈیجیٹل لاک ڈائون دیتے ہوئے ’ماس پرموشن ‘دی جائے جوکہ سبھی طلباء کیلئے برابر ہو تاہم اب جموں وکشمیر انتظامیہ کو ماضی اور موجودہ حالا ت و تعلیمی معیار کو دیکھتے ہوئے ہی بچوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہو گا۔
رابطہ :9419952597
ای میل :janjuayaseen@gmail.com
 

تازہ ترین