کورونا نمونے لینے میں بے قاعدگیاں | ضلع مجسٹریٹ بارہمولہ کا تحقیقات کا حکم

تاریخ    1 جون 2020 (00 : 03 AM)   


فیا ض بخاری
  بارہمولہ// ضلع مجسٹریٹ بارہمولہ نے کورونا نمونے جمع کرنے میں بے قاعدگی اور قواعد و ضوابط کو ملحوظ نظر نہ رکھتے ہوئے قرنطین میں داخل مشتبہ افراد کو گھر جانے کی اجازے دینے کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اتوارکو ضلع مجسٹریٹ بارہمولہ غلام نبی ایتو کی جانب سے جاری احکامات میں کہا گیا ہے کہ یہ بات سامنے آگئی ہے جس کے بارے میں سوشل میڈیا میں بھی تذکرہ ہور ہا ہے کہ ضلع میں کئی جگہوں سے قرنطین میں رہنے والے لوگوں کے ٹسٹ پہلے منفی قرار دئے گئے ،اُس کے بعد سرٹیفکیٹ تھماکر انہیں گھر جانے کی اجازت دی گئی اور چند دنوں بعد اُن کے نمونے مثبت قرار دیئے گئے۔احکامات میں مزید کہا گیا ہے کہ نمونوں کے نتائج  میں پوری طرح سے قواعد و ضوابط پر عمل نہیں کیا گیا اور کچھ بلاک میڈیکل افسران کے ذریعہ منفی ٹیسٹ سرٹیفکیٹ جاری کی گئیںجبکہ حتمی اطلاعات کے مطابق وہ مثبت تھے۔ جموں میں نمونے لینے والوں،جنہیں سینٹ جوزف اسکول بارہمولہ میں رکھا گیا اور بنگلہ دیش سے وطن واپس آنے والوں کوسمر قند ہوٹل بارہمولہ میں قرنطین کیا گیا تھا، کی مثالیں پیش کی گئیں ہیں۔جؒع مجسٹریٹ نے کہا کہاس ضمن میں مکمل تحقیقات کی جائیگی اور3 جون تک رپورٹ پیش کی جائیگی۔تحقیقات کیلئے جوائنٹ ڈائریکٹر پلاننگ بارہمولہ ، جی ایم سی بارہمولہ میں بائیو کمسٹری شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر فاروق احمد اور قرنطین مراکز کی حفاظت پر مامور ڈی ایس پی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جاسکے۔
 

تازہ ترین