تازہ ترین

نقلی چہرہ ، اصلی صورت

انمول باتیں

تاریخ    1 جون 2020 (00 : 03 AM)   


عبدالقیوم شاہ
عہدساز گلوکار محمدرفیع کا ایک گانا بہت مشہور ہے…’’کیا ملئے ایسے لوگوں سے جن کی فطرت چھپی رہے، نقلی چہرہ سامنے آئے اصلی صورت چْھپی رہے‘‘۔ واقعی حساس طبعیت رکھنے والے لوگوں کے لئے مسلہ یہ رہتا ہے کہ سماجی زندگی میں کن لوگوں سے ملے، کن کی بات پر بھروسہ  کرے اور چہروں پر چڑھی شرافت، ہمدردی اور سادگی کے نقابوں کے پیچھے کیسے جھانکے۔ 
میں نے بزرگوں سے سْنا ہے کہ انسان اگر اقتدار اور دولت کے نشے میں چْور ہوجائے تو وہ سانپ کی طرح دیانت دار نہیں ہوتا کہ ڈھنک مارے، بلکہ وہ چہرے پر کئی چہرے لگا کر لوگوں کو اپنے سحر سے غلام بناتا ہے۔ خاندان میں اپنی بڑھائی دکھانے والے بعض چودھری ہوں یا کْرسی کے عشق میں گھائل حوصلہ مند سیاستدان، سب لوگ اقتدار کی لت میں اس قدر مبتلا ہیں کہ اُن ہی کے متعلقین کے دُکھ اور تکلیف پر آنسو بہاتے وقت وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جن زخموں پر وہ مرحم لگانے کا ڈھونگ کررہے ہیں وہ اْن ہی کے دئے ہوئے ہیں۔ اور پھر ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی بھی نہیں جو مسلمانی کا دم بھر بھر کے اپنے ہی ہم وطنوں کی پیٹھ میں چْھرا گھونپنے سے بھی دریغ نہیں کرتے، اور ستم یہ ہے کہ بعد میں اْسی بات کا رونا روتے ہیں جو اُن ہی کی کرتوت کا خمیازہ ہوتا ہے۔ میرتقی میر نے شائد ایسے ہی نقاب پوشوں کے لئے کہا ہے   ؎
 میرکیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اْسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں
فی الوقت سب لوگ کورونا وائرس کی ہاہاکار سے پریشان ہیں، لاکھوں لوگ موت کا لقمہ بن چکے ہیں، لاکھوں دیگر ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں، اور پوری دْنیا کی آبادی خوف کی فضائوں میں محصور ہے۔ ایسے میں ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وبا کے جاتے ہی ایک نئی سماجی سوچ ، ایک نیا اجتماعی رْجحان اور نئے معاشرتی اطوار پروان چڑھتے ہیں۔ کیا ہمارے یہاں یہ تبدیلی مثبت طریقے پر آئے گی۔ چہرے پہ چہرہ لگانے والے دیانت داری سے اپنی استحصالی حرکتوں سے باز آئیں گے یا پھر وہ اپنے رویہ میں مزید ہٹ دھرم اور پْراعتماد ہوجائیں گے؟  سولہویں صدی میں جدید انسان نے جب مذہبی بندھن توڑ کر اپنی آزادی کا اعلان کردیا تو یہ گویا انسانیت کے لئے کورونا وائرس سے بھی بڑا المیہ تھا ، تب سے وہ اپنی رہی سہی شناخت بھی کھوبیٹھا ہے۔
قیادت کا ادارہ کوئی نیا ادارہ نہیں۔ ہزاروں سال سے انسانوں نے کسی نہ کسی کو اپنا قائد تسلیم کیا ہے۔ قبائلی زندگی میں بھی سردار کا ادارہ معروف ہے، حتیٰ کہ مذہبی جبر کے عہد میں بھی لوگ پادری کو اپنا رہنما مانتے تھے۔ لیکن پندرہویں صدی میں گوٹن برگ نے پرنٹنگ پریس ایجاد کیا تو علم و آگہی کا نورہرطرف پھیلا اور لوگوں کی بڑی تعداد نے اپنی گردن میں صدیوں سے لٹک رہے طوقِ غلامی کو اُتار کر پھینک دیا۔ پھرعلم کے اِسی نور نے انسانیت کو جمہوریت کی بہار سے ہمکنار کردیا۔ لیکن انسان بحیثیت فرد وہی رہا، جو تھا۔ اُس نے اپنی فطرت کو مستور کردیا، اور اصلی صورت پر نقلی چہرہ لگا کر جمہوریت کی قبا چاک کرنے لگا۔ علامہ اقبال نے سیاست کے اسی دوغلے پن پر ابلیس کی زبانی کہلوایا:   ؎
ہم نے پھر شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
 جب ذرا آدم ہوا ہے خودشناس و خود نگر  
ستم یہ ہے کہ اسلامی سیاست کرنے والے قائدین بھی چہروں پر چہرے چپکانے میں پیش پیش رہے۔ اُن کی سیاست نے رسول اللہ ؐ کے احکامات کی دھجیاں اُڑا کے رکھ دیں۔ روزِ محشر پہ سبھی بہروپیوں کی گردنیں شرم سے جْھک تو جائیں گی، لیکن آج کوئی باضمیر سیاست کار نہیں جو اپنے ہم وطنوں سے اپنی غلط کاریوں اور قہرسامانیوں کی معافی مانگے۔ 
ایک اور بات۔ جب ہم بہروپیوں اور دوغلے انسانوں کے ذریعہ معصوموں کے استحصال کا رونا روتے ہیں، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جعل ساز چہروں کے دام ِ فریب میں پھنسنے والے لوگوں کی اکثریت حرص و طمع کی اسیر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برادرکْش اور خودغرض عناصرہی ہمای  اجتماعی شناخت کابنیادی حوالہ بن گئے ہیں۔ نقلی چہروں کے پیچھے چْھپی اصلی صورت کو بے نقاب کرنے کی ضرورت صدیوں سے محسوس کی گئی ، لیکن یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔ پھر بھی ہم یہی کہیں گے:  ؎
اپنا تو کام ہے کہ جلاتے رہیں چراغ 
 
رستے میں چاہے دوست یا دشمن کا گھر ملے
��������
(کالم نگار سماجی رضاکار ہیں، رابطہ: 946769449)
ای میل :   abdulqayoomshah57@gmail.com 
 
 

تازہ ترین