تازہ ترین

سمندروں کی سطح بلند ہورہی ہے | کیا کرۂ ارض کا نظام تبدیل ہونے والا ہے؟

گفت و شنید

تاریخ    1 جون 2020 (00 : 03 AM)   


معراج مسکینؔ
سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی نے جہاں انسانی زندگی کو پُر تعیش اور سہل بنادیا ہے وہیں اس کے نتیجہ میں ہونے والی منفی انسانی سرگرمیوں سے ماحولیاتی آلودگی، عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ، اُوزون کی تباہی، موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات ،خشک سالی،وبائی بیماریاں اور غذائی بحران کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔انسانی تاریخ اور تہذیب کے مطالعہ سے بخوبی ظاہر ہوجاتا ہے کہ شروع شروع میں انسان دریاؤں، نہروں یا اس جگہ جہاں پانی وافر مقدار میں دستیاب ہوتا، وہاں سکونت اختیار کرتا تھا اور جب کسی جگہ خشک سالی کے باعث غذائی بحران پیدا ہوجاتا تو وہاں سے وہ نقل مکانی کرجاتا تھا۔ مگر سائنس کی ترقی کے بعد انسان نے ایسے وسائل اور طریقے اختیار کئے، جس سے پانی کی فراہمی کو ممکن بنایا جاسکے۔ کہیں بورنگ کی گئی، کنویں کھودے گئے، کہیں سمندری پانی کو قابل استعمال بنایا گیا، کہیں نہروں کا سسٹم بنایا گیااور کہیں پائپوں کے ذریعے پانی فراہم کیا گیا، جس کے باعث انسان کو بار بار نقل مکانی کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔لیکن ایک حالیہ تحقیق نے بڑے چونکا دینے والے انکشافات کئے ہیں۔ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 2050 تک دنیا کے مختلف جگہوں سے بڑے پیمانے پر انسانی ہجرت ہوسکتی ہے جو انسانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہو۔ ماہرین نے متنبہ کیا کہ سمندری اُتار چڑھاؤ، سیلابوں، طوفانوں اور قحط سالی کے باعث وبائی بیماریاں پھوٹنے سے اس ہجرت کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی صورتحال سے رواں صدی کے وسط تک تقریباً 700 ملین نفوس کی ہجرت کے امکانات ہوسکتے ہیں۔کولمبیا یونیورسٹی نیو یارک کے سینٹر فار انٹرنیشنل ارتھ سائنس انفارمیشن نیٹ ورک ( CIESIN)سے تعلق رکھنے والے جیوگرافر الگزینڈر ڈی شرینن نے کہا ہے کہ ماحولیات ایک ایسا لفافہ ہے جس میں ہم سب اپنے روز مرہ کے امور انجام دیتے ہیں اور زندگی گزارتے ہیںاور یہ رپورٹ خطرے کی گھنٹی ہے۔ عام طور پر ہم اس خطرناک صورت حال سے متاثر ہونے والوں کو غریبوں کی کیٹگری میں شامل کرتے ہیں لیکن اب بالکل ایسا نہیں،بلکہ امیر سوسائٹیز بھی اس صورتحال یعنی موسمیاتی تبدیلی سے بُری طرح متاثر ہونگے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے سطح سمندر میں اضافے اور نمکین پانی کی آمد کے باعث دنیا کے انتہائی کثیر آبادی والے ریجن، نیل، میکانک اور گنگا کے ڈیلٹاؤں میں زراعت تباہ ہوجائے گی۔ مذکورہ رپورٹ کے شریک مصنف چارلس ارہاٹ ؔنے کہا ہے کہ متاثرہ سوسائٹیز میں سوشل سیفٹی نیٹ ختم ہوجائے گا، جبکہ تشدد اور کشیدگی بڑھ جائے گی۔
بغور جائزہ لیا جائے تو بلا شبہ انسان اور ماحول کا دنیا کی ابتداء سے ہی گہرا تعلق قائم ہے۔جس طرح ماحول انسانی زندگی پر اپنے گہرے اثرات مرتب کرتا ہے، اُسی طرح انسانی سرگرمیاں بھی قدرتی ماحول کو بے حد متاثر کرتی ہے۔موجودہ دور میں ماحولیاتی عدم توازن کے باعث ہماری زمین نزع کے عالم میں ہے اور اس کی سانسیں ختم ہونے کا مطلب انسانی زندگی کا خاتمہ ہے۔ دنیا بھر میں آئے روز ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں اور ارضی عمل کا ری کے غیر متوقع مظاہرے نہایت پریشان کن ہیں کیونکہ یہ انسانی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں جرمنی، فرانس ، چین، پاکستان اور انڈونیشیا میں بے وقت اور بے اندازہ بارشوں کے سبب تباہ کن سیلابوں کا مشاہدہ کیا گیا جن میں سینکڑوں افرادلقمہ اجل اور اربوں روپے مالیت کی املاک تباہ ہوگئیں جبکہ انڈونیشیا، ملائشیا،بھارت، چین و جاپان کے سمندری علاقوں اور بھارت ، چین اور نیپال کے ہمالیائی خطوں کے آس پاس وقفے وقفے سے چھوٹے بڑے زلزلوں کا وقوع پذیر ہونا بھی معمول بنتا جارہا ہے۔ ظاہر ہے کہ انسانی ضروریات کے پیش نظر ہرسال 50ملین ایکڑ جنگلات کا صفایا کیا جاتا ہے ۔چونکہ یہ جنگلات جانوروں اور پودوں کی کثیر تعداد کا مسکن ہیں، اس لیے روزانہ سینکڑوں جانداروں کی سپی شیز اپنا قدرتی مسکن تباہ ہوجانے کی وجہ سے معدوم ہوتے چلے جارہے ہیں۔ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ایک ملین سے زائد سپی شیز ناپید(پناہ گاہیں) ہوچکی ہیں جبکہ 2050 تک انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے جہاں15 سے 37 فیصدپودوں اور جانوروں کا صفایا ہوجائے گاوہاںاس صدی کے اختتام پر سمندر کی سطح میں تقریباً دو فٹ کا اضافہ متوقع ہے جس کی وجہ سے قریبی علاقے زیر آب آجائیں گے۔
مشاہدے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ گزشتہ برسوں کے موسم گرما میں قطب شمالی پر جمی ہوئی برف میں حیرت انگیز طور پر کمی واقع ہوئی ہے اور یہ بہت تیزی سے پگھل رہی ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ برف پگھلنے کا یہ عمل پچھلی صدی کے مقابلے میں بہت تیز ہوگیا ہے۔ ماہرین خدشات ظاہر کررہے ہیں کہ اگر قطب جنوبی اور قطب شمالی پربرف پگھلنے کا عمل اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو کرۂ ارض پر خشکی میں کمی واقع ہوتی جائے گی اور بیشتر بڑے بڑے شہر غرق آب ہوجائیں گے۔حالیہ برسوں میں آنے والے سمندری طوفانوں سے اس بات کو تقویت مل گئی اور دنیا نے بھی دیکھ لیا کہ کس طرح سونامی اور اس کے بعد کترینا نے ایک بڑی آبادی کو نگل لیا ہے اور کئی شہروں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے۔ماہرین ِ ارضیات اس خطرناک تبدیلی کی وجہ بڑھتی ہوئی عالم گیر تپش (Global Warming)بتاتے ہیں،جس کا ذمہ دار حضرت انسان خود ہے۔ماحول کی اس تبدیلی کی وجہ نیشنل اسنو اینڈ آئس ڈیٹا سینٹر کولوراڈو کے سائنسدان نیڈاے اسکیموسؔکا کہنا ہے کہ کرۂ ارض کو گلوبل وارمنگ کا اصل مسئلہ گرین ہاوس گیسوں کے اخراج ہے اور یہ گیسز قطب شمالی اور قطب جنوبی میںپیدا ہونے والی تبدیلیوں کا باعث ہے اور انہی کے باعث اس بات کا خطرہ ہے کہ بہت سے منجمد سمندر اگلے چند برسوں میں کھلے پانی کی صورت اختیار کرجائیں گے۔مختصراً ماہرین ارضیات کے نزدیک سب سے اہم مسئلہ گلیشئر وں کے پگھلنے والا پانی ہے۔درجہ حرارت بڑھنے سے موجود برف کے تودے (گلیشئر) پگھلنے سے سمندر میں پانی کا بہائو بڑھ جائے گا اور علاقے میں برف کے تودے کم ہونے سے دنیا میں پانی کا تناسب بڑھ جائے گا ،سمندروں کی سطح بلند ہونا شروع ہوجائے گی جو خشکی کے لئے خطرے کا باعث بنے گی کیونکہ ایسی صورت میں معمولی نوعیت کا سمندری طوفان بھی بڑے بڑے شہروں کو بھی غرق آب کرنے کے لئے کافی ہوگا۔سن 2000ء میں اس بات کا اندازہ لگایا گیا کہ قطب شمالی کا یہ برفانی علاقہ 6.97ملین مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے جو تقریباً پوری ریاست ہائے امریکہ کے رقبہ کے برابر ہی تھا جبکہ گذشتہ برس موسم گرما میں اس میں 20فیصد کمی پائی گئی ۔گرین ہاوس گیسوں کا اخراج بہت تیزی سے ماحول کی تبدیلی ،فضا اور پانی میں تپش کا باعث بن رہا ہے ،یہ الگ بات ہے کہ بہت سے سائنس داں ابھی اس بات کو قطعی طور پر تسلیم نہیں کرتے ۔ناسا کی ماہر کلیئر پارکنسؔ کا مشاہدہ ہے کہ قطب شمالی میں جو تبدیلی آرہی ہے وہ حضرت انسان کی وجہ سے ہی ہے۔ماحول کی بڑھتی ہوئی آلودگی اس کا سب سے بڑا سبب ہے تاہم ان کا یہ بھی خیال ہے کہ حتمی طور پر اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا ،البتہ اگر صورت حال میں اسی طرح تبدیلی ہوتی رہی تو سمندروں کی سطح بلند ہونا شروع ہوجائے گیاور ان کا رقبہ بھی بڑھنا شروع ہوجائے گا جس کے نتیجے میں کرۂ ارض پر خشکی میں کمی ہوگی اور بہت سے قدرتی وسائل ضائع ہوجائیں گے جو تمام حیات کے لئے خطرے کی علامت ہے۔
اب جبکہ ہم اکیسویں صدی میں داخل ہوچکے ہیںاور انسانیت کے پاس بہت زیادہ سائنسی اور ٹیکنالوجیکل امکانات ہیں ،اس کا انحصارخود ہم پر ہی ہے کہ ہم ان امکانات کو کس طرح پوری انسانیت کی بھلائی کے لئے استعمال کریں گے یا خود کو نیست و نابود کرنے کے راستے پر گامزن ہوں گے۔آدھی صدی قبل ہی یہ سوال تشویش کا باعث بنا تھا کہ وہ دن دور نہیں جب انسان کے ہاتھ میں ایٹم کی توانائی ہوگی جو ایک ایسی قوت کا ماخذ ہوگی جس کی بناء پر وہ اپنی پسند کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال سکے گا ۔یہ سوال بھی اٹھا تھا کہ کیا انسان اس قوت کو اپنی تباہی کے بجائے اچھے مقاصد کے لئے استعمال کرسکے گا؟کیا اس نے اتنی پختگی حاصل کرلی ہے کہ اس قوت کو استعمال کرسکے جو سائنس اس کو ضرور مہیا کرے گی؟مگر اب یہ بات صاف ہوچکی ہے کہ بلکہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اس قوت سے پوری زندگی اگر ختم بھی نہ ہوئی تب بھی اس کا نتیجہ بہت بڑی اکالوجیکل تباہی ہی ہوگا ۔ایک لمبے عرصے سے ہم دیکھ رہے ہیںکہ مسلسل کی جانے والی نیو کلیائی آزمائشیں،کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے اور ان کی مسلسل پیداوار اور نئے اصولوں کی بنیاد پر ہتھیاروں کے نظاموں کو دی جانے والی ترقی ،ان سب کے ایسے تباہ کن نتائج برآمد ہوسکتے ہیں جن کی پیش بینی نہیں کی جاسکتی ہے۔تجدید پذیر وسائل کا فوجی مقاصد کے لئے مسرفانہ استعمال زمین کے قدرتی وسائل کے لئے بڑا بار بنتا جارہا ہے ۔سائنسی اور ٹیکناجیکل ترقی سے ایک طرف تو انسانی زندگی سدھرتی دکھائی دے رہی ہے اور دوسری طرف فطرت میں اس قسم کی ناقابل تنسیخ تبدیلیاں ہوتی ہیں جو انسانیت کے لئے بہت مضر ثابت ہوسکتی ہیں۔دنیا بدل رہی ہے ، انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کے تعلق سے ہمارے تصورات کو بھی بدلنا ہوگا ۔اس وقت سوال محض’پُر امن بقائے باہمی‘ کا نہیں ہے بلکہ سوال ہے باہمی ارتقاء کا یعنی مشترکہ باہمی مفید ترقی کا ۔ٹیکناجیکل ترقی ایک ایسی حقیقت ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ،وہ محض مسائل پیدا نہیں کرتی ہے بلکہ ہمیں ایسے ذرائع بھی مہیا کرتی ہے جن سے ان رکاوٹوں کو دور کیا جاسکتا ہے جنہیں پہلے ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھا ۔دنیا کی بقاء کے لئے ضروری ہے کہ سارے حکمران کسی علاقے یا کسی ملک کے سیاق و سباق میں پڑے بغیر اس مسئلہ کوعالمی سطح پر ایک نئی فکر کے ساتھ بین الاقوامی رشتوں کے تحت ایک اصول کے طور پر تسلیم کرکے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دیں،جس سے مثبت نتائج برآمد ہوسکیںکیونکہ ہو ا اور سمندر کی لہریںریاستوں کی سرحدوں میں قید نہیں کی جاسکتی ہیںجبکہ کرونا وائرس کی موجودہ لہر اس کی ایک زندہ و جاوید مثال ہے۔
 

تازہ ترین