تعلیمی اداروں اور کوچنگ سنٹروں کا فیصلہ جولائی میں کیا جائے گا | ریڈ زون علاقوں کے لاک ڈائون میں 30جون تک توسیع | غیر پابندی والے علاقوں میں شاپنگ مال ،ریستوران اور شادی ہال مرحلہ وار کھولنے کی اجازت

بین ریاستی آمدورفت پرپابندی ہٹائی گئی، 65سال سے زیادہ، 10سال سے کم عمر بچوں اورحاملہ خواتین کو گھروں میں رہنے کی تلقین

تاریخ    31 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


نیوز ڈیسک
نئی دہلی// کورونا وبا کی وجہ سے پورے ملک میں گزشتہ دو مہینوں سے زیادہ وقت سے جاری لاک ڈاون کو اب صرف پابندی والے علاقوں تک محدود کرکے اس کی مدت میں 30جون تک توسیع کردی گئی ہے۔ریڈ زون سے باہر کے علاقوں میں مختلف سرگرمیوں پر چوتھے مرحلہ میں نافذ پابندیوں کو مرحلہ وار طریقہ سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔مرکزی داخلہ وزارت نے 65سال عمر سے زیادہ،حاملہ خواتین اور 10سال سے کم بچوں کو گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ  اپنی صحت کا خیال رکھتے ہوئے اشد ضرورت پر ہی وہ گھر سے باہر نکلیں۔مرکزی داخلہ سکریٹری نے ڈیزاسٹر منیجمنٹ ایکٹ کے تحت قائم قومی ایگزیکیوٹیو کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے اس بارے میں احکامات جاری کئے۔ احکامات کے ساتھ ریڈ زون کے لئے خصوصی رہنما ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔خیال رہے کہ کورونا وبا کی وجہ سے پورے ملک میں گزشتہ 25مارچ سے لاک ڈاون نافذ ہے جس کا چوتھا مرحلہ 31مئی کو ختم ہورہا ہے۔نئے رہنما ہدایات میں کہا گیا ہے کہ کنٹینمنٹ زون کے باہر سرگرمیوں کو مرحلہ طریقہ سے شروع کیا جائے گا اور اس دوران مرکزی وزارت صحت ور خاندانی فلاح وبہبود کے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پی) پر عمل کرنا ہوگا۔پہلے مرحلہ میں آئندہ 8جون سے مذہبی مقامات، ہوٹلوں، ریستورانوں اور دیگر مہمان نواز ی کے مراکز اور شاپنگ مال کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان سرگرمیوں کے لئے جلد ہی ایس او پی جاری کیا جائے گیا۔دوسرے مرحلہ میں ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام ریاستوں کے ساتھ صلاح و مشورہ کے بعد اسکول، کالج، تعلیمی، تربیتی اور کوچنگ سنٹر وغیرہ کھولے جائیں گے۔ ریاستیں اور مرکز کے زیرانتظام ریاستیں اداروں، والدین اوردیگر فریقین کے ساتھ بھی صلاح ومشورہ کریں گی۔ ان صلاح و مشوروں کی بنیاد پر ان اداروں کو کھولنے کے بارے میں فیصلہ جولائی میں کیا جائے گا۔ اس کے بارے میں بھی تمام متعلقہ فریقین اور ایجنسیوں کے ساتھ مل کر ایس  او پی جاری کیا جائے گا۔تیسرے مرحلہ میں حالات کے وسیع جائزہ کے بعد بین الاقوامی فضائی سفر، میٹرو ریل، سنیما ہال، جم، سوئمنگ پول، تفریحی پارک، تھیئٹر، بار، آڈیٹوریم، اسمبلی ہال اور اسی طرح کے دیگر مقامات کو کھولنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ سماجی، سیاسی، کھیل، تفریح، تعلیمی، ثقافتی، مذہبی تقاریب اور بھیڑ بھاڑ والی تقریبات کے انعقاد کے بارے میں فیصلہ صورتحال کے جائزہ کے بعد ہی کیا جائے گا۔نئی رہنما ہدایات میں رات کے کرفیو کو نافذ رکھا گیا ہے لیکن اس کا وقت بدل کر رات میں نو بجے سے صبح پانچ بجے تک کردیا گیا ہے۔ پہلے یہ شام سات سے صبح سات بجے تک تھا۔ لازمی خدمات کو اس پابندی سے باہر رکھا گیا ہے۔ ریڈ زون میں لاک ڈاون کی پابندیاں پہلے کی طرح 30جون تک نافذ رہیں گی۔ ریڈ زون کا تعین رہنما خطوط کے مطابق کیا جائے گا ۔ریڈ زون میں لازمی خدمات کو پابندی سے باہر رکھا گیا ہے۔ان علاقوں میں لوگوں کے آمدورفت مکمل طورپر بند رہے گی اور وہ صرف طبی ایمرجنسی اور لازمی خدمات کے لئے ہی باہر نکل سکیں گے۔ ریاستیں اور مرکز کے زیرانتظام ریاستیں پابندی والے زون کے باہر پہلے ہی طرح بفر زون بنا سکیں گی جہاں نئے معاملے آنے کا اندیشہ ہو۔ ان علاقوں میں ضلع انتظامیہ اپنی طرف سے پابندی لگا سکیں گی۔ریاستیں اور مرکز کے زیرانتظام ریاستیں ضرورت پڑنے پر صورتحال کے مطابق کچھ سرگرمیوں پر پابندی لگا سکتی ہیں۔نئی رہنما ہدایات میں لوگوں اور سامان کو ریاست کے اندر ایک سے دوسری ریاست میں لانے لے جانے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ اس طرح کے لانے لے جانے کے لئے کسی طرح کے پرمٹ یا پاس کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اگر کچھ ریاستیں صحت شعبہ کی تشخیص کی بنیاد پر اس آمدورفت کو محدود کرنا چاہتی  ہیں تو وہ اس بارے میں پہلے سے ہی وسیع تشہیر کرکے لوگوں کو معلومات دیں گی۔مسافر ٹرین، شرمک اسپیشل ٹرے، گھریلو فضائی سفر، غیرممالک میں پھنسے ہندستانیوں اور ملک میں پھنسے غیرملکیوں کی آمدو رفت چوتھے مرحلہ کی طرح ایس پی او کی بنیاد پر جاری رہے گی۔ جن پڑوسی ممالک کے ساتھ معاہدہ ان میں سامان کی آمدورفت میں بھی کوئی ریاست رخنہ نہیں ڈالے گی۔
 

تازہ ترین