جموں صوبہ میں 35ہزار گاڑیاں ایک ہی جگہ کھڑی

حکومت کی 50فیصد ٹرانسپورٹ کی سرکاری پیشکش رد ٹرانسپورٹروںنے بھوک ہڑتال کا انتباہ دیا

تاریخ    31 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(فائل فوٹو)

سید امجد شاہ
جموں //حکومت کی طرف سے 50فیصد پبلک ٹرانسپورٹ کی بحالی کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے جموں صوبہ کے ٹرانسپورٹروں نے لیفٹنٹ گورنر جی سی مرمو سے اپیل کی ہے کہ بینک قرضوں پر سود،فیس اورگاڑیوں کے انشورنس کو اگلے چھ ماہ تک مستثنیٰ رکھاجائے ۔چیئرمین جموں وکشمیر ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسو سی ایشن ٹی ایس وزیر نے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا’’ہم صرف پچاس فیصد پبلک ٹرانسپورٹ کو نہیں چلاسکتے،ہم اپنے ڈرائیوروں کو اُجرت دینے کے قابل نہیں اور نہ ہی ٹول پلازہ کی ادائیگی کرسکتے ہیں اس لئے فیصلہ پر نظر ثانی کی جائے ‘‘۔وزیر نے بتایاکہ پورے صوبہ میں 35ہزار کے قریب پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیاں پچھلے 2ماہ سے ایک ہی جگہ کھڑی ہیں جن میں ٹرک ،بسیں ،منی بسیں اور تین پہیہ گاڑیاں شامل ہیں ‘‘۔ایس آر ٹی سی بسوں اور ہوائی جہازوںکو چلنے کی اجازت دینے پر سوال اٹھاتے ہوئے وزیر نے کہا’’غریبوں پر امیروں کو ترجیح دی جارہی ہے ،ہوائی سروس کی اجازت دی گئی ہے مگر پبلک ٹرانسپورٹ سے انکار کردیاگیاہے ، ہمیں سڑکوںپر نکلنے کیلئے مجبور کیاجارہاہے ‘‘۔انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو ان کے پاس احتجاج اور بھوک ہڑتال کے سواکوئی چارہ نہیں رہے گا۔ان کاکہناتھاکہ باوجود اس حقیقت کہ 24مارچ کو نافذ کئے گئے لاک ڈائون اورپابندیوںسے اب تک انہیں بھاری نقصان اٹھاناپڑاہے ،حکومت کی طرف سے انہیں کوئی پیکیج نہیں دیاگیا ۔وزیر کاکہناتھا’’ہم اگست 5سے متاثر ہورہے ہیں ،لیکن مارچ سے ہماری بسیں، ٹرک ،ٹینکر اور منی بسیں و تین پہیہ گاڑیاں ایک ہی جگہ کھڑی ہیں ،حکومت نے پیکیج کا اعلان کیامگر اس میں ٹرانسپورٹروں کا کوئی ذکر نہیں ، کیا ہم ہندوستانی نہیں ہیں؟‘‘۔ان کاکہناتھاکہ ٹرانسپورٹروں کو بینکوں کی طرف سے قسطوں کی ادائیگی کیلئے فون کالز موصول ہورہی ہیں لیکن وہ کیسے یہ قسطیں ادا کریں گے جب گاڑیاں چل ہی نہیں رہیں ۔انہوں نے کہاکہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ تادم مرگ بھوک ہڑتال کریں گے۔
 

تازہ ترین