تازہ ترین

’مودی حکومت کی دوسری مدت کا پہلا سال تباہ کن | جموں کشمیرکادرجہ گھٹاناسنگین غلطی،ملک کی معاشی حالت کمزور | مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ:کانگریس

تاریخ    31 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


نیوز ڈیسک
جموں // پردیش کانگریس نے مودی سرکار کی دوسری مدت کو بطور ’مس گورننس‘ قرار دیا ۔ ایک بیان میں پارٹی کے ترجمان اعلیٰ رویندر شرما نے کہا کہ مودی سرکارکی دوسری مدت نے ملک میں اقتصادی بحران لایا اور جموں وکشمیر کے نوجوانوں کیلئے پریشانیاں پیدا کیں ۔ انہوںنے کہا کہ جب ملک میں اقتصادیات کش مکش کے دور میں تھی ،تو مودی سرکار نے سماج  اور سیکولر ڈھانچہ کو خراب کر دیا۔انہوں نے کہا کہ مودی سرکار نے جان بوجھ کر ملک کے وفاقی ڈھانچہ کو کمزور کرکے جمہوریت اور آئین کی بنیادوں پر حملہ کیا۔انہوں نے کہا کہ مودی سرکار کی دوسری مدت کا ایک سال تباہ کن ثابت ہوا ہے کیونکہ اس نے ملک کی اقتصادی حالت کو تہس نہس کردیا،جسکی وجہ سے بیروزگاری اور مہنگائی عروج پر پہنچ گئی۔شرما نے کہا کہ اب جب کہ 2020میں دنیا کو کورونا وائرس نے ہلا کر رکھ دیا  لیکن مودی سرکار نے پہلی مدت  میںبھی غلط فیصلے جیسے کہ نوٹ بندی اور غیر مناسب جی ایس ٹی لاگو کئے ،جس سے ملک کی معاشی حالت کودھچکا لگ گیا اور سب سے کمزور مرحلہ تک پہنچ گئی۔مودی سرکار کی دوسری مدت کا ایک سال پورا ہونے پر اپنے رد عمل میں شرما نے کہا کہ ملک کی معیشت روزبروز کمزور ہو رہی ہے اور اس کے بحال ہونے کی امیدیں بھی کم نظر آتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کمزرو اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں بیروز گاری اور مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ سماجی محاذ پر بھی مودی سرکار ناکام رہی،جس سے ملک میں انتشار پھیل گیا ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر ریاست کا درجہ ختم کرکے اسے یو ٹی کا درجہ دینا مودی سرکا کی ایک بڑی غلطی قرار دیا ،جسکی وجہ سے یہ تاریخی ریاست اپنی پہچان کھو بیٹھی۔انہوںنے کہا کہ مودی سرکار نے جموں و کشمیرکی عوام کے جذبات کو مجروح کیا ۔جموں کشمیرحکومت کی تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکار کے پاس نوجوانوں کی بھلا ئی کیلئے کوئی پالیسی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکار کا یہ وعدہ سراب ثابت ہوا کہ کوروناوائرس کی وجہ سے کوئی بیکار نہیں ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370کی تنسیخ کے بعد کی بندشیں ابھی بھی جاری ہیںاور قومی دائرے والی متعدد سیاسی پارٹیوں کے لیڈران ابھی بھی حراست میں ہیں،جس کی وجہ سے سیاسی سرگرمیاں محدد ہو گئی ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ ہر شعبہ کا استعمال بی جے پی کے فائدے کیلئے کیا جاتا ہے،جس سے ،ملک میں سیاسی اور سماجی ڈھانچہ خراب ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پورے جموں و کشمیر میںغیر معینہ کرفیو رہا اور شہریوں کے حقوق چھینے گئے ،متعدد سیاسی لیڈران بغیر کسی جواز کے حراست میں رکھے گئے،جسے بھارتی جمہوریت کی تاریخ میں یاد کیا جائے گا۔