تازہ ترین

نئی عالمی طاقت کی حیثیت سے چین کا ظہور

وسائل سے مالامال مسلم بلاک مسلسل پستی سے دوچار کیوں؟

تاریخ    30 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


منظور انجم
عالم اسلام میں اس بار عید اس حالت میں منائی گئی کہ نماز عید کا کوئی بڑا اجتماع کہیں نہیں ہوا۔کروناوائرس متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی خبروں کے درمیان منائی گئی یہ عید عالم اسلام کی تاریخ کی پہلی ایسی عید تھی اور اللہ کرے کہ یہ آخری ایسی عید ہو۔ یقینایہ ایسی آخری عید ہوسکتی ہے اگر کم از کم مسلمان ہی خالق کائنات کی اس تنبیہ کو سمجھ سکے جو کرونا کی صورت میں عالم انسان کو جھنجھوڑنے کے لئے کی گئی ہے ۔جس انسان نے دنیا کو خونریز فساد کا وسیع ترین اکھاڑہ بنایا ہوا ہے، اس کے لئے تنبیہ ضروری تھی جو ایک بے جان وائرس کو ظاہر کرکے دی گئی اور جس کے نتیجے میں انسانی دنیا تہہ و بالا ہوکر رہ گئی ۔لیکن انسان کو تنبیہ کا پہلو نظر ہی نہیں آتا ہے یا وہ جان بوجھ کر اسے دیکھنا نہیں چاہتا ۔اس کی سوچ یہ ہے کہ وبائیں آتی رہتی ہیں اور یہ بھی ایک وباء ہے جو ایک دن ختم ہوجائے گی۔ وہ اس ویکسین کا بے صبری کے ساتھ انتظار کررہا ہے جو امریکہ ، چین ، اسرائیل اور برطانیہ میں تجربوں سے گزر رہا ہے۔اسے یقین ہے کہ ویکسین تیار ہوکر بازار میں آئے گی لیکن سائنس دانوں اور محققین کو ابھی کوئی اندازہ بھی نہیں کہ وہ اس وائرس کا خاتمہ کرنے کیلئے کوئی موثر ویکسین یا دوا تیار کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ۔ابھی اس وائرس کی اصلیت اور انسانی جسم میں تبدیلیاں کرنے کے اس کے عمل کو سمجھنے سے بھی سائنس قاصر ہے ۔جو بھی سامنے آرہا ہے ابھی صرف مفروضے ہیں جن سے انسان بہل رہا ہے ۔ان بہلائوں کے بیچ وہ گھر میں اس لئے بیٹھا ہے کہ اس پر گھر سے نکلنے کی پابندی عاید کردی گئی ہے ۔وہ لاک ڈائون کے ہٹنے کا بے صبری کے ساتھ انتظار کررہا ہے ۔لاک ڈائون ہٹ جائے تو کرونا وائرس جائے بھاڑ میں ۔ وہ شراب کے ٹھیلوں پر لائن لگائے گا ۔ ریستورانوں میں جائے گا ۔عیش و طرب کی محفلیں سجائے گا ۔ سرکاری زمینوں کو ہڑپ کرنے کے منصوبے بنائے گا ۔ ناجائز تعمیرات اور تجاوزات شروع کرے گا اور جو کچھ بھی جائز و ناجائز وہ کرتا رہا ہے، کرے گا ۔
ہماری جنت نظیر سرزمین جہاں اب ہر روز سینکڑوں کے حساب سے کرونا متاثرین سامنے آرہے ہیں، کے لوگ بھی لاک ڈائون کے ختم ہونے کے انتظار میں ہیں حالانکہ لاک ڈائون کے باوجود اُن لوگوں نے عید کا بھرپور اہتمام کیا جو عید سے پہلے لوگوں کو لوٹنے میں سرگرم تھے ۔ منافع خوری کے ریکارڈ توڑنے والوں نے بھی عید کی خوشیاں منائیں ۔ جنگل چوروں ، منشایات کے بیوپاریوں ، سات سو روپے گوشت فروخت کرنے والے قصائیوں ، ایک سو ستر روپے کلو مرغ فروخت کرنے والے دکانداروں اور بیوپاریوں ،درس گاہوں کے نقلی رسید بک لیکر لوگوں سے پیسے وصول کرنے والے چارسو بیسوں ،ہسپتالوں کے نقلی نسخے دکھا دکھا کر رقوم حاصل کرنے والوں،نقلی دوائیاں بنانے والوں ، زمین کے دلالوں ، رشوت خوروں ،دھوکے بازوں ، جعلسازوں ، اعتماد اوراعتبار کا سودا کرنے والے سیاست دانوں ،غنڈوں ، بدمعاشوں ،اللہ کے نام کا استعمال کرکے اپنا الو سیدھا کرنے والے مولویوں، دانشوری کے نام پر گمراہی پھیلانے والے نام نہاد دانشوروں اور نقلی صحافیوں نے اس افسوس کے ساتھ عید منائی کہ وہ عید نماز کے بڑے اجتماع میں نماز ادا نہیں کرسکے ۔
صرف اللہ کے ان بندوں کی کوئی خوشی نہیں تھی جو دن کو کماتے تھے اور شام کو کھاتے تھے ۔مزدوروں ، کاری گروں ، دستکاروں ، بیواوں ،یتیموں جن کے پاس نہ سحری کا کوئی اہتمام تھا نہ افطار کا ۔ ان کی خبر لینے والا کوئی نہیں تھا ۔صدقے اور زکواۃ کا شاندار تصور رکھنے والے مذہب کا نظام اس کے پیروکاروں نے اس قدر خستہ بنادیا ہے کہ مستحقوں تک اس کا فیض پہنچ ہی نہیں پاتا ۔بڑی بڑی مذہبی تنظیموں اور اوقافوں کے ہاتھوں میں یہ نظام یرغمال ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اسی عظیم الشان مذہب کے پیروکار ہر گلی کوچے میں بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔اگر ہر علاقے اور ہر محلے میں ایک بیت المال قائم ہوتا جس میں اسی علاقے کے غریبوں کی فہرست موجود ہوتی اور اسی علاقے کے صاحب ثروت اس میں عطیات دیتے اور وہ ان مستحقین میں تقسیم ہوتا تو کوئی ایک بھی مسلمان محتاجی کی حالت میں نہیں ہوتا ۔چند یتیم خانے کھولنے سے غربت اورمحتاجی کی حالت نہیں بدلی جاسکتی ہے ۔حالانکہ کئی یتیم خانے غیر معمولی خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن قومی پیمانے پر افلاس کو دور کرنے کی یہ کوشش کافی نہیں ۔ اس کے لئے قومی سوچ اور موثر طریقہ کار اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔جو مسلمان نہیں کررہا ہے ۔مذہبی تنظیمیں قوم کی وسیع تر فلاح کے بارے میں کم اور اپنی تنظیمی فلاح کے بارے میں زیادہ متفکر رہتی ہیں ۔عید کے روز کتنے مسلمان کسمپرسی کی حالت میں تھے، کیا اللہ یہ نہیں جانتا ہے اور کیا وہ اس پر مسلمانوں سے خفا نہیں ہوگا اور انہیں جھنجھوڑنے کیلئے وبائیں نازل نہیں کرے گا ۔
کرونا وائرس صرف مسلمان کے لئے نہیں بلکہ دنیا کے ہر انسان کے لئے الٰہی قہر ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس میں مسلمان کی کوتاہیوں ، گناہوں اور غلطیوں کا کوئی عمل دخل نہیں ۔ ہراُس قوم ،جس نے اولاد آدم کو بے بسی ، افلاس ، ظلم اور فساد کا شکار بنادیا ہے،کیلئے یہ تازیانہ عبرت ہے ۔ہر قوم کی تقدیر ڈانوا ڈول ہورہی ہے ۔ پورا عالمی نظام بدل رہا ہے ۔ خالق کائنات نے اس ذرا سے وائرس کے ذریعے جہاں انسان کو اپنی اوقات یاد دلائی ،وہیں اس نے عالمی طاقت کا توازن امریکہ سے ایشیاء منتقل کردیا ۔یورپی یونین اب اس کوشش میں ہے کہ امریکہ پر انحصار ختم کرکے چین کے ساتھ تعلقات کو نیا موڑ دیا جائے ۔اس کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ یورپی وزیر خارجہ جوزف بوریل (دائیں) نے کہا کہ تاریخ میں کووڈ-19 کی وبا کو ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر دیکھا جائے گا جب دہائیوں بعد امریکہ دنیا کی رہنمائی کرتا ہوا نظر نہیں آ رہا تھا۔انہوں نے کہا ہے کہ ماہرین جس ’ایشائی صدی‘ کی آمد کی پیشگوئی کر رہے تھے ،اس کا شاید کورونا کی وبا کے دوران ظہور ہو چکا ہے اور اب یورپی یونین کو اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے چین کے حوالے سے ایک ٹھوس پالیسی بنانی ہوگی۔جوزف بوریل نے پیر کو جرمنی کے سفارت کاروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’تجزیہ کار کافی عرصے سے امریکہ کی سربراہی میں چلنے والے عالمی نظام کے خاتمے اور ایشیائی صدی کی آمد کی باتیں کر رہے تھے‘۔انھوں نے کہا ہے کہ ایسے شواہد ہیں کہ چین عالمی طاقت کے طور پر امریکہ کی جگہ لے رہا ہے اور یورپی یونین کو چین کے حوالے سے ایک مضبوط پالیسی طے کرنا ہوگی۔یورپی یونین کے ایک سینئر سفارت کار کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چین ہانگ گانگ میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے سکیورٹی کے حوالے سے نئے قوانین بنا رہا ہے۔تلخ بیانات سے آنے والے دنوں میں دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان کشیدگی میں اور زیادہ اضافہ ہونے کا اشارہ بھی ملتا ہے۔ ادھر پیشہ وارانہ سروس کی عالمی فرم پی ڈبلیو سی کی رپورٹ ’دی ورلڈ ان 2050‘ کے مطابق 30 برس میں چھ میں سے سات عالمی معاشی طاقتیں وہ ممالک ہوں گے جو آج معاشی لحاظ سے ترقی پذیر ملک ہیں اور امریکہ اس فہرست میں دوسرے سے تیسرے درجے پر چلا جائے گا۔اس طرح جاپان چوتھے سے آٹھویں اور جرمنی پانچویں سے نویں درجے پر چلا جائے گا۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آنے والے عشروں میں ویتنام، فلپائن اور نائجیریا جیسے ملک بھی معاشی لحاظ سے بے پناہ ترقی کریں گے اور اس فہرست میں بہت اوپر چلے جائیں گے۔
ماہرین اس سے پہلے ہی اس بات کے اشارے دے رہے تھے کہ دنیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے جارہا ہے ۔ان کے اندازوں کی بنیاد کیا تھی ،اس سے قطع نظر قدرت کا یہ قانون ازل سے رہا ہے کہ ہر ایک قوم ، ہر ایک نظرئیے اور ہر ایک فلسفے اور ہر ایک تہذیب کو عروج کا بھرپور موقع ملتا ہے لیکن جب اس میں ایسے رحجانات پیدا ہوتے ہیں جو قانون قدرت کو چیلنج کرنے لگتے ہیں تو زوال مقدر بن جاتا ہے ۔گزشتہ صدی میں کمیونزم کو عروج ملا لیکن جب سوویت یونین توسیع پسندی کے زعم میں فوجیں لیکر افغانستان پہنچا تو زوال اس کا مقدر بن گیا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ۔سرمایہ داری نظام کو بھی امریکہ کی قیادت میں عروج کا بھرپور موقع ملا لیکن اس نے چھوٹی قوموں اور ملکوں کو فوجی اور اقتصادی غنڈہ گردی کا شکار بنایا تو اس کے زوال کے اسباب بھی پیدا ہوئے ۔ چین ایک کمیونسٹ ملک ہے لیکن اب اس کا نظام کمیونزم اور سرمایہ داری کا ایک ملا جلا نظام ہے ۔ اس قدیم ترین تہذیب کو کبھی دنیا کی رہنمائی کا موقع نہیں ملا ۔چنانچہ آج اس کے لئے اس موقعے کی فراہمی کے ساماں کئے جاچکے ہیں ۔حالانکہ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں کا اقتدار اعلیٰ نظریاتی طور پر دنیا کو تخلیق کرنے والے کسی وجود کا قائل نہیں ۔لیکن اللہ صرف اپنے ماننے والوں پر ہی کرم نہیں کرتا بلکہ وہ بلا امتیاز ہر قوم اور ہر ملت کو عالمی قیادت کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہی اس کی شان بے نیازی ہے ۔
اب پوری طرح سے دنیا کو بدلنا ہے اور چھوٹی قوموں کو آج کی بڑی قوموں کی جگہ لینی ہے لیکن مسلم دنیا کا کوئی ملک ان میں شامل نہیں کیونکہ بے پناہ قدرتی وسائل کے مالک ہونے کے باوجود کوئی مسلم ملک کسی بھی شعبے میں ترقی کے منازل طے کرنے کی کوشش بھی نہیں کرسکا ہے ۔ وہ اقتصادی ، سیاسی ، تکنیکی ، سائنسی ، تجارتی اور علمی شعبوں میں دوسروں سے بازی لیجانے کے بجائے ’’ ا رتغرل ‘‘ سیریل دیکھ رہا ہے ۔وہ یہ دیکھ کر خوش ہورہا ہے کہ کس طرح سے اس کے اسلاف نے گھوڑوں اور تلواروں کے ساتھ تین براعظموں پر اپنی حکومت اور دبدبہ قائم کیا ۔وہ یہ بات فراموش کررہا ہے کہ آج کی دنیا گھوڑوں کی دنیا ہے نہ تلواروں کی ۔نہ ہی کلاشنکوفوں سے دنیا کو فتح کیا جاسکتا ہے ۔دنیا میں کوئی مقام حاصل کرنے کے لئے آج ترقی کی ضرورت ہے ۔چین نے صرف ستر سال کے عرصے میں ایک عظیم طاقت بننے کا سفرکسی ملک پر فوج کشی سے طے نہیں کیا ۔اس کی فوج آج بے شک دنیا کی عظیم فوج ہے لیکن جو مقام اسے ملنے جارہا ہے ،وہ اسے اقتصادی قوت بن کر حاصل ہورہا ہے ۔اس کے عوام کی صحیح سوچ اور بے پناہ محنت سے مل رہا ہے ۔اور جو قومیں محنت اورکوشش سے آگے بڑھنے کی جدوجہد کرتی ہیں ،اللہ بھی ان کی مدد کرتا ہے ،چاہے وہ خدا بیزار قومیں ہی کیوں نہ ہوں ۔