تازہ ترین

عارضی خود انحصاری کو دائمی بنانے کی ضرورت!

تاریخ    30 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


ہر شر میں خیر کا پہلو پنہاں ہوتا ہے ۔کورونا وائرس کی عالمگیر وباء نے بے شک پوری دنیا میں تباہی مچائی ہوئی ہے تاہم عالمی تباہی کے اس جائز مباحثہ میں اُن مثبت تبدیلیوںپر کوئی بات نہیں ہورہی ہے جو اس آفت کی وجہ سے وقوع پذیر ہوئیں۔ہمارے جموںوکشمیر میں بھی اس وباء کی وجہ سے کئی ایسی تبدیلیاں واقع ہوئیں جو کم و بیش اُن تبدیلیوں سے مماثلت رکھتی ہیں جو عالمی سطح پر رونما ہوئیں، جن میں سے بیشتر کا تعلق معاشرہ ،تعلیم و ٹیکنالوجی اور ماحولیات سے ہے تاہم یہاں ایک اور خوشگوار تبدیلی بھی واقع ہوئی جس پر بات کرنے کی ضرورت ہے اور اس کو اُجاگر کیا جانا اہم ہے تاکہ اس کو معمول بنایا جاسکے ۔اس تبدیلی کا تعلق خودانحصاری سے ہے ۔پوری دنیا کی طرح جب ہمارے ملک کے ہر حصہ میں کورونا وباء کی وجہ سے مہاجرمزدوروں نے اپنی گھروںکی راہ لی تو ہر جگہ کامگار طبقہ کی قلت شدت سے محسوس کی جانے لگی ۔گزشتہ روز قومی میڈیا میں یہ خبر آئی کہ دلّی اور ملک کے بڑے شہروں میں قائم ہوائی اڈوں کے باہر ایسے مسافروں کو ٹیکسیاں نہیں مل رہی ہیںجو دو ماہ کی درماندگی کے بعد گھروں کو لوٹ رہے ہیںکیونکہ ان ٹیکسیوںکے ڈرائیوروں میں سے بیشتر کا تعلق انہی مہاجر مزدوروں کامگاروں میں سے تھا، جو اب اپنے گھروں کو واپس لوٹ چکے ہیں۔اسی طرح کل ہی ایک قومی انگریزی روزنامہ میںپنجاب کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ وہاں دھان کی پنیری لگانے کیلئے مزدور ہی میسر نہیں ہیں  اور جو مزدور پہلے ایک ایکڑ زرعی اراضی پر پنیری لگانے کیلئے ساڑھے تین ہزار روپے لیتے تھے ،آج وہی مزدور 7ہزار روپے کا تقاضا کررہے ہیں اور اس پر ستم یہ کہ ان مزدوروں کو یہ رقم نہ صرف پیشگی ادا کرنی پڑتی ہے بلکہ انہیں کھانا اور دیسی شراب بھی فراہم کرنا پڑرہی ہے جبکہ اس کے علاوہ ان کے موبائل فون ریچارج بھی کرنے پڑرہے ہیں۔آج ہمیں احساس ہوا ہے کہ جس مزدور طبقہ کو ہم حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے ،وہ ہمارے لئے کتنا اہم ہے ۔بہر کیف اس بحث کو زیادہ طول نہ دیتے ہوئے اگر کشمیر کی بات کی جائے تو یہاں بھی آج کل زراعت اور باغبانی کا سیزن عروج پر ہے لیکن سال ِ رفتہ کی طرح اس سال بھی جب یہاں بیرونی مزدور دستیاب نہ تھے تو مقامی مزدوروں سے ہی کام لینا پڑرہا ہے ۔آج کل کشمیر کے یمین ویسار میں زرعی زمینوں اور باغات میں مقامی لوگوں کو پنیری لگاتے اور باغبانی سرگرمیوں میں مصروف دیکھا جاسکتاہے، جو ایک خوش آئند بات ہے ۔گزشتہ سال بھی 5اگست کے فیصلہ کے نتیجہ میں طویل لاک ڈائون کی وجہ سے جب بیرونی مزدور واپس چلے گئے تو نہ صرف مقامی لوگوں کو دھان کی فصل خود کاٹنا پڑی بلکہ باغات میں سارا کام اپنے ہی ہاتھوںسے کرناپڑا۔اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ کہالت کسی درجہ کم ہوئی اور لوگ آرام پسند طرز زندگی سے باہر نکل کر محنت کشی کی جانب لوٹ پڑے، وہیں ایک اور اہم فائدہ یہ ہوا کہ مزدوری کی صورت میں کمایا گیا سارا پیسہ کشمیر کے اندر ہی گیا اور مالی وسائل ڈرین نہیں ہوئے بلکہ یہاں کمایا ہوا پیسہ یہاںکے لوگوںکے ہی جیبوںمیں چلاگیا اور گھوم پھر کر یہ پیسہ پھر مقامی معیشت کا پہیہ چلانے کے ہی کام آیا۔اس دفعہ بھی ایسا ہی کچھ ہو رہاہے ۔ہر جگہ نہ صر ف لوگ خود کام کررہے ہیں بلکہ جہاں حسب ضرورت مزدوروں کی مددلینا پڑرہی ہے تو یہ کام  مقامی مزدور وںسے کروایا جارہا ہے ۔یہ ایک خوشگوار تبدیلی ہے اور خود انحصاری کی جانب پہلا بڑاقدم بھی ثابت ہوسکتا ہے ۔ہماری کہالت نے ہمیں مکمل طور پر بیرونی مزدوروں اور کاریگروںکے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھااور اب گھروں کا چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا کام بھی ان بیرونی مزدوروں اور کاریگروں سے کروایا جارہا ہے جبکہ مقامی مزدوروں اور کاریگروں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں تھا جس کانتیجہ یہ نکل رہا تھا کہ ہمارا سارا پیسہ باہر جارہا تھا اور ہم مکمل طور دوسروں پر منحصر ایک کنزیومرسوسائٹی بن چکے تھے ۔اس کاسب سے بڑا منفی پہلو یہ سامنے آیا تھا کہ ہماری معیشت برباد ہوچکی تھی کیونکہ ہم جو بھی کماتے تھے ،وہ واپس ہم پر صرف نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ پیسہ باہر چلاجاتا تھا لیکن گزشتہ برس کے سیاسی اور امسال کے طبی لاک ڈائون کی وجہ سے بھلے ہی ہماری آمدنی کے ذرائع محدود ہوگئے لیکن جتنی بھی آمدن ہوئی ،اُس کا صرفہ بھی مقامی سطح پر ہی ہوا اور یوں معیشت کا پہیہ کسی طرح گھومتا رہا ۔اس سال بھی یہی کچھ ہورہا ہے اور اپنا پیسہ اپنے ہی لوگ کمارہے ہیں جو اچھی بات ہے ۔اس سے ہمارا انحصار باہری افرادی قوت پر ختم ہوسکتا ہے اور ہم اُس اپنی طرف سے ہی مسلط شدہ کہالت کی ذلت سے باہر آسکتے ہیں جس نے ہمیں اب گزری کئی دہائیوںسے ناکارہ بنا کر چھوڑ دیاہے۔اگر ہمیں خوشحالی کی جانب گامزن ہونا ہے تو اس کیلئے محنت و مشقت کے سوا کوئی دوسرا شارٹ کٹ نہیں ہے اور ہم اسی جذبہ سے محروم ہوچکے تھے۔ گزشتہ دو برسوں سے تواتر کے ساتھ یہاں حالات کا جو نقشہ ہموار ہوا ہے، اُس نے مجبوراََ ہی سہی ہمیں کہالت کے اس دور سے باہرآنے کا موقع دیا ہے اور ہمیں غفلت سے بیدار کردیا اور ہم دوبارہ اپنے اصل کی طرف لوٹنے لگے لیکن لازمی ہے کہ یہ تسلسل برقرار رکھاجائے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں کسی پر منحصر رہنے کی بجائے اپنے کام خود کرتے رہیں اور ایک مرحلہ پر یہی خودانحصاری ہمیں خود کفالت کی منزل تک لے جاسکتی ہے، جو بحیثیت مجموعی ہمارے سماج کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔