سیاہ فام شخص کی ہلاکت پر امریکہ میں پرتشدد مظاہرے

تاریخ    30 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


نیوز ڈیسک
نیویارک //امریکہ کی ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولس میں پولیس کی زیرِ حراست سیاہ فام شخص کی ہلاکت پر پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔امریکی ایوانِ نمائندگان میں حزبِ اختلاف کی جماعت ڈیمو کریٹک پارٹی نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔منیاپولس میں ہنگاموں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک پولیس اہلکار نے ایک سیاہ فام شخص کی گردن پر اپنے گھٹنے سے دباؤ ڈال رکھا تھا۔ جو بعد میں دم توڑ گیا تھا۔مذکورہ شخص کی بعدازاں شناخت 46 سالہ جارج فلوئیڈ کے نام سے ہوئی تھی جو مقامی ہوٹل میں سیکیورٹی گارڈ تھا۔پولیس کا الزام تھا کہ مذکورہ شخص کو ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور کے قریب سے جعلی بل منظور کرانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ لیکن اس نے گرفتاری کے دوران مزاحمت کی کوشش کی۔واقعے کے بعد نہ صرف منیاپولس بلکہ امریکہ کے دیگر شہروں میں بھی پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ڈیمو کریٹک پارٹی نے جمعرات کو امریکی محکمہ انصاف کو ایک خط لکھا ہے جس میں واقعے کی شفاف تحقیقات پر زور دیا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا تعین کیا جائے کہ اس واقعے کے دوران پولیس غیر قانونی طریقہ کار اختیار کرنے کی مرتکب ہوئی یا نہیں۔خط میں رواں سال فروری میں مبینہ طور پر سابق پولیس اہلکار اور اس کے بیٹے کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ایک اور سیاہ فام شخص احمد آربری کے واقعے کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
 

تازہ ترین