کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    29 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی
سوال :(۱) اسلام میں تجارت کی اہمیت اور حیثیت کیا ہے ؟ایک تاجر کو کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے اور کن باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ہمارے بزنس کرنے والے حضرات میں اچھے سے اچھے بھی ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو دھوکہ ،فریب ،ملاوٹ ،بددیانتی اور خریداروں کو لوٹنے کی ایس ایسی حرکتیں کرتے ہیں کہ لگتا ہے ان کو نہ مرنے کا ڈر ہے اورنہ خدا کی پکڑ کا کوئی خوف ۔اس لئے مختصراً تجارت کے کچھ اصول و آداب سے روشنا س فرماویں۔
سوال (۲)ہم نے ہمیشہ سے سُنا کہ شوال کے چھ روزے رکھنے ہوتے ہیں مگر آج کل ایک ہم عصر عالم ،جو ہمارے پڑوسی خطہ میں ہیں ،کا ویڈیو وائرل ہورہا ہے کہ شوال کے چھ روزوں کی کوئی حیثیت نہیں ۔اس کے متعلق آپ جواب تحریر فرمائیں،نیز یہ بھی فرمائیں کہ یہ روزے کس طرح رکھے جا سکتے ہیں ۔تسلسل کے ساتھ یا درمیان میں کچھ دنوں کا فاصلہ بھی کرسکتے ہیں؟
شیخ عمران۔نوگام سرینگر

تجارت میں دیانت جنت کا ذریعہ

جواب:(۱)تجارت کے ذریعے اپنی معاشی زندگی چلانا سب سے پسندیدہ ذریعہ معاش ہے ۔سچا امانت دار تاجر قیامت کے دن بہت بڑا شرف حاصل کرنے والا ہے ۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سچا تاجر قیامت کے دن یا تو نبیوں کے ساتھ ہوگا یا صدیقوں کے ساتھ یا شہیدوں کے ساتھ(ترمذی)۔اس کے مقابلے میں جو تاجر دھوکہ دے ،خراب مال بیچے ،جھوٹی قسمیں کھاکر مال فروخت کرے ،خریدار کو فریب دے ،ظلم کی حد تک زیادہ نفع لے ،تو اس کے متعلق فرمایا کہ وہ جہنم میں جائے گا ۔تاجر کو چاہئے کہ وہ خوب محنت کرے ،کوشش کرے ۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سوال کیا گیا کہ سب سے بہتر کمائی کیا ہے ۔آپ ؐ نے فرمایا: اپنی محنت کی کمائی اور ہر وہ کاروبار جس میں جھوٹ اور خیانت نہ ہو۔ اُس میں تاجر کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے بزنس کو بڑھانے یا مال فروخت کرنے کے لئے جھوٹی قسمیں کھانے سے پرہیز کرے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ اُس شخص سے ہرگز بات نہ کرے گا نہ اُس کی طرف منہ اُٹھاکر دیکھے گا ،نہ اُس کو پاک و صاف کرکے جنت میں داخل کرے گا جو شخص جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اپنا مال فروخت کرتا ہو۔یہ حدیث مسلم شریف میں ہے ۔دوسری حدیث میں فرمایا:اپنا مال بیچنے کے لئے جھوٹی قسمیں کھانے سے پرہیز کرو ،اس سے وقتی طور پر تو فائدہ ہوتا ہوا نظر آئے گا مگر برکت ختم ہوجاتی ہے ۔یہ حدیث بھی مسلم میں ہے۔تاجر کے لئے ضروری ہے کہ وہ امانت و دیانت داری کو مضبوط پکڑے جیسا کہ اوپر حدیث میں گذرا کہ سچائی اور امانت داری کے ساتھ تجارت کرنے والے کو کون سا انعام ملنے والا ہے ۔اسی طرح تاجر پر لازم ہے کہ وہ خریدار کی ناواقفیت کا فائدہ اُٹھاکر اتنی قیمت وصول نہ کرے جو ظلم کے دائرے میں ہو۔جتنا نفع لینا خود اُسے لینے کا ارادہ ہے،اگر وہ خودخریدار ہو تا تو کیا اتنا نفع دینے کے لئے وہ خود بھی تیار ہوجاتا جتنا نفع دینے کے لئے آدمی تیار ہو، اتنا ہی نفع لینے کا بھی اُسے حق ہے۔اسی طرح تاجر پر یہ بھی لازم ہے کہ ناپ تول میں کوئی کمی زیادتی نہ کرے۔قرآن کریم میں ارشاد ہے :ترجمہ۔تباہی و بربادی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی،سورہ الطفّفین آخری بات یہ کہ ہر تاجر اپنے بزنس کو ایسا بنانے کی کوشش کرے کہ اُس کا بزنس اُسے جہنم سے بچانے کا ذریعہ بنے نہ کہ جہنم میں جانے کا ذریعہ۔

رمضان کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنا سال بھر روزہ رکھنے کے برابر

جواب:(۲) شوال کے چھ روزوں کی فضیلت کے متعلق چند احادیث ملاخطہ ہوں۔
حضرت ابو ایوب انصاری ؓروایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو شخص رمضان کے روزے رکھے پھر شوال کے چھ دن کے روزے رکھے،وہ ایسا ہے جیسے اُس نے ایک زمانہ ٔ طویل تک روزے رکھے۔حدیث میں صیام دھر کے الفاظ ارشاد فرمائے گئے ہیں جس کے ایک معنیٰ زمانہ طویل کے ہیں۔یہ حدیث مسلم شریف کتابِ الصوم میں ہے۔
دوسری حدیث حضرت ثوبانؓ سے مروی ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو عید الفطر کے بعد چھ دن روزہ رکھے تو وہ ایسا ہے جیسے پورا سال روزہ رکھے۔یہ حدیث ابن ماجہ میں ہے۔
اوپر جو حدیث حضرت ابو ایوب ؓ کی روایت سے نقل ہوئی ہے وہ حدیث ترمذی میں بھی ہےاور اس حدیث کو نقل کرکے امام ترمذی نے لکھا کہ یہ حدیث حسن اور صحیح ہے ۔خود مسلم شریف میں حدیث ہونا صحیح ہونے کی علامت ہے ۔اس عظیم فضیلت کی وجہ سے امت کے علماء و صلحا ء اور بے شمار عوام شوال کے ان روزوں کا بڑا اہتمام کرتے ہیں اور ہمیشہ سے کرتے آرہے ہیں۔یہ چھ روزے مسلسل رکھنا بھی جائز ہے اور وقفہ وقفہ سے بھی ۔اگر وقفوں کے ساتھ یہ روزے رکھے جائیں تو شوال کے اختتام تک چھ روزوں کی مقدار پوری کرنی چاہئے۔فقہاء نے وقفے کرکے روزہ رکھنے کو افضل قرار دیا ہے ۔ملاخطہ ہو فتاویٰ تاتارخانیہ ۔شوال کے یہ روزے فرض یا واجب نہیں ،ہاں! سنت یا مستحب ہے اور جس عمل کی فضیلت اور اجر و ثواب حدیث سے ثابت ہو اُس پر عمل کرنا ایمانی جذبہ اور شوق ِ عمل کا بہترین مظہر ہے۔
سوال : آج کل گھروں میں لاک ڈاون کی وجہ سے جماعت ہورہی ہے تو کیا اس گھروں کی جماعت کے لئے بھی امامت ضروری ہے اور اگر صرف ایک مرد امام ہو دوسرا کوئی مقتدی نہ ہو تو اقامت کون پڑھے گا ؟دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا نامحرم خاتون جماعت میں شامل ہوسکتی ہے ۔اس کی جوازیت کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟
گلزار احمد بٹ ۔ہندواڑہ

گھر میں جماعت کا اہتمام اور اقامت

جواب:اقامت در حقیقت جماعت کا اعلان ہے ۔جب مسجد میں تمام نمازی جمع ہوں اور کچھ لوگ اپنی انفرادی نمازوں میں ،کچھ تلاوت میں اور کچھ نماز کے انتظار میں ہوں،تو اس صورت حال میں جماعت کھڑی ہونے کا اعلان کیا جائے تاکہ تمام لوگ صف بندی کریں اورجماعت میں شامل ہوں۔اس اعلان کے لئے جو کلمات حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمائے وہ اقامت یا تکبیر کہلاتی ہے ۔جب گھروں میں جماعت کی جائے یا مسجد کی مقرر ہ جماعت کے علاوہ کہیں بھی جماعت نہ ہو تو اُس کے لئے اس اقامت کی کوئی ضرورت اگرچہ ظاہراً نہیں ہے لیکن چونکہ یہ بھی جماعت ہی ہے اس لئے اس کے لئے بھی اقامت سنت ہے ۔لیکن اگر بغیر اقامت کے نماز پڑھی گئی تو بھی نماز ادا ہوجائے گی ۔اگر مقتدیوں میں کوئی مرد نہ ہو ،مثلاً آج کل گھروں میں جماعت ہوتی ہے اور بہت سارے گھروں میں صرف گھر کی خواتین کے ساتھ جماعت ہوتی تو اس صورت میں جو شخص نماز پڑھائے گا ،وہی اقامت بھی پڑھے ۔اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔گھروں میں جماعت میں اگر محرم خواتین ساتھ کوئی غیر محرم خاتوں نماز میں شامل ہو تو اس میں کوئی شرعی حرج نہیں۔
محرم خواتین میںماں،بہن ،بیٹی،ِ خالہ،پھوپھی ،بھتیجی ،بھانجی ،ساس ،بہو ،رضائی ماں اوررضاعی بہن وغیرہ شامل ہیں ،یعنی جن خواتین کے ساتھ نکاح کرنا حرام ہے وہ محرم ہیں۔مشترکہ گھروں میں کئی بھائی شادی شدہ ہوں تو ان کی بیویاں اپنے شوہروں کے بھائیوں کے لئے نا محرم ہیں ۔یہ دیور اور بھابی کا رشتہ کہلاتا ہے ۔دیور یقیناً نا محرم ہے۔اب اگر مشترکہ گھر میں ایک بھائی امام بنے تو دوسرے بھائی کی زوجہ اُس کی اقتداء میںبلا کسی ترددکے نماز ادا کرسکتی ہے ۔اس کے لئے مقتدی بننے کے لئے محرم ہونے کی شرط نہیں ہے ۔
سوال:جب حنفی مسلک کے مطابق ایک مقتدی کا امام کے پیچھے جہری اور سری نمازیں ادا کرتے وقت سکوت اور استعماع رکھنا ہوتا ہے تو پھر وہ تعوذ اور تسمیہ کیوں پڑھے؟ یوں تو شرعی لحاظ سے تعوذ فقط پہلی رکعت  میں اور تسمیہ ہر رکعت میں ہے۔وضاحت چاہتا ہوں کہ کیا تسمیہ سورہ فاتحہ سے قبل اور ضم سورہ سے قبل بھی ہے؟ یعنی کہ ضم سورہ والی ہر رکعت میں تسمیہ کا جُز دو بار استعمال ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ہے؟
غلام حسن وانی 

اقتداء میں تعوذ اور تسمیہ پڑھنے کا عمل

جواب:تعوذ یعنی اعوذ باللہ پڑھنا اور تسمیہ یعنی بسمہ اللہ پڑھنا مقتدی کا عمل نہیں ہے۔ دراصل ،تعوذ اور تسمیہ ،دونوں کا تعلق قرأت کے ساتھ ہے۔ جس شخص کو قرأت کرنی ہو وہی پہلی رکعت میں تعوذ اور تسمیہ پڑھے گا اور بعد کی ہر رکعت کے شروع میںصرف تسمیہ پڑھنا سنت ہے۔ اسلئے جماعت کی نماز میں مقتدی کو پہلی رکعت میں سبحانک پڑھ کر خاموش رہنا ہے۔۔ہاں امام ہر رکعت کے شروع میںتسمیہ پڑھے۔امام کو پہلی رکعت میں سبحانک ، تعوذ ، تسمیہ اور پھر سورہ فاتحہ اور ضم سورہ پڑھنا ہوتا ہے اور پھر بعد کی ہر رکعت کے شروع میں امام کو صرف تسمیہ پڑھنا ہےاور ضم سورہ کے شروع میں اگرتسمیہ پڑھا جائے تو بہت بہتر اور افضل ہے۔ اگر تسمیہ نہ پڑھے تب بھی درست ہے ۔اکیلے نماز پڑھنے والے کو پہلی رکعت کے شروع میں سبحانک ،تعوذ ، تسمیہ پڑھنا ہے۔اس کے بعد سورہ فاتحہ اور ضم سورہ پڑھے بعد کی ہر رکعت کے شروع میں صرف تسمیہ پڑھے اور ضم سورہ کے ساتھ تسمیہ پڑھے تو افضل ہے،نہ پڑھے تو یہ بھی درست ہے۔

تازہ ترین