فاسٹ ٹریک بھرتی عمل، قواعد کومنظوری

درخواست دیتے وقت ڈومیسائل کی ضرورت نہیںہوگی،انٹرویو کا سلسلہ ختم

تاریخ    29 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


یٰسین جنجوعہ
جموں //جموں وکشمیر حکومت نے بھرتی عمل کو فاسٹ ٹریک بنیادوں پر سرانجام دینے کیلئے نئے خصوصی رولز2020 کو منظوری دی ہے ۔یہ منظوری لیفٹنٹ گورنر گریش چندر مرمو کی زیر صدارت منعقد ہونے والی انتظامی کونسل کی میٹنگ میں دی گئی۔ میٹنگ میں لئے گئے فیصلوں کی جانکاری دیتے ہوئے پرنسپل سیکریٹری محکمہ بجلی و اطلاعات روہت کنسل ،جو سرکاری ترجمان بھی ہیں،نے ایک پریس کانفرنس میں بتایاکہ یہ فیصلہ بھرتی عمل کو تیز اور آسان بنانے کیلئے کیاگیاہے ۔انہوں نے بتایاکہ نئے رولز کا آغاز درجہ چہارم کی خالی پڑی اسامیوں کو پُر کرنے سے ہوگاجس کیلئے ریکروٹمنٹ کمیٹی نے پہلے سے ہی 7052اسامیوں کی نشاندہی کی ہے جومختلف محکمہ جات میں یوٹی، صوبائی اور ضلع سطح پر خالی پڑی ہیں ۔انہوں نے بتایاکہ ان تمام اسامیوں کو خصوصی بھرتی مہم کے ذریعہ پُر کیاجائے گااور متعلقہ محکمہ جات محکمہ عمومی انتظامیہ کے توسط سے خالی اسامیوں کے بارے میں ایس ایس بی (سروسز سلیکشن بورڈ)کو بتائیں گے۔کنسل نے بتایاکہ بھرتی عمل ایس ایس بی کی طرف سے انجام دیاجائے گا۔
سرکاری ترجمان نے بتایاکہ بھرتی عمل کوآسان بنانے اور طوالت ختم کرنے کیلئے انتظامی کونسل نے تمام متعلقہ محکمہ جات کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس فیصلہ کی رو سے ریکروٹمنٹ رولز میں تبدیلی کریں ۔درجہ چہارم (سپیشل ریکروٹمنٹ)رولز 2020پر بات کرتے ہوئے کنسل نے کہا کہ ان نئے قوانین میں وہ رکاوٹیں دور کی گئی ہیں جو پہلے تھیں اوران میں واضح طور پر اسامیوں کو منتقل کرنے،اسامیوں کو ضم کرنے،ویٹنگ لسٹ کی تیاری ، سلیکشن لسٹ وغیرہ کے بارے میں بتایاگیاہے ۔
انہوں نے بتایاکہ نئے قوانین کے تحت مشتہر کی گئی اسامیاں کی بھرتی کا عمل ایک سال کے دورانیہ میں مکمل ہوگا اوراسے چھ ماہ سے توسیع دی جاسکتی ہے۔سلیکشن کے طریقہ کار پر بولتے ہوئے انہوں نے کہاکہ تحریری امتحان 100نمبرات پر مشتمل ہوگا اور امیدواروں کا انٹرویو نہیں ہوگا۔انہوں نے مزید بتایاکہ درخواست جمع کرواتے وقت ڈومیسائل سمیت کسی بھی طرح کے دستاویز کی ضرورت نہیںہوگی ۔ان نئے قوانین میں دی گئی رعایت کے بارے میں انہوں نے بتایاکہ دبے کچلے طبقوں جیسے بیوائوں، طلاق یافتہ ،الگ رہنے والی خواتین اور یتیم لڑکیوں کی مشکلات کودیکھتے ہوئے ان امیدواروں کو امتحان میں 5اضافی نمبرات کا فائدہ دیاجائے گاجبکہ اسی طرح سے ان امیدواروں کو بھی 5نمبرات کا اضافی فائدہ ملے گاجن کے کنبہ سے کوئی سرکاری ملازم نہیں۔ کنسل نے بتایاکہ ڈیلی ویجر وں اور ان کے زمرے میں آنیوالے دیگر ان ورکروں کوبھی اضافی 5نمبرات کافائدہ اورمدت ملازمت میں5سال کی رعایت دی جائے گی جنہوں نے کم سے کم پانچ سال تک خدمات دی ہیں ۔
 

سماجی مربوط سکیم کے دائرے میں خواجہ  سرائوں کو لانے کا فیصلہ

نیوز ڈیسک
 
سرینگر//حکومت نے جموں کشمیر میں سماجی مربط اسکیم ’’آئی ایس ایس ایس ‘‘کو وسعت دیکر خواجہ سرائوں کو بھی اس کے دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر جی سی مرمو کی سربراہی میں انتظامی کونسل کی میٹنگ میں خواجہ سرائوں کو اس اسکیم کے تحت مستحقین کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ اس سے قبل خواجہ سرا اس اسکیم کے دائرے کے تحت نہیں آتے تھے،اور انہیں کسی طرح کی مالی معاونت نہیں دی جاتی تھی،تاہم انتظامی کونسل کے فیصلے کے بعد وہ آئی ایس ایس ایس کے تحت استفادہ حاصل کرسکیں گے۔آئی ایس ایس ایس ایک سماجی سلامتی اسکیم ہے،جس کے تحت بیوائوں،بزرگ شہریوں، یتیموں،طلاق شدہ خواتین اور مفلسوں  کے علاوہ جسمانی طور پر ناخیز افراد،جن کی آمدنی یا  توکچھ نہیں یا قلیل ہے ،کو ماہانہ ایک ہزار روپے کی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ خواجہ سرائوں کو اس اسکیم کے دائرے میں لانے کے بعد التواء میں پڑے قریب2ہزار کیسوں کا معاملہ بھی حل ہوگا۔ محکمہ خواجہ سرائوں کیلئے اس اسکیم کے تحت سر نو درخواستوں کے فارم بھی مرتب کریگا،تاہم انکی نشاندہی اور جانچ کے طریقہ کار میں کوئی بھی تبدیلی عمل میں نہیں لائی جائے گی۔
 

تازہ ترین