اجازت نامہ لیکر بھی جموں کی طرف سفر کرنا ناممکن، بانہال قرنطین میں رہنا پڑیگا

ڈاکٹر ہو یا پولیس اہلکار، تاجر ہو یا سرکاری ملازم ٹنل سے آگے جانے کی اجازت نہیں

تاریخ    28 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


محمد تسکین
بانہال// کووڈ19 کے وبائی سلسلے کو پھیلنے سے روکنے کیلئے لاک ڈاؤن کا نفاذ سختی سے جاری ہے اور وادی کشمیر سے جموں صوبہ میں داخل ہونے کیلئے اجازت والی درجنوں گاڑیوں کو بھی روزانہ جواہر ٹنل سے واپس اپنے لوٹنا پڑ رہا ہے۔ جموں سرینگر شاہراہ پر واقع دو صوبوں کو جوڑنے والے جواہر ٹنل پر ایک مجسٹریٹ کی قیادت میں پولیس اور محکمہ صحت کے اہلکار دن رات موجود رہتے ہیں اور صوبہ جموں میں ضروری سپلائزکے ٹریفک اور انتہائی ایمرجنسی نوعیت والی یا ایمبولینس گاڑیوں کے سوا دیگر کسی بھی قسم کی گاڑی پر سختی سے پابندی عائد ہے۔ چاہے ان کے پاس ڈویژنل کمشنر کشمیر یا جموں کا پاس بھی کیوں نہ ہو۔ ایسے میں صوبائی انتظامیہ سے پاس حاصل کرکے وادی کشمیر سے جموں کی طرف آنے والے کئی درماندہ مسافروں نے پوچھا ہے کہ اگر جواہر ٹنل سے آگے بڑھنے پر پابندی ہے تو لوگوں کو پھر کیوں پاس اجراکئے جارہے ہیں؟ ۔جواہر ٹنل پر تعینات انچارج چوکی افسر وسیم معراج نے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈویژنل کمشنر کے اجازت نامے کے باوجود بھی گاڑیوں کو رام بن ضلع اور جموں کی طرف داخلے کی اجازت نہیں ہے اور گاڑیوں کو جواہر ٹنل بانہال سے واپس وادی کی طرف لوٹنا پڑرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جواہر ٹنل پر تعینات پولیس اور سیول انتظامیہ کی طرف سے تعینات مجسٹریٹ اور ٹیمیں سرکار ی طور طے کئے گئے پروٹوکول کے مطابق اپنا فرض چوبیسویں گھنٹے انجام دے رہے ہیں اور انتہائی میڈیکل ایمرجنسی کے سوا کسی بھی مسافر بردار گاڑی کو جواہر ٹنل کی طرف آنا ہی نہیں چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص بھی ضلع رام بن ، صوبہ جموں میں داخل ہونا چاہتا ہے ،اسے پہلے بانہال کے قرنطینہ مرکز میں رہنا ہوگا اور منفی ٹیسٹ آنے کی صورت میں ہی انہیں اپنی منزل کی طرف جانے کی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف اپنے اعلیٰ حکام کی طرف سے جاری احکامات اور عالمی وبائی بیماری کووڈ19 کیلئے طے پروٹوکول اور طریقہ کارپر چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ ایک ہزار سے زائد مال بردار گاڑیاں کشمیر کی طرف جاتی ہیںاور واپس آتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایمبولینس سروسز کو چلنے کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجازت ناموں پر میڈیکل ایمرجنسی والی گاڑیوں کو ہی وادی سے صوبہ جموں میں داخلے کی اجازت ہے اور باقی کسی بھی مسافر گاڑی کو اجازت نہیں۔ جواہر ٹنل پر صوبہ جموں میں داخلے پر پابندی کی وجہ سے ڈویژنل کمشنر کے اجازت نامے ہونے کے باوجود لوگ واپس جانے پر مجبور کئے جارہے ہیں۔ اوڑی سے جموں جانے والے ایک سرکاری ملازم کو منگل کی صبح جواہر ٹنل پر روکا گیا اور منگل شام چار بجے اسے پولیس کی طرف سے واپس جانے کا اصرار کیا جارہا تھا۔ وادی کشمیر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے جموں و کشمیر پولیس کے تقریباً پندرہ اہلکار جواہر ٹنل پر منگل کی دوپہر سے منگل کی رات دس بجے تک درماندہ تھے اور انہیں ضلع رام بن ، ڈوڈہ اور جموں وغیرہ میں اپنی اپنی ڈیوٹیوں پر پہنچنے سے روک دیا گیاتھا۔ انہیں بتایا گیا ہے کہ یا وہ واپس کشمیر میں اپنے گھروں کو چلے جائیں یا بانہال میں قرنطینہ میں کئے جانے والے ٹیسٹوں کی رپورٹ تک قرنطینہ مراکز میں قیام کریں۔ پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی پر تعینات اپنے ساتھیوں سے کہہ رہے تھے کہ وہ اپنی جائے ڈیوٹی پر ہی قرنطینہ مراکز میں رہیںگے لیکن پھر بھی انہیں اجازت نہیں دی گئی۔ جواہر ٹنل پر پہنچے ایک اور شخص نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ کشمیر سے جموں اپنا گھر جانے کیلئے آئے تھے لیکن ڈویژنل کمشنر کے پاس کے باوجود انہیں بھی واپس بھیجا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھراجازت دینا ہی نہیں چاہئے تھا ۔انکے ساتھ ساتھ مزید ایک درجن چھوٹی مسافر بردار گاڑیوں کو بھی واپس وادی  کی طرف موڑ دیا گیا۔یہ سلسلہ رام بن ضلع کو ریڈ زون قرار دیئے جانے کے بعد سختی سے جاری ہے۔ جموں سرینگر شاہراہ پر واقع رامسو ہسپتال میں تعینات ایک ڈاکٹر کو بھی ڈیوٹی پاس کے باوجود واپس اپنے گھر لوٹا دیا گیا۔ اس ڈاکٹر نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رامسو ہسپتال میں ان کا پہنچنا بہت ضروری تھا کیونکہ وہاں آس پاس کے علاقوں میں بیرون ریاستوں سے لوٹے کئی مزدوروں کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں لیکن منگل کی صبح سے کوشش کرتے کرتے تھک جانے کے بعد مجھے منگل کی شام پانچ بجے واپس گھر جانا پڑ ا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بہتر ہے کہ اجازت نامے جاری ہی نہ کئے جائیں تاکہ ٹنل پر پہنچنے کے بعد واپسی کی نوبت ہی نہ آئے۔ جب یہ تمام معاملہ ایس ایس پی رام بن حسیب الرحمن کی نوٹس میں لایا گیا تو انہوں نے کہا کہ پولیس سرکاری احکامات کی پاسداری کررہی ہے تاکہ لوگوں کو محفوظ رکھا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ جواہر ٹنل پر صوبہ جموں میں داخلے کیلئے رام بن  پولیس کووڈ19 کے پروٹوکول اور سٹنڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کو ہی فالو کررہی ہے اور ایمرجنسی نوعیت کے کیس کے بغیر کوئی بھی مسافر گاڑی جواہر ٹنل کی طرف آنے سے احتراز کرے تاکہ انہیں ٹنل سے واپس نہ جانا پڑے۔ انہوں نے لوگوں سے تعاون کی اپیل کی ۔
 

تازہ ترین