امریکی بحریہ کا دورانِ پرواز تیزرفتار یو اے وی تباہ کرنے کا تجربہ

تاریخ    28 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


یو این آئی
پینٹاگون/ امریکا نے تیزی سے اڑتے ہوئے یو اے وی (بغیرپائلٹ کے طیارے) کو لیزر کے ذریعے تباہ کرنے کا کامیاب مظاہرہ کیا ہے۔امریکی بحریہ کے جہاز کے ذریعے یہ تجربہ بحرِ اوقیانوس میں کیا گیا ہے جس میں ایک ایمفی بیئس ٹرانسپورٹ جہاز پر سالڈ اسٹیٹ لیزر لگائی گئی تھی۔ اسے ہتھیار کو لیزر ویپن سسٹم ڈیمانسٹریٹر (ایل ڈبلیو ایس ڈی) کا نام دیا گیا ہے جس میں بلند توانائی والی لیزر استعمال کی گئی ہے اور کسی عام کواڈکاپٹر کی بجائے انتہائی تیزی اور بلندی پر اڑنے والے ڈرون کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ تجربہ مشہور پرل ہاربر پر کیا گیا ہے۔امریکی بحریہ کے ایک کپتان کیری سینڈرز اور جہاز کے کمانڈر کیری سینڈرز نے کہا کہ سالڈ اسٹیٹ لیزر ویپن سسٹم ڈیمانسٹریر کے تجربات سے ہمیں یو اے وی اور چھوٹے طیاروں جیسے خطرات سے نمٹنے میں اہم معلومات اور تجربہ حاصل ہوگا۔کیری نے یہ بھی کہا کہ سالڈ اسٹیٹ لیزر ہتھیار ایک منفرد صلاحیت ہے جس سے مستقبل کے ہتھیاروں کو آگے بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔ عین ممکن ہے کہ اس سے بحری جنگ کے معنی بالکل بدل جائیں گے۔ تاہم امریکی بحریہ نے کہا ہیکہ اس تجربے کی وجہ یہ ہے کہ امریکی بحریہ کو چھوٹے طیاروں ، مسلح کشتیوں اور یو اے ویز کے مسلسل خطرات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے یہ نظام بنایا گیا ہے۔ اس تجربے میں 30 کلوواٹ قوت کی لیزر استعمال کی گئی تھی۔بحریہ کے مطابق لیزر کو بہتر بنا کر طویل فاصلوں تک مارکرنے والے میزائلوں سے تحفظ میں بھی مدد مل سکے گی اور انہوں نے بطورِ خاص چین کا بھی ذکر کیا۔ دوسری جانب امریکی فوج بھی اپنے لیزر ہتھیار پر کام کررہی ہے جس میں 300 کلوواٹ قوت کی لیزر استعمال کی جائے گی۔
 

تازہ ترین