تازہ ترین

اگرہم اب بھی متحدنہ ہوئے!

بین السطور

تاریخ    28 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


حنیف ترین
موت ہے یا جمود آنکھیں کھول
زندگی جہد ہے، حرارت ہے
ہندوستانی مسلمان آج جس قدرخوف زدہ اورایک عجیب ہیجانی کیفیت سے دوچارہے ،اس کی وجہ کیا ہے؟۔ درحقیقت مسلمانوں کی اس قدر بدترین حالت اپنے دین سے دوری اور دنیا کے حصول میں مگن ہونے کی وجہ سے ہے۔1857کی انگریزوں سے شکست کے بعد مسلمانوں میں متحدہ لیڈرشپ پیدا ہی نہ ہوسکی، جو لیڈرشپ ہوئی بھی اس نے مسلمانوں کو دوحصوں میں بانٹ دیا۔جو حصہ ہندوستان میں رہا، اس کی لیڈرشپ کانگریس کے ماتحت چلی گئی اور اس کی کمزور پکڑ کی وجہ سے ہماری تہذیب کی نشانی ’اردوزبان‘ تک چھین لی گئی اور ہماری لیڈرشپ یہ دیکھتی رہی ۔ حد تو تب ہوگئی جب اس وقت کے وزیرداخلہ سردارپٹیل نے مسلمانوںکودس فیصد رزرویشن دینے کی بات کی توہمارے ان قائدوں نے کانگریس پارٹی کی واہ واہی لوٹنے کے لیے اسے بھی لینے سے انکار کردیا۔
 اصل میں آزادی کے بعد مسلمانوں میںکوئی مضبوط سیاسی اور مذہبی قیادت ابھرہی نہیں سکی جو مسلمانوں کے مفادات کاخیال کرتی اوران کی فکری سطح کو بلندکرکے قوم کے اندر ایسے ادارے قائم کرتی جودینی اوردنیاوی معاملات میں ان کی تربیت کرتی۔سیاسی سطح پر مسلمانوں کاجواعلیٰ ومتوسط سامنے بھی آیا، اس کو قوم سے دلچسپی صرف اورصرف ان کے ووٹ حاصل کرنے تک محدود رہی۔اس نے72 برسوں کی تاریخ میںمسلمانوں کے لیے کوئی ایسا کارہائے نمایاں انجام نہیں دیا،جسے مثال بنایاجاسکے۔بلکہ ان لیڈروں نے قوم کے مفادات کو نظرانداز کرکے صرف اور صرف اپنی سیاسی پارٹی کے مفادات اورخودکواوپررکھا اوراپنے قدکواونچا کیا۔ آج بھی یہ سیاسی لیڈران جب مسلمانوں کے فائدے کی بات آتی ہے تو ہکلانے لگتے ہیں۔جبکہ مسلم ایم ایل اے،ایم پی کے حالات کا پتہ لگانے کے لیے آپ اگرجائیں تو حیران ہوجائیں گے کہ جب تک وہ سیاست میں کامیاب نہیں ہواتھا، اس وقت وہ صرف ایک کھاتاپیتا شخص تھامگرسیاست میں کامیاب ہونے کے بعد وہ کروڑوں کامالک بن گیاہے، بالکل ویسے ہی جیسے سیاسی پارٹیوں کے دیگرلوگ کرتے ہیں۔ توپھراس سے قوم یا ملک کوفائدہ پہنچنے کی کیاامید کی جائے؟ جب غلط طریقے سے پیسے کمانے کے چلن میںوہ بھی پوری طرح ملوث ہے اور غیرکی ہی طرح وہ بھی سب کچھ کررہاہے تو اس کے مسلمان ہونے سے کیافائدہ؟ حالانکہ ہم مسلمان صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کی عزت کرتے ہیں۔ اس کامال دارہونا غلط نہیں ہے بلکہ ناجائز طریقے سے اس کا آگے بڑھنا اورقوم کی طرف سے منہ موڑلیناغلط ہے۔ 
سچائی یہ ہے کہ ہم بھی دوسری قوموں کی طرح بے حدمادہ پرست ہوگئے ہیں۔ ہرشخص اب صرف اور صرف اپنے فائدے کے لیے اس قدر کوشاںہیں کہ اخلاقیات ہی کیا،انسانیت کوشرمسار کردینے والی حرکتیں کرنے سے بھی گریزاں نہیںہے، جب کہ ہمارادین اخلاق، انسانیت اور حقوق العباد کی ادائیگی کی مسلسل تلقین کرتاہے۔ رسول مقبولؐ نے اپنے آخری خطبے میں کہاتھا کہ ’تم میں سے سب سے اچھاوہ شخص ہے، جس میں اخلاق وانسانیت ہے۔‘ یہ بات درست ہے کہ حقوق العباد کی حیثیت اسلام میں حقوق اللہ کے بعدہے، مگر زیادہ ترلوگ حقوق اللہ کالحاظ کسی قدرکرتے ہیں مگرحقوق العباد سے انھیں کوئی سروکارنہیںہے!
دوسری خرابی یہ ہے کہ ہمارا کوئی مذہبی لیڈرنہیںہے اسی لیے ہم متحد بھی نہیں ہیں۔الگ الگ ٹولیوں اورفرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔آج بھی اگرہمارے اندر کسی بات میں اختلاف ہوجائے توہم مل بیٹھ کراسے حل کرنے کی کوشش نہیںکرتے اورنتیجہ انتشارتک پہنچ جاتاہے، جیسا کہ ہم تین طلاق وغیرہ کے معاملے میںدیکھ چکے ہیں۔ خدا کاشکرہے کہ آج کی حالت کودیکھتے ہوئے مسلم جماعتیںکسی قدر متحدنظرآرہی ہیںمگریہ اتحاد وقتی ہے اور اس میں کوئی استحکام نہیں ہے۔اس سمت میں مزیدکام کرنے کی ضرورت ہے اوراسے دیرپابنانے کے طریق کارپرذمہ داران کومل بیٹھ کر سنجیدگی سے غورکرنے کی ضرورت ہے۔تمام جماعتوں کے ذمہ داران کا فرض ہے کہ وہ ایک دوسرے سے رابطہ قائم کریں اوراس اتحاد کومزیدآگے بڑھائیں اورایک دوسرے پرکفر کے فتوے لگانے سے بچیں،مسجدیں سب کے لیے کھول دیں اور قبرستانوں کے بٹوارے بندکریں،ایک دوسرے کی شکایت کرنااورخودمیںکڑھنا چھوڑدیں اور آئندہ کی حکمت عملی مل کرطے کریںتاکہ ہمارادشمن ہم پروار کرنے سے پہلے دس بار سوچے۔ ہمارا شاطردشمن جملے بازیوں سے دل کی بھڑاس نکالتاہے، ہمیں گندی گندی اورنفرت میں ڈوبی باتیںسناکر اور ٹویٹ کرکے، میڈیا کے ذریعے ہمیں مستقل اکسارہاہے تاکہ ہم بھڑک جائیں اورکوئی الٹی سیدھی حرکت کربیٹھیں اور اسے فرقہ وارانہ فسادبھڑکانے کاموقع مل جائے اور مسلمانوں کو ناقابل تلافی خسارہ اٹھاناپڑے۔
 اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتاہے کہ ’جب تم پرکوئی افتاد آن پڑے توتم عبادت اورصبر سے کام لو۔‘ ہندوستانی مسلمان نے جس صبر کامظاہرہ پچھلے 6سال میں کیاہے، وہ بے مثال ہے حالانکہ ماب لنچنگ آج بھی ہورہی ہے اورمیڈیاپرآج بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائی جارہی ہے، مگراس کا کیاکیاجائے کہ سب سے زہریلے ایک ٹی وی چینل کے 66لوگوں کوکورونا ہوگیاہے ،جس میں نفرت کا سب سے بڑاسوداگر،اس چینل کا ایک نامی گرامی اینکر بھی شامل ہے ۔ اب کہاں ہیںمیڈیا کے وہ چینل جنہوں نے مسلمانوں پر کورونا پھیلانے کا الزام لگایا اور مہینوں تک اس کی ڈفلی بجاتے تھے۔ فرقہ پرست ذہنیت کے لوگ مسلمانوں کوذلیل کرنے، ان کی شبیہ خراب کرنے کے لیے ہرقسم کے ہتھکنڈے اپنارہے تھے اور اس کے لیے باقاعدہ فیک نیوز(جھوٹی خبر)، ایڈیٹ نیوز(ادل بدلد کرکے)فرضی جھوٹ ایسے پیش کررہے تھے جیسے وہ بالکل سچی خبریں وائرل کررہے ہوں۔ 
آنے والاوقت مسلمانوں کے لیے کتنا خطرناک ہے ۔ اگرمسلمان اب بھی متحدنہ ہوئے توان کے آگے تباہی منہ پھیلائے کھڑی ہے۔ اللہ ہمیں عقل سلیم عطافرمائے، آمین!
سوچ پر پہرے لگے ہیں پاؤں میں زنجیر ہے
کای ہمارے خواب آزادی کی یہ تصویر ہے
رابطہ  :   9971730422

تازہ ترین