تازہ ترین

آن لائن فراڈ

ہائی ٹیک نوسر بازوں سے ہوشیار باش!

تاریخ    28 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


اعجازمیر
ہیلو …میں New Lifeانشورنس کمپنی سے سُنیتا بول رہی ہوں۔ کیا میں علی محمد جی سے بات کرسکتی ہوں؟
جی ہاں ! میں علی محمد ہی بول رہا ہوں… بولئے کیا حکم ہے…؟
آپ کا ہماری کمپنی کیساتھ انشورنس چل رہا تھا لیکن آپ نے گذشتہ ماہ Matureہونے سے پہلے ہی Policyبیچ میں ہی Withdrawکی ہے۔
جی ہاں …
آپ کو تو بہت نقصان ہوا ہے…!
جی ہاں… اگر میں 10سال کی مکمل مدت تک پالیسی جاری رکھتا تو مجھے 15لاکھ روپے ملتے لیکن بیچ میں ہی Withdrawکرنے سے مجھے 8لاکھ روپے پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ مجھے مجبوراً پالیسی کو دو سال قبل ہی Withdrawکرنا پڑا کیونکہ مجھے پیسوں کی بہت زیادہ ضرورت آن پڑی تھی۔
آپ کو جو نقصان اُٹھانا پڑا ہے، کمپنی کو اس کا پورا احساس ہے اور ہم آپ کیساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ میں کمپنی کی طرف سے آپ کو اس لئے فون کررہی ہوں کہ اگر آپ مزید2ماہ کا انتظار کرتے تو آپ کو پالیسی Withdrawکرنے پر10لاکھ روپے ملتے۔
اچھا…! مجھے تو اس بات کی کوئی علمیت ہی نہیں تھی اور نہ ہی مجھے پالیسی Withdrawکرنے کے وقت کسی نے اس بارے میں بتایا۔ 
شائد آپ کی عجلت کو دیکھ کر ہمارے Executiveنے آپ کو مزید انتظار کرنے کی صلاح دینے سے گریز کیا ہوگا۔لیکن کوئی بات نہیں، آپ کے پاس ابھی تک یہ آپشن موجودہیں۔
اچھا…! مجھے اس کیلئے کیا کرنا ہوگا۔
یہ بہت ہی آسان ہے… آپ کو 2ماہ کا پریمیم ادا کرنا ہوگا اور آپ کی پالیسی 10لاکھ روپے حاصل کرنے کی مدت مکمل کریگی ۔آپ نے 8لاکھ روپے پہلے ہی وصول کئے ہیں ۔آپ کو مزید2لاکھ روپے ملیں گے۔
شکریہ…بہت بہت شکریہ …! میں کل ہی بینک جاکر 2ماہ کا پریمیم جمع کرکے آتا ہوں۔ 
سر… اب آپ کا کیس براہ راست ہیڈکوارٹر کیساتھ منسلک ہوا ہے اس لئے آپ کو پیسے بینک میں نہیں بلکہ ہیڈکوارٹر کے اکائونٹ میں براہ راست جمع کونے ہونگے۔
جی ٹھیک ہے…!
ہم آپ کو ایک SMSکے ذریعے اکائونٹ نمبر بھیج دیں گے ، جونہی آپ پیسے جمع کریں گے، اُس کے بعد24گھنٹے تک آپ کے اکائونٹ میں 2لاکھ کی رقم جمع ہوجائے گی۔
کیا آپ یقین کرسکتے ہیں کہ یہ ایک فراڑ کال تھا!
اس شہری نے اگلے دن 2ماہ کی قسطیں(30ہزار روپے) SMSکے ذریعے موصول شدہ اکائونٹ میں جمع کیں اور 2لاکھ روپے اکائونٹ میں آنے کے انتظار کرتا رہا۔ ایک دن گزرا، دو دن گزرے، تین دن گزرے اور ہفتہ گزر گیا لیکن اس کے اکائونٹ میں پیسے نہیں آئے۔اس کے بعد اس شخص نے مذکورہ انشورنس کمپنی کے اُس Executiveکیساتھ رابطہ کیا جس سے اس نے پالیسی کرائی تھی اور اُسے سارا ماجرا بتایا۔ ایگزیکٹو نے شہری کو بتایا کہ ’’ہمارے کمپنی میں ایسی کوئی بھی راحت نہیں ۔ جس مدت تک آپ پالیسی جاری رکھیں گے اُسی وقت تک کے پیسے آپ کو ملے گے۔ آپ کو شائد دھوکہ لگا ہے۔‘‘ 
بعد میں شہری کو پتہ چلا کہ یہ فراڑ کال تھی اور اُسے ٹھگ کر30ہزار کا چونا لگایا گیا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ فراڑ کرنے والوں کو کیسے معلوم پڑا کہ مذکورہ شہری کی پالیسی تھی اور اُس نے قبل از وقت ہی اسے Withdrawکیا تھا۔ 
اسی کو Online Fraudکہتے ہیں…!
آن لائن فراڑ کا مطلب صرف نیٹ بینکنگ کا Passwardہیک کرکے پیسہ نکالنا یا آن لائن شاپنگ میں خریدا ہوا مال ڈپلی کیٹ نکلنے کا نہیں بلکہ آپ کی معلومات جان کر آپ کو مختلف طریقوں سے ٹھگنے کا ہے۔
فراڑ کرنے کیلئے جو معلومات درکار ہوتی ہیں ،زیادہ تر معاملات میں یہ معلومات یا تو آپ کے ای میل میں یا پھر آپ کے موبائل میںہوتی ہیں اور ان تک رسائی حاصل کرنے کیلئے فراڑ کرنے والے لوگ مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں۔ آپ کو کئی بار ایسے ای میل یا مسیج موصول ہوئے ہونگے جن پر لکھا ہوتا ہے کہ Click on this link & get free rechargeیاClick on this link & get 2months Free Netflixوغیرہ وغیرہ۔ اور ہم بنا سوچے سمجھے ان لنکوں پر کلک کرتے ہیں۔ ہمارے کلک کرنے کے بعد نہ صرف یہ مسیج ہمارے تمام Contactsکو جاتا ہے بلکہ کئی معاملات میں یہ کلک کرنے سے ہمارا ای میل فراڑ کرنے والوں کے سامنے کھلی کتاب کی مانند ہوجاتا ہے اور اُن کو ہماری تمام معلومات تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ اگر آپ نے ماضی میں ایسی Linksپر کلک کیا ہے اور آپ کسی فراڑ کے شکار نہیں ہوئے ہیں تو آپ ضرور بہت زیادہ خوش قسمت ہیں۔ 
اس کے علاوہ ہم بہت ساری غیر تسلیم شدہ Appsاپنے موبائل میں ڈائون لوڈ کرکے فراڑ کرنے والوں کو اپنی معلومات بہ آسانی فراہم کرتے ہیں۔آپ نے دیکھا ہوگا جب ہم اپنے موبائل پر کوئی نئی Appانسٹال کرتے ہیں تو ہمیں Access to Contacts, Access to Messages, Access to Photo, Access to Make call and Send Messagesجیسے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور ہم بلا جھجک Allowپر کلک کرکے کسی کو بھی اپنے موبائل کے اندر تک تمام رسائی فراہم کرتے ہیں۔ اگرچہ اپنے موبائل پر Appsانسٹال کرنا ایک مجبوری ہے لیکن ہمیں صرف اور صرف معتبر اور تسلیم شدہ Appsکو ہی اپنے موبائل میں Installکرنا چاہئے ۔ اس کے علاوہ آپ Settingمیں جاکر Appsکی رسائی محدود کرسکتے ہیں۔ آپ کو شائد اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہوگا کہ ایک Appکو اپنے موبائل کی رسائی دینے سے آپ کے موبائل کے microphoneسے آپ کی تمام بات چیت ریکارڈ کی جاسکتی ہیں۔ 2019کی ایک تحقیق کے مطابق ایسی 1000سے زائد Appsہیںجو Accessنہ ملنے کے باوجود بھی آپ کا Dataحاصل کرسکتی ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم معتبر، منظورشدہ اور آزمودہ Appsہی Installکریں۔ 
غرض یہ کہ جوں جوں ہمارے روز مرہ کے معاملات کمپیوٹر، موبائل اور انٹرنیٹ کے ساتھ جُڑ رہے ہیں، آن لان فراڑ کرنے والوں کو لوگوں کو ٹھگنے کے زیادہ مواقعے فراہم ہورہے ہیں اور فراڑ کرنے والے بھی لوگوں کو دھوکہ دینے کے نت نئے طریقے اختیار کرتے ہیں ۔
پہلے لوگوں کو ای میل یا SMSکے ذریعے بھیجی گئی میسجز سے کچھ اس طرح سے ٹھگا جاتا تھا؛’’آپ نے ایک کروڑ کی انعامی رقم جیت لی ہے ، آپ کو ٹیکس کا ایک فیصد اس اکائونٹ نمبر میں جمع کرنا ہے جس کے بعد آپ اکائونٹ میں انعامی رقم جمع کی جائیگی۔‘‘
دوسری مثال:
’’میں ایک وکیل ہوں، میرا ایک بہت ہی مال دار کلائنٹ تھا جو فوت ہوگیا، چونکہ اُس کو کوئی بھی وارث نہیں تھا اُس نے اپنی وصیت میں لکھا ہے کہ اگر میرا کوئی دور دراز کا رشتہ دار بھی مل جائے تو اُسے میری جائیداد کا مالک بنایا جائے، آپ کی ذات اور میرے کلائنٹ کی ذات ایک جیسی لگتی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ آپ اس کروڑوں کی جائیداد کیلئے اپنا دعویٰ پیش کرسکتے ہیں ۔اگر آپ کو واقعی دلچسپی ہے تو آپ کو عدالت میں دعویٰ پیش کرنے کیلئے کاغذی کارروائی کا خرچہ اور اور میری فیس ادا کرنی ہوگی۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں کیس آگے لے جائوں تو آپ مجھے اپنے فلان فلاں کاغذات میل کیجئے اور 50ہزار کی رقم اس اکائونٹ نمبر میں ڈال دیجئے‘‘۔
اور بہت سارے لوگ ان سازشوں میں آسانی سے پھنس جاتے تھے۔ لیکن اب لوگوں کو ٹھگنے کے بہت ہی زیادہ طریقے اختیار کئے جارہے ہیںاور لوگوں کو اعلیٰ ٹیکنالوجی کے ذریعے لوٹا جارہا ہے۔بعض اوقات اصل اور نقل میں فرق کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کی ایک مثال یوں ہے؛
آن لائن فراڑ کرنے والے کسی سرکاری محکمے یا وزارت کی ویب سائٹ قائم کرتے ہیں اور اس پر مختلف کاموں کیلئے ٹینڈر طلب کرتے ہیںپھر اس کا Linkٹھیکیداروں کو ای میل کے ذریعے بھیجتے ہیں۔ کام میں دلچسپی رکھنے والے ٹھیکیدار ٹینڈر کے تمام لوازمات آن لائن ہی پورا کرتے ہیں اور ٹھیکہ کی تصدیق کے لئے رقم (Earnest Money)بھی ادا کرتا ہے اور اس طرح سے آن لائن فراڑ کا شکار ہوجاتا ہے۔
نیز ہم کسی بھی وقت آن لائن فراڑ کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم صحیح معلومات حاصل کریں۔ انٹرنیٹ پر آن لائن فراڑ کے واقعات کا مطالعہ کریں اور ان سے بچنے کے سدباب بھی جانیںاور ساتھ ہی انٹرنیٹ استعمال کرتے وقت وہ تمام احتیاطی تدابیر بھی اپنائے جن سے ہماری معلومات اور نجی Dataمحفوظ رہ سکیں۔ اگرچہ حکومتی سطح پر Cyber Crimeمحکموں کے ذریعے آن لائن فراڑ کے چند فیصد معاملے سلجھائے بھی جاتے ہیں تاہم اس وباء کا تدارک قانون سازی سے زیادہ جانکاری سے کیا جاسکتا ہے اور اس کیلئے حکومتی سطح پر آن لائن فراڑ کے طریقوں اور ان سے بچنے کیلئے ایک کارگر اور وسیع جانکاری مہم کی اشد ضرورت ہے۔
(مضمون نگار کشمیر عظمیٰ کے سینئر ادارتی رکن ہیں اور زیر ِ نظر مضمون میں زیر بحث لائے گئے واقعات اصلی ہیں تاہم انشورنس کمپنی، کال سینٹر ایگزیکٹو اور گاہک کا نام تبدیل کیا گیا ہے)
 

تازہ ترین