تازہ ترین

الطاف بخاری کا بھرتی عمل میں تیزی لانے کا خیرمقدم

فی الحال پشتنی باشندہ ہونے کی سند کو اقامتی ثبوت کے طور تسلیم کیا جائے

تاریخ    24 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


سرینگر//جموں کشمیر’اپنی پارٹی‘کے صدرسیدمحمدالطاف بخاری نے بھرتی عمل میں تیزی لانے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت آئندہ ایام میں جموں کشمیر کے پشتنی باشندوں کیلئے دس ہزار اسامیوں کو مشتہر کیا جائے گا۔تاہم بخاری نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کو نوکریوں کے خواہشمندوں سے اقامتی سند پیش کرنے پرزورنہیں دینا چاہیے بلکہ ریاستی کا پشتنی باشندہ ہونے کی سند کو ہی رہائش کا اصل ثبوت تسلیم کرناچاہئے کیونکہ محکمہ مال کے حاکم اس وقت کووِڈ- 19کی وباء کامقابلہ کرنے کیلئے صف اول پر کام کررہے ہیں ۔ ایک بیان میں بخاری نے کہا کہ جموں کشمیر میں لاکھوں جوان سرکاری نوکریوں کے حصول کیلئے موقعہ کی تلاش میں ہیں لیکن حکومت کی طرف سے اقامتی درجہ کاتقاضا کئے جانے نے نوکریوں کے خواہشمندوں کو مایوس کیا ہے۔ اپنی پارٹی کے صدر نے کہا کہ میں لیفٹینٹ گورنرکاخیرمقدم کرتا ہوں اور اُنہیں اورپوری تیزتربھرتی کمیٹی کومبارکباد دیتا ہوںکہ وہ دس ہزار اسامیوں کوریکارڈ مدت میں پُر کریں گے۔تاہم انہوں نے کہا کہ  کووِڈ- 19کی وجہ سے پید اشدہ صورتحال کی وجہ سے بھرتی کے ضوابط میں نرمی کرنے کی ضرورت ہے۔  انہوں نے کہا کہ پورامحکمہ مال جن میں پتواری سے لیکر تحصیلدار تک سبھی شامل ہیں ،چوبیسوں گھنٹے کروناوائرس کاکھوج لگانے اور مسافروں کو انتظامی قرنطین میں رکھنے میں مصروف ہیں ۔یہ افسراوراہلکار نوکریوں کے خواہشمندنوجوانوں کو کیسے اقامتی اسناد جاری کرسکتے ہیں۔انہوں نے مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرکے احکامات صادر کریں.۔  بخاری نے کہا کہ جموں کشمیر کے تمام شہریوں کے پاس جو ریاست کا پشتنی باشندہ ہونے کی سند ہے اور مائیگرنٹ نوجوانوں کے پاس مائیگرنٹ کارڈہیں ،انہیں ہی فی الحال نوکریوں کیلئے رہائشی ثبوت کے طور تسلیم کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ تمام بھرتی اداروں جن میں پبلک سروس کمیشن ،بوپی،ایس ا یس بی شامل ہیں ،کوریاست کاپشتنی باشندہ ہونے کی سند اور مائیگرنٹ کارڈ کو رہائشی ثبوت کے طور تسلیم کیا جانا چاہیے۔