عید غرباء کے ساتھ! ، غم کا پہرہ ہے لگاپیہم جنہیں

24 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

رئیس احمد شاہ
زندگی خوشی اور غم کا حسین امتزاج ہے۔ بعض لوگوں کی زندگی میں خوشیوں کا تناسب زیادہ ہوتا ہے جب کہ کچھ لوگ اپنی زندگی کا زیادہ حصہ رنج وغم ہی اٹھائے پھرتے ہیں۔ یہ بندے کے لئے قدرت کی طرف سے امتحان یا مسرت و حسرت کی حکیمانہ تقسیم ہے جسے کوئی انسان چیلنج نہیں کرسکتا۔البتہ بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جب کوئی مخصوص خوشی اجتماعی، قومی یا ملّی سطح پر منائی جائے جیسے عید الفطر اور عید الاضحی، تو اس میں سب کی شمولیت سب کا ساتھ اہم چیز ہے۔ اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو خوشی منانے کے لئے سال میں دو دن عطا فرمائے: عید الفطر وعید الاضحیٰ جن کو منانے کے لئے اپنے اصول و ضوابط اسی کے مقرر کردہ ہیہیں۔ آج خیر سے عید الفطر کی خوشیاں ہمارے در پر دستک دے رہی ہے اور ستاون مسلم ممالک میں پھیلی ملت اسلامیہ اور دنیا بھر کے غیر مسلم ممالک میں بسنے والے مسلمان اسے جوش وخروش سے خوشی مناتے ہیں۔اسلام جہاں اس عید کو خوشی کا دن مانتا ہے ،وہیں اسلام اس خوشی کے ا ظہار کا طریقہ بھی وضع کرتاہے۔ اس دن مسلمانوں کا نہانا دھونا، پاکیزگی اختیار کرنا، دْھلے ہوئے کپڑے یا حسبِ توفیق نیا لباس زیب تن کر نا ، نئے یا مرمت شدہ جوتے پہننا، خوشبو لگانا، نماز عید ادا کرنا، آپس میں تحفے تحائف دینا، گلے ملنا ملانا، فطرانہ ادا کرنا اور دعوت ِطعام کرنا ، تکبیرات کہنا ، میٹھی چیز مثلاً کھجور سے شروعات کرنا وغیرہم لازم وملزوم ہے۔ اگرچہ آج اس سلسلے میں نمود و نمائش، اسراف اور دیگر شیطانی کاموں کا بھی عمل دخل بڑھ چکا ہے لیکن زیادہ تر لوگ سنجیدگی ومتانت کا پیکر بنے ہوئے عیدالفطر کا استقبال کر تے ہیں۔ مالی طور پر آسودہ طبقات کے لیے عید واقعی بڑی خوشی کا موقع ہوتی ہے لیکن  غربت کی چکی میں پسے ہوئے مصیبت زدوں اور بنیادی ضرورتوں سے محروم مسلمانوں کیلئے عید بھی کسی آزمائش سے کم نہیں ہوتی۔ صاف ہے انہیں عید کی خوشیاں منانے کیلئے مطلوبہ وسائل مشکل سے ہی میسر  ہوتے ہیں ،جب کہ اُن کے معصوم بچے یہ تلخ حقیقت قبولتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کے گھرانے فلس وقلاش ہیں۔ اصل میں یہ ایک امتحان ہے معاشرے کے مالدار و صاحب ِثروت طبقہ کے لئے کہ وہ ایسے بندگانِ خدا کادرد دل میں محسوس کر تے ہیں یا اپنی ہی دنیا مست و مگن ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم انفرادی یا اجتماعی طور ان سائل و محروم لوگ کا خیال ان مواقع پر رکھتے ہیں ؟ جس گھر انے میں روزانہ دو وقت کی روٹی کے لئے رقم دستیاب نہ ہو،جہاں بیمار بچہ یا باپ علاج ومعالجے اور مہنگے ادویات کے ہاتھوں کچلا جارہاہو ،جو گھرانہ اپنے قیدی باپ ،بیٹے ، بھائی، شوہر یا گھر کے کسی دوسرے فرد کی رہائی کے لئے وکیل کی فیس یا ملاقات کے لئے سفری اخراجات کی استطاعت نہ رکھتا ہو،جس کی جوان بیٹیاں جہیز ی ساز وسامان نہ ہونے کے باعث بوڑھی ہو رہی ہوں اور بہ سبب غربت کوئی ان سے نکاح کر نے پر تیارنہ ہو، جن کے پاس کوئی وسیلہ روزگار نہ ہو، جس غریب کا جوان لڑکا شہید ہوا ہو اور گھر میں کوئی دوسراکمائو فرد نہ ہو ، جن بیوائوں اور یتیم بچوں کا اللہ کے سوا کوئی آسرا نہ ہو، اگر ایسے لوگوں کے لئے معاشرے میں دردمندی اور فکر مندی ہے تو عیدالفطر کی خوشی منانے کا اسے حق پہنچتا ہے۔ لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہے تو ایسے کم نصیب لوگ عید کے مسرت زا موقع پر کیونکر اپنے واسطے نئے لباس، جوتے، خوشبو، چوڑیاں، کھلونے، خرید سکتے ہیں کیسے اپنوں سے میل جول، دعوتیں ضیافتیں، تحفے تحائف کا تبادلہ کرسکتے ہیں؟ کیسے دل کی عمیق گہرائیوں سے خوشی محسوس کرسکتے ہیں؟ پھر یہ آفاقی خوشی ان لوگوں کے گھر آنگن کا رُخ کرسکتی ہے؟
بے شک رمضان المبارک میں اْمت مسلمہ کی طرف سے بے پناہ انفاق، زکوٰۃ،صدقات و خیرات اور ادائیگی فطرانہ کے باوجود ہمارے درمیان ایسے بے شمار مسلمان گھرانے ہیں جو شدید تنگ دستی کے باعث عید کی خوشیوں سے محروم ہیں۔ یہ ایک اجتماعی المیہ ہے۔ یہاں اس مسئلہ کے اسباب اور اس کے حل پر ایک سر سری نظر ڈالتے ہیں:
زکوٰۃ کی ادائیگی میں بخل سے کام لینا
جہاں پر قرآن میں نماز کا حکم آیا ہے وہی پر زکوٰۃکا حکم بھی آیا ہے۔ اگر سارے صاحب ِنصاب مسلمان زکوٰۃشرعی حساب کتاب سے ادا کریں گے تو مسلم دنیا میں کوئی ایک انسان بھی بھکمری یا کسمپرسی کا شکار نہ گا۔ اگر ہمارے یہاں زکوٰۃ کو باضابطہ بیت المال کے ذریعے اجتماعی طور جمع کی جاتی ارو پھر اسے پوری دیا نت وامانت کے ساتھ مستحقِ ا مداد افراد میں خرچ کیا جائے تو اللہ کی کرم فرمائی سے بہت جلد دینے والے بہت ہوں گے اور لینے والے کم لیکن یہاں پر یہ نظام رائج نہیں اور اکثر لوگ زکوٰۃ دیتے ہی نہیں۔ اگر کچھ لوگ زکوٰۃ بقدر نصاب دیتے بھی ہیںتو اجتماعی نظم کا فقدان ہونے کے سبب اس نوع کی ادائیگی سے اصل ہدف پوار نہیں ہوسکتا۔ نیزیہ بھی ایک دردناک حقیقت ہے کہ ہمارے یہاں امراء کی ایک بڑی تعداد زکوٰۃ ادا کرنے سے کتراتی ہے ، زیادہن سے زیادہ حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر تھوڑا بہت صدقات و خیرات تقسیم کرنے پر اکتفا کرتی ہے اور یہ اُن کے ذمہ واجب الادا زکوٰۃ سے بہت کم ہوتے ہیں۔ یاد رکھیں، زکوٰۃ کی ادائیگی فرض ہے اور اس اہم فرض سے روگردانی کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ ہمیںاپنے ذمہ واجب الادا زکوٰۃ مستحقین تک اْن کا حق سمجھ کر اور اپنا فرض جان کر پہنچانا ہوگا۔
 مستحقین کی تلاش
مستحقین کو تلاش کرنا صدقہ و خیرات کرنے کا اہم حصہ ہے۔ لہٰذا پیشہ ور بھکاریوں کو خیراتی یا نصابی رقم دینے کے بجائے اپنے متعلقین ومتوسلین میں موجود سفید پوش مستحقین کی تلاش پوری ذمہ داری سے کریں اور رازداری کے ساتھ اْن کی عزتِ نفس مجروح کئے بغیر ان کی مالی اعانت کریں۔
 فطرانہ کی ادائیگی
فطرانہ کی ادائیگی مقررہ وقت سے پہلے پہلے کردیا کریں اور فی کس کم ازکم فطرانہ کی جو رقم مقرر کی گئی ہے ،حسبِ توفیق اس سے زیادہ صدقہ فطر ادا کرنے کی عادت بنائیں۔
بچوں کی تربیت 
اپنے بچوں کو یہ اہم اخلاقی ضابطہ سکھائیں کہ جو عیدی اُن کے پاس اکٹھی ہوئی ہے، اُس میں غریب اور لٹے پٹے مسلم بچوں بچیوں کا بھی حق ہے۔ لہٰذا انہیں بچپن سے ترغیب دلایں کہ اپنی عیدی میں سے خود کچھ رقم چیریٹی پر لگائیں۔ اس چھوٹے سے عمل کے ذریعے بچے بچیاں اوائل عمری سے ہی لوگوں میںا مداد بانٹنے کے عادی ہوجائیں گے اور غربت وناداری کے عالمی مسئلہ کا حل نکلے گا۔ 
موبائل نمبر:  7006760695
 

تازہ ترین